ٹیگ کے محفوظات: اٹھاتا

ہوا کا ہاتھ بٹاتا ہے کھا نہیں جاتا

چراغ وقت بچاتا ہے کھا نہیں جاتا
ہوا کا ہاتھ بٹاتا ہے کھا نہیں جاتا
بزرگ پیڑ کی چھاؤں سے دور مت بیٹھو
یہ صرف ہاتھ اٹھاتا ہے کھا نہیں جاتا
یہ میرا باپ مرا آخری سہارا ہے
کما کے سب کو کھلاتا ہے کھا نہیں جاتا
چبا چبا کے نہ باتیں کرو ذرا تو کھلو
وہ سب کے درد بٹاتا ہے کھا نہیں جاتا
یہ عشق ہے سو شرارت سے کام لیتا ہے
بڑے بڑوں کو نچاتا ہے کھا نہیں جاتا
وہ سیر چشم ہے ایسا کہ بھوک لگنے پر
جنوں میں خاک اڑاتا ہے کھا نہیں جاتا
خیالِ یار کا دریا چڑھا ہوا ہے مگر
گلے لگا کے بہاتا ہے کھا نہیں جاتا
تم اس خدا پہ ہنسو گے جو روزإ اول سے
ڈرے ہوؤں کو ڈراتا ہے کھا نہیں جاتا
افتخار فلک

ہم کو یہ تیر ماہ جاتا ہے

دیوان سوم غزل 1270
تیر جوڑے وہ ماہ آتا ہے
ہم کو یہ تیر ماہ جاتا ہے
گل کو سر پر رکھیں سبھی لیکن
اب دماغ اپنا کب اٹھاتا ہے
اپنا اپنا ہے ذائقہ ہم کو
بوسۂ کنج لب ہی بھاتا ہے
آتش عشق جس کے دل کو لگے
شمع ساں آپ ہی کو کھاتا ہے
دیکھنا ہے تو ہے بہم پر وہ
ہم سے آنکھوں کو کب ملاتا ہے
میری تو ہے پلک سے چھوٹی نگاہ
اور وہ اس پہ منھ چھپاتا ہے
میر صناع ہے ملو اس سے
دیکھو تو باتیں کیا بناتا ہے
میر تقی میر

دیدنی ہے پہ بہت کم نظر آتا ہے میاں

دیوان سوم غزل 1201
شہروں ملکوں میں جو یہ میر کہاتا ہے میاں
دیدنی ہے پہ بہت کم نظر آتا ہے میاں
عالم آئینہ ہے جس کا وہ مصور بے مثل
ہائے کیا صورتیں پردے میں بناتا ہے میاں
قسمت اس بزم میں لائی کہ جہاں کا ساقی
دے ہے مے سب کو ہمیں زہر پلاتا ہے میاں
ہوکے عاشق ترے جان و دل و دیں کھو بیٹھے
جیسا کرتا ہے کوئی ویسا ہی پاتا ہے میاں
حسن یک چیز ہے ہم ہوویں کہ تو ہو ناصح
ایسی شے سے کوئی بھی ہاتھ اٹھاتا ہے میاں
جھکّڑ اس حادثے کا کوہ گراں سنگ کو بھی
جوں پر کاہ اڑائے لیے جاتا ہے میاں
کیا پری خواں ہے جو راتوں کو جگاوے ہے میر
شام سے دل جگر و جان جلاتا ہے میاں
میر تقی میر

دیکھیے اب کے وہ کیا چیز بناتا ہے مجھے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 296
کوزہ گر پھر اسی مٹی میں ملاتا ہے مجھے
دیکھیے اب کے وہ کیا چیز بناتا ہے مجھے
میں تو اس دشت میں خود آیا تھا کرنے کو شکار
کون یہ زین سے باندھے لیے جاتا ہے مجھے
خاک پر جب بھی کوئی تیر گرا دیتا ہے
دستِ دلدار کوئی بڑھ کے اٹھاتا ہے مجھے
ساعتے چند کروں مشقِ گراں جانی بھی
جاں سپاری کا ہنر تو بہت آتا ہے مجھے
دولتِ سر ہوں‘ سو ہر جیتنے والا لشکر
طشت میں رکھتا ہے‘ نیزے پہ سجاتا ہے مجھے
عرفان صدیقی

اور اس کے بعد کمرے میں آتا تھا کون شخص

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 196
راتوں میں کھڑکیوں کو بجاتا تھا کون شخص
اور اس کے بعد کمرے میں آتا تھا کون شخص
قوسِ قزح پہ کیسے مرے پاؤں چلتے تھے
دھیمے سروں میں رنگ بہاتا تھا کون شخص
مٹی ہوں جانتا ہوں کہاں کوزہ گر کا نام
یہ یاد کب ہے چاک گھماتا تھا کون شخص
بادل برستے رہتے تھے جو دل کے آس پاس
پچھم سے کھینچ کر انہیں لاتا تھا کون شخص
ہوتا تھا دشت میں کوئی اپنا جنوں نواز
شب بھر متاعِ درد لٹاتا تھا کون شخص
کوئی دعا تھی، یا کوئی نیکی نصیب کی
گرتا تھا میں کہیں تو اٹھاتا تھا کون شخص
اس کہنہ کائنات کے کونے میں بیٹھ کر
کارِ ازل کے کشف کماتا تھا کون شخص
بہکے ہوئے بدن پہ بہکتی تھی بھاپ سی
اور جسم پر شراب گراتا تھا کون شخص
ہونٹوں کی سرخیوں سے مرے دل کے چاروں اور
داغِ شبِ فراق مٹاتا تھا کون شخص
پاؤں سے دھوپ گرتی تھی جس کے وہ کون تھا
کرنوں کو ایڑیوں سے اڑاتا تھا کون شخص
وہ کون تھا جو دیتا تھا اپنے بدن کی آگ
بے رحم سردیوں سے بچاتا تھا کون شخص
ماتھے پہ رکھ کے سرخ لبوں کی قیامتیں
سورج کو صبح صبح جگاتا تھا کون شخص
منصور بار بار ہوا کون کرچیاں
مجھ کو وہ آئینہ سا دکھاتا تھا کون شخص
منصور آفاق