ٹیگ کے محفوظات: اٹ

چُوزے ہوں جیسے ماں کے پروں میں سمٹ گئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 1
یوں لوگ اب کے جادۂ گرگاں سے ہٹ گئے
چُوزے ہوں جیسے ماں کے پروں میں سمٹ گئے
پنچھی شکار ہو کے نشیمن میں آ گرا
اور خواب، عافیت کے بدن سے چمٹ گئے
کھانے لگا فضا میں لہو ان کا بازیاں
بِلّی کے سامنے تھے کبوتر جو ڈٹ گئے
مجروح کب ہوئے ہیں نہتّوں سے اہلِ تیغ
کب یوں ہوا کہ دانت زبانوں سے کٹ گئے
جھاڑا نہیں کسی نے اِنہیں حادثہ یہ ہے
دل آئنے تھے گردِ زمانہ سے اٹ گئے
ماجد ہر آن جیسے اذّیت پہ ہوں تُلے
کانٹے لباس سے ہیں کچھ ایسے چمٹ گئے
ماجد صدیقی

ابرو کی تیغ دیکھ مہ عید کٹ گیا

دیوان دوم غزل 743
سنبل تمھارے گیسوئوں کے غم میں لٹ گیا
ابرو کی تیغ دیکھ مہ عید کٹ گیا
عالم میں جاں کے مجھ کو تنزہ تھا اب تو میں
آلودگی جسم سے ماٹی میں اٹ گیا
ظلم و جفا و جور پر اصرار اس قدر
ہٹ دیکھ دیکھ تیری دل اپنا بھی ہٹ گیا
اب وہ سماں نہیں ہے کہ وہ کام جان خلق
مغموم ہم کو دیکھ کے دوڑا لپٹ گیا
دشوار سیتے ہیں گے جو بے ڈھب پھٹے ہے جیب
بے طوریوں سے اس کی دل اپنا تو پھٹ گیا
دامان و جیب دونوں ہوئے ٹکڑے ایک جا
اب کے یہ کام ہاتھ سے میرے سمٹ گیا
خاطر اگر ہو جمع پریشانی بھی نبھے
سو دل تو دو طرف تری زلفوں سے بٹ گیا
ٹک رات اس کے منھ سے ہوا تھا مقابلہ
پھر ماہ چاردہ کو جو دیکھا تو گھٹ گیا
کیا پوچھو ہو نصیب ہمارے الٹ گئے
چل کر ادھر کو یار پھر اودھر الٹ گیا
بلبل کی اور گل کی جو صحبت کی سیر میر
دل اپنا دلبروں کی طرف سے اچٹ گیا
میر تقی میر

کہیں تو بلب جلے اور اندھیرے چھٹ جائیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 293
مرے نہیں تو کسی کے ملال گھٹ جائیں
کہیں تو بلب جلے اور اندھیرے چھٹ جائیں
تمہارے ظرف سے ساتھی گلہ نہیں کوئی
پہاڑ مجھ سے محبت کریں تو پھٹ جائیں
ترے بدن پر لکھوں نظم کوئی شیلے کی
یہ زندگی کے مسائل اگر نمٹ جائیں
میں رہ گیا تھا سٹیشن پہ ہاتھ ملتے ہوئے
مگر یہ کیسے کہانی سے دو منٹ جائیں
اے ٹینک بان یہ گولان کی پہاڑی ہے
یہاں سے گزریں تو دریا سمٹ سمٹ جائیں
زمینیں روندتا جاتا ہے لفظ کا لشکر
نئے زمانے مری گرد سے نہ اٹ جائیں
چرا لوں آنکھ سے نیندیں مگر یہ خطرہ ہے
کہ میرے خواب مرے سامنے نہ ڈٹ جائیں
گھروں سے لوگ نکل آئیں چیر کے دامن
جو اہل شہر کی آپس میں آنکھیں بٹ جائیں
اب اس کے بعد دہانہ ہے بس جہنم کا
جنہیں عزیز ہے جاں صاحبو پلٹ جائیں
ہزار زلزلے تجھ میں سہی مگر اے دل
یہ کوہسار ہیں کیسے جگہ سے ہٹ جائیں
مرا تو مشورہ اتنا ہے صاحبانِ قلم
قصیدہ لکھنے سے بہتر ہے ہاتھ کٹ جائیں
وہ اپنی زلف سنبھالے تو اس طرف منصور
کھلی کتاب کے صفحے الٹ الٹ جائیں
منصور آفاق