ٹیگ کے محفوظات: اٹھائی

یہ ایک شمعِ سخن ہم نے جو جلائی ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 51
ضیائے دہر، اندھیروں میں کھینچ لائی ہے
یہ ایک شمعِ سخن ہم نے جو جلائی ہے
کوئی کوئی ہے خُلیفہ خُدا کا ایسا بھی
تمام خلق میں جس کے سبب دُہائی ہے
مِلا ہے زاغ کو ٹُکڑا کہیں سے روٹی کا
اور ایک جُھنڈ کی اُس ایک پر چڑھائی ہے
بہ حقِ ہم نفساں ہے جو شر، یہ انساں ہے
کہ کل بھی جس نے قیامت نئی اُٹھائی ہے
نجانے کتنے دھڑوں میں ہے منقسم ٹھہری
وُہ نسل، روزِ ازل سے جو بھائی بھائی ہے
لگا رہا ہے تُو کیوں اِس کو داؤ پر ماجِد!
یہ آن ہی تو تری زیست کی کمائی ہے
ماجد صدیقی

مگر یہ عدو کی زبانی سنا ہے بڑی مشکلوں سے تمہیں نیند آئی

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 2
بھلا اپنے نالوں کی مجھ کو کیا خبر کیا شبِ غم ہوئی تھی کہاں تک رسائی
مگر یہ عدو کی زبانی سنا ہے بڑی مشکلوں سے تمہیں نیند آئی
شبِ وعدہ اول تو آتے نہیں تھے جو آئے بھی تو رات ایسی گنوائی
کبھی رات کو تم نے گیسو سنوارے کبھی رات کو تم نے مہندی لگائی
گلہ بے وفائی کا کس سے کریں ہم ہمارا گلہ کوئی سنتا نہیں ہے
خدا تم کو رکھے جوانی کے دن ہیں تمھارا زمانہ تمھاری خدائی
ہر اک نے دیے میرے شکوں پہ طعنے تیرے ظلم لیکن کسی نے نہ پوچھے
میری بات پر بول اٹھا زمانہ تری بات دنیا زباں پر نہ لائی
سرِ شام آنے کا وعدہ کیا تھا مگر رات اب تو ڈھلی جا رہی ہے
نہ جانے کہاں راہ میں رک گئے وہ نہ جانے کہاں اتنی دیر لگائی
یہی ہوتی ہے شرکتِ بزمِ تماشہ سمجھ کر کھڑے ہو گئے تم
نہ حالات مرنے کے پوچھے کسی سے نہ آنسو بہائے نہ میت اٹھائی
قمر جلالوی

خشک ہوا خون اشک کے بدلے ریگ رواں سی آئی خاک

دیوان پنجم غزل 1662
دل کی تڑپ نے ہلاک کیا ہے دھڑکے نے اس کے اڑائی خاک
خشک ہوا خون اشک کے بدلے ریگ رواں سی آئی خاک
صورت کے ہم آئینے کے سے ظاہر فقر نہیں کرتے
ہوتے ساتے روتے پاتے ان نے منھ کو لگائی خاک
پیچ و تاب سے خاک بھی میری جیسے بگولا پھرنے لگی
سر میں ہوا ہی اس کے بہت تھی تب تو ہوئی ہے ہوائی خاک
اور غبار کسو کے دل کا کس انداز سے نکلے آہ
روے فلک پر بدلی سی تو ساری ہماری چھائی خاک
نعمت رنگارنگ حق سے بہرہ بخت سیہ کو نہیں
سانپ رہا گو گنج کے اوپر کھانے کو تو کھائی خاک
اپنے تئیں گم جیسا کیا تھا یاں سر کھینچ کے لوگوں نے
عالم خاک میں ویسی ہی اب ڈھونڈی ان کی نہ پائی خاک
انس نہیں انسان سے اچھا عشق و جنوں اک آفت ہے
فرق ہوئے کیا چھوڑے ہے آدم میں اس کی جدائی خاک
ہوکے فقیر گلی میں اس کی چین بہت سا پایا ہم
لے کے سرہانے پتھر رکھا جاے فرش بچھائی خاک
قلب گداز ہیں جن کے وے بھی مٹی سونا کرتے ہیں
میر اکسیر بنائی انھوں نے جن کی جہاں سے اٹھائی خاک
میر تقی میر

اللہ رے اثر سب کے تئیں رفتگی آئی

دیوان دوم غزل 961
مطرب سے غزل میر کی کل میں نے پڑھائی
اللہ رے اثر سب کے تئیں رفتگی آئی
اس مطلع جاں سوز نے آ اس کے لبوں پر
کیا کہیے کہ کیا صوفیوں کی چھاتی جلائی
خاطر کے علاقے کے سبب جان کھپائی
اس دل کے دھڑکنے سے عجب کوفت اٹھائی
گو اس رخ مہتابی سے واں چاندنی چھٹکی
یاں رنگ شکستہ سے بھی چھٹتی ہے ہوائی
ہر بحر میں اشعار کہے عمر کو کھویا
اس گوہر نایاب کی کچھ بات نہ پائی
بھیڑیں ٹلیں اس ابروے خم دار کے ہلتے
لاکھوں میں اس اوباش نے تلوار چلائی
دل اور جگر جل کے مرے دونوں ہوئے خاک
کیا پوچھتے ہو عشق نے کیا آگ لگائی
قاصد کے تصنع نے کیا دل کے تئیں داغ
بیتاب مجھے دیکھ کے کچھ بات بنائی
چپکی ہے مری آنکھ لب لعل بتاں سے
اس بات کے تیں جانتی ہے ساری خدائی
میں دیر پہنچ کر نہ کیا قصد حرم پھر
اپنی سی جرس نے کی بہت ہرزہ درائی
فریاد انھیں رنگوں ہے گلزار میں ہر صبح
بلبل نے مری طرز سخن صاف اڑائی
مجلس میں مرے ہوتے رہا کرتے ہو چپکے
یہ بات مری ضد سے تمھیں کن نے بتائی
گردش میں جو ہیں میر مہ و مہر و ستارے
دن رات ہمیں رہتی ہے یہ چشم نمائی
میر تقی میر

پر ہم سے تو تھمے نہ کبھو منھ پر آئی بات

دیوان دوم غزل 784
ہوتی ہے گرچہ کہنے سے یارو پرائی بات
پر ہم سے تو تھمے نہ کبھو منھ پر آئی بات
جانے نہ تجھ کو جو یہ تصنع تو اس سے کر
تس پر بھی تو چھپی نہیں رہتی بنائی بات
لگ کر تدرو رہ گئے دیوار باغ سے
رفتار کی جو تیری صبا نے چلائی بات
کہتے تھے اس سے ملیے تو کیا کیا نہ کہیے لیک
وہ آگیا تو سامنے اس کے نہ آئی بات
اب تو ہوئے ہیں ہم بھی ترے ڈھب سے آشنا
واں تونے کچھ کہا کہ ادھر ہم نے پائی بات
بلبل کے بولنے میں سب انداز ہیں مرے
پوشیدہ کب رہے ہے کسو کی اڑائی بات
بھڑکا تھا رات دیکھ کے وہ شعلہ خو مجھے
کچھ رو سیہ رقیب نے شاید لگائی بات
عالم سیاہ خانہ ہے کس کا کہ روز و شب
یہ شور ہے کہ دیتی نہیں کچھ سنائی بات
اک دن کہا تھا یہ کہ خموشی میں ہے وقار
سو مجھ سے ہی سخن نہیں میں جو بتائی بات
اب مجھ ضعیف و زار کو مت کچھ کہا کرو
جاتی نہیں ہے مجھ سے کسو کی اٹھائی بات
خط لکھتے لکھتے میر نے دفتر کیے رواں
افراط اشتیاق نے آخر بڑھائی بات
میر تقی میر

مجھ دل زدہ کو نیند نہ آئی تمام شب

دیوان دوم غزل 768
اندوہ سے ہوئی نہ رہائی تمام شب
مجھ دل زدہ کو نیند نہ آئی تمام شب
جب میں شروع قصہ کیا آنکھیں کھول دیں
یعنی تھی مجھ کو چشم نمائی تمام شب
چشمک چلی گئی تھی ستاروں کی صبح تک
کی آسماں نے دیدہ درائی تمام شب
بخت سیہ نے دیر میں کل یاوری سی کی
تھی دشمنوں سے اس کو لڑائی تمام شب
بیٹھے ہی گذری وعدے کی شب وہ نہ آپھرا
ایذا عجب طرح کی اٹھائی تمام شب
سناہٹے سے دل سے گذر جائیں سو کہاں
بلبل نے گو کی نالہ سرائی تمام شب
تارے سے میری پلکوں پہ قطرے سرشک کے
دیتے رہے ہیں میر دکھائی تمام شب
میر تقی میر