ٹیگ کے محفوظات: اڑانیں

گفتگو کرتی چٹانیں یاد آتی ہیں مجھے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 591
گنبدوں سی کچھ اٹھانیں یاد آتی ہیں مجھے
گفتگو کرتی چٹانیں یاد آتی ہیں مجھے
میرے گھر میں تو کوئی پتیل کا برتن بھی نہیں
کس لیے سونے کی کانیں یاد آتی ہیں مجھے
ان نئی تعمیر کردہ مسجدوں کو دیکھ کر
کیوں شرابوں کی دکانیں یاد آتی ہیں مجھے
یاد آتی ہے مجھے اک شیرنی سے رسم و راہ
اور دریچوں کی مچانیں یاد آتی ہیں مجھے
جب کبھی جاؤں میانوالی تو عہدِدردکی
کچھ پرانی داستانیں یاد آتی ہیں مجھے
شام جیسے ہی اترتی ہے کنارِ آبِ سندھ
دو پرندوں کی اڑانیں یاد آتی ہیں مجھے
سیکھتی تھی کوئی اردو رات بھر منصور سے
ایک ہوتی دو زبانیں یاد آتی ہیں مجھے
منصور آفاق