ٹیگ کے محفوظات: اپنی

اپنی بات کرو گے

جب بھی بات کرو گے
اپنی بات کرو گے
آج تو میں سمجھا تھا
میری بات کرو گے
مجھ کو پتا ہے اب تم
کس کی بات کرو گے
جیسی صحبت ہو گی
ویسی بات کرو گے
جب بولو گے باصِرؔ
الٹی بات کرو گے
باصر کاظمی

باصرؔ خرابیاں تو ہیں پھر بھی خرابیاں

کتنی ہی بے ضرر سہی تیری خرابیاں
باصرؔ خرابیاں تو ہیں پھر بھی خرابیاں
حالت جگہ بدلنے سے بدلی نہیں مری
ہوتی ہیں ہر جگہ کی کچھ اپنی خرابیاں
تو چاہتا ہے اپنی نئی خوبیوں کی داد
مجھ کو عزیز تیری پرانی خرابیاں
جونہی تعلقات کسی سے ہوئے خراب
سارے جہاں کی اُس میں ملیں گی خرابیاں
سرکار کا ہے اپنا ہی معیارِ انتخاب
یارو کہاں کی خوبیاں کیسی خرابیاں
آدم خطا کا پُتلا ہے گر مان لیں یہ بات
نکلیں گی اِس خرابی سے کتنی خرابیاں
اُن ہستیوں کی راہ پہ دیکھیں گے چل کے ہم
جن میں نہ تھیں کسی بھی طرح کی خرابیاں
بوئیں گے اپنے باغ میں سب خوبیوں کے بیج
جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے ساری خرابیاں
باصرؔ کی شخصیت بھی عجب ہے کہ اُس میں ہیں
کچھ خوبیاں خراب کچھ اچھی خرابیاں
باصر کاظمی

زیادہ رہ نہیں سکتا کوئی کسی کی جگہ

قرار پاتے ہیں آخر ہم اپنی اپنی جگہ
زیادہ رہ نہیں سکتا کوئی کسی کی جگہ
بنانی پڑتی ہے ہر شخص کو جگہ اپنی
ملے اگرچہ بظاہر بنی بنائی جگہ
دل و نظر کی جو بچھڑے ہوئے تھے مدت سے
ہوئی ہے آج ملاقات اک پرانی جگہ
ہیں اپنی اپنی جگہ مطمئن جہاں سب لوگ
تصورات میں اپنے ہے ایک ایسی جگہ
یہاں نہ جینے کا وہ لطف ہے نہ مرنے کا
کہا تھا کس نے کہ آ کر رہو پرائی جگہ
گِلہ بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی
وہ بات اپنی جگہ ہے یہ بات اپنی جگہ
نہیں ہے سہل کوئی جانشینِ قیس ملے
پڑی ہوئی ہے بڑی دیر سے یہ خالی جگہ
کیے ہوئے ہے فراموش تو جسے باصرِؔ
وہی ہے اصل میں تیرا مقام تیری جگہ
باصر کاظمی