ٹیگ کے محفوظات: اٹھی

مرے کمرے میں گہری خامشی ہے

فضائے جان و دل بہتر ہوئی ہے
مرے کمرے میں گہری خامشی ہے
بہت سادہ، بہت معصوم ہے وہ
اسے میری محبت جانتی ہے
مرے پاؤں ہری شاخوں سے باندھو
مری آنکھوں نے دنیا دیکھ لی ہے
چراغوں کی صفیں سیدھی کراؤ
اندھیری شب ابھی سو کر اٹھی ہے
کسی طوفان کی آمد ہے پیارے
مجھے میری چھٹی حس کہہ رہی ہے
قد و قامت قیامت ہے سنا ہے
مجھے ملنے کی جلدی ہو رہی ہے
خدا، عورت، کتابیں گھر پرندے
مری پانچوں سے گہری دوستی ہے
افتخار فلک

ذات اپنی ہی دے اُٹھی خوشبُو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 11
ہے جنوں عطر، آگہی خوشبُو
ذات اپنی ہی دے اُٹھی خوشبُو
دل معطّر ہے یادِ حسن کے ساتھ
لب پہ ہے ذکرِ یار کی خوشبُو
اَب بھی ہیں سلسلے وُہی تیرے
گل پیمبر، پیمبری خوشبُو
آنے لگتی ہے تیرے نام کے ساتھ
ہر گماں سے یقین کی خوشبو
جسم مہکا ہے پھر کوئی ماجدؔ
ہے پریشاں گلی گلی خوشبُو
ماجد صدیقی