ٹیگ کے محفوظات: اٹھایئے

گلگشت کو جو آئیے آنکھوں پہ آئیے

دیوان ششم غزل 1889
گل نے بہت کہا کہ چمن سے نہ جایئے
گلگشت کو جو آئیے آنکھوں پہ آئیے
میں بے دماغ کرکے تغافل چلا گیا
وہ دل کہاں کہ ناز کسو کے اٹھایئے
صحبت عجب طرح کی پڑی اتفاق ہائے
کھو بیٹھیے جو آپ کو تو اس کو پائیے
رنجیدگی ہماری تو پر سہل ہے ولے
آزردہ دل کسو کو نہ اتنا ستایئے
خاطر ہی کے علاقے کی سب ہیں خرابیاں
اپنا ہو بس تو دل نہ کسو سے لگایئے
اے ہمدم ابتدا سے ہے آدم کشی میں عشق
طبع شریف اپنی نہ ایدھر کو لایئے
اتنی بھی کیا ہے دیدہ درائی کہ غیر سے
آنکھیں لڑایئے ہمیں آنکھیں دکھایئے
مچلا ہے وہ تو دیکھ کے لیتا ہے آنکھیں موند
سوتا پڑا ہو کوئی تو اس کو جگایئے
جان غیور پر ہے ستم سا ستم کہ میر
بگڑا جنھوں سے چاہیے ان سے بنایئے
میر تقی میر

دریا کا پھیر پایئے تیرا نہ پایئے

دیوان دوم غزل 1016
گرداب وار یار ترے صدقے جایئے
دریا کا پھیر پایئے تیرا نہ پایئے
سر مار مار بیٹھے تلف ہوجے کب تلک
ٹک اٹھ کے اب نصیبوں کو بھی آزمایئے
سو شکل سے ہم آئے گئے تیری بزم میں
طنزاً کہا نہ تو نے کبھو یوں کہ آیئے
آئے ہیں تنگ جان سے قیدحیات میں
اس بند سے ہمارے تئیں اب چھڑایئے
کہنے لگا کہ ٹیڑھے بہت ہو رہے ہو تم
دو چار سیدھی سیدھی تمھیں بھی سنایئے
ہے عزم جزم ترک و تجرد کا گر بنے
کیا اس جہان سفلہ سے دل کو لگایئے
تاثیر ہے دعا کو فقیروں کی میرجی
ٹک آپ بھی ہمارے لیے ہاتھ اٹھایئے
میر تقی میر