ٹیگ کے محفوظات: اچھالے

یادوں کا تعویذ ہمیشہ گلے میں ڈالے رکھتا ہوں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 97
وقت کی ہر آفت کو اپنے سر سے ٹالے رکھتا ہوں
یادوں کا تعویذ ہمیشہ گلے میں ڈالے رکھتا ہوں
خواب کے روزن سے در آئی روشنیوں کا کیا کہنا
گھور اندھیرے میں بھی اپنے پاس اُجالے رکھتا ہوں
ہر مایوسی سہہ لیتا ہوں شاید اس کی برکت سے
یہ جو انہونی کا سپنا دل میں پالے رکھتا ہوں
کیا معلوم کہ جانے والا سمت شناس فردا ہو
تھوڑی دُور تو ہر مرکب کی باگ سنبھالے رکھتا ہوں
اپنے اس انکار کے باعث دین کا ہوں نہ ہی دنیا کا
ہر خواہش کو پاؤں کی ٹھوکر پہ اچھالے رکھتا ہوں
زہر کا پیالہ، سوکھا دریا اور صلیب و دار و رسن
میں بھی اپنے ہونے کے دو چار حوالے رکھتا ہوں
آفتاب اقبال شمیم

اندھے نگر میں دیکھنے والے ہوئے تو ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 372
ہم واں نہیں وہاں سے نکالے ہوئے تو ہیں
اندھے نگر میں دیکھنے والے ہوئے تو ہیں
آنسو تمام شہر نے افلاک کی طرف
دستِ دعا پہ رکھ کے اچھالے ہوئے تو ہیں
اس میں کوئی مکان جلا ہے تو کیا ہوا
دوچار دن گلی میں اجالے ہوئے تو ہیں
یادیں بھی یادگاریں بھی لوٹانے کا ہے حکم
تصویریں اور خطوط سنبھالے ہوئے تو ہیں
سچ کہہ رہی ہے صبح کی زر خیزروشنی
ہم لوگ آسمان کے پالے ہوئے تو ہیں
آخر کبھی تو شامِ ملاقات آئے گی
ڈیرے کسی کے شہر میں ڈالے ہوئے تو ہیں
منصور کب وہاں پہ پہنچتے ہیں کیاکہیں
کچھ برگِ گل ہواکے حوالے ہوئے تو ہیں
منصور آفاق

اسّاں جیہڑے حرف ٹِنانے واواں وچ اُچھالے نیں

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 72
کالیاں راتاں دی شاہی دامان تروڑن والے نیں
اسّاں جیہڑے حرف ٹِنانے واواں وچ اُچھالے نیں
اندر جھُلدی نھیری ہتّھوں اکھّیں لالی پھر گئی اے
تن دے بھخدے موسم پاروں جِبھیں اُبھرے چھالے نیں
ہِکّن اوہ نیں پل پل پیندی ٹھنڈ کلیجے جنہاں دے
ہِکّن اوہ جنہاں دی ہوٹھیں سدھراں بھانبڑ بالے نیں
سپ چڑیاں تے چھاپے مارن شِکرے جھپٹن گُھگیاں تے
خورے کی کی چِیک چہاڑے میرے آل دوالے نیں
رُتّاں نے نم روک کے اپنی اِنج دا زور وِکھایا اے
آپوں آپ ائی وجن لگ پئے کلیاں دے منہ تالے نیں
اکّھ نہ میلی ہوون دِتّی، نانہہ متھڑے وٹ پایا اے
کُجھ انج دے وی دُکھڑے اسّاں ایس تن اُتّے جالے نیں
ماجدُ اپنے نال دیاں نوں مار نہ پُھوکاں پیار دیاں
اوہناں دے مُکھ لو نئیں دیندے جیہڑے من دے کالے نیں
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)