ٹیگ کے محفوظات: اچھالا

ہجر کے آگ میں ڈالا ہوا میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 313
پھول کا ایک حوالہ ہوا میں
ہجر کے آگ میں ڈالا ہوا میں
آنکھ سے دیکھنے والے ہوئے تم
روح سے دیکھنے والا ہوا میں
چن لئے وقت نے موتی میرے
ایک ٹوٹی ہوئی مالا ہوا میں
اس نے مٹی میں دبا رکھا ہے
سکہ ہوں سونے سے ڈھالا ہوا میں
مجھ میں چہکار پرندوں کی ہے
صبح کا سرد اجالا ہوا میں
لوٹ کر آیا نہیں ہوں شاید
گیند کی طرح اچھالا ہوا میں
پیشوائی کیلئے دنیا اور
اپنی بستی سے نکالا ہوا میں
زندگی نام ہے میرا منصور
موت کا ایک نوالہ ہوا میں
منصور آفاق