ٹیگ کے محفوظات: اٹک

کنکر سا کوئی کھٹک رہا ہے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 117
اشک آنکھ میں پھر اٹک رہا ہے
کنکر سا کوئی کھٹک رہا ہے
میں اُس کے خیال سے گُریزاں
وہ میری صدا جھٹک رہا ہے
تحریر اُسی کی ہے ، مگر دل
خط پڑھتے ہُوئے اٹک رہا ہے
ہیں فون پہ کس کے ساتھ باتیں
اور ذہن کہاں بھٹک رہا ہے
صدیوں سے سفر میں ہے سمندر
ساحِل پہ تھکن پٹک رہا ہے
اک چاند صلیبِ شاخِ گُل پر
بالی کی طرح لٹک رہا ہے
پروین شاکر

اپنے ہی آپ تک گئے ہوں گے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 189
گھر سے ہم گھر تلک گئے ہوں گے
اپنے ہی آپ تک گئے ہوں گے
ہم جو اب آدمی ہیں پہلے کبھی
جام ہوں گے چھلگ گئے ہوں گے
وہ بھی اب ہم سے تھک گیا ہو گا
ہم بھی اب اس سے تھک گئے ہوں گے
شب جو ہم سے ہوا معاف کرو
نہیں پی تھی بہک گئے ہوں گے
کتنے ہی لوگ حرص شہرت میں
دار پر خود لٹک گئے ہوں گے
شکر ہے اس نگاہ کم کا میاں
پہلے ہی ہم کھٹک گئے ہوں گے
ہم تو اپنی تلاش میں اکثر
از سما تا سمک گئے ہوں گے
اس کا لشکر جہاں تہاں یعنی
ہم بھی بس بے کمک گئے ہوں گے
جون ، اللہ اور یہ عالم
بیچ میں ہم اٹک گئے ہوں گے
جون ایلیا

عشق کی مے سے چھک رہے ہیں ہم

دیوان دوم غزل 854
کچھ نہ پوچھو بہک رہے ہیں ہم
عشق کی مے سے چھک رہے ہیں ہم
سوکھ غم سے ہوئے ہیں کانٹا سے
پر دلوں میں کھٹک رہے ہیں ہم
وقفۂ مرگ اب ضروری ہے
عمر طے کرتے تھک رہے ہیں ہم
کیونکے گرد علاقہ بیٹھ سکے
دامن دل جھٹک رہے ہیں ہم
کون پہنچے ہے بات کی تہ کو
ایک مدت سے بک رہے ہیں ہم
ان نے دینے کہا تھا بوسۂ لب
اس سخن پر اٹک رہے ہیں ہم
نقش پا سی رہی ہیں کھل آنکھیں
کس کی یوں راہ تک رہے ہیں ہم
دست دے گی کب اس کی پابوسی
دیر سے سر پٹک رہے ہیں ہم
بے ڈھب اس پاس ایک شب تھے گئے
سو کئی دن سرک رہے ہیں ہم
خام دستی نے ہائے داغ کیا
پوچھتے کیا ہو پک رہے ہیں ہم
میر شاید لیں اس کی زلف سے کام
برسوں سے تو لٹک رہے ہیں ہم
میر تقی میر

دل ساکنان باغ کے تجھ سے اٹک گئے

دیوان اول غزل 478
کبکوں نے تیری چال جو دیکھی ٹھٹھک گئے
دل ساکنان باغ کے تجھ سے اٹک گئے
اندوہ وصل و ہجر نے عالم کھپا دیا
ان دو ہی منزلوں میں بہت یار تھک گئے
مطلق اثر نہ اس کے دل نرم میں کیا
ہر چند نالہ ہاے حزیں عرش تک گئے
افراط گریہ سے ہوئیں آبادیاں خراب
سیلاب میرے اشک کے اژدر بھی بھک گئے
وے مے گسار ظرف جنھیں خم کشی کے تھے
بھر کر نگاہ تونے جو کی ووہیں چھک گئے
چند اے سپہر چھاتی ہماری جلا کرے
اب داغ کھاتے کھاتے کلیجے تو پک گئے
عشاق پر جو وے صف مژگاں پھریں تو میر
جوں اشک کتنے چو گئے کتنے ٹپک گئے
میر تقی میر

جی لے گئے یہ کانٹے دل میں کھٹک کھٹک کر

دیوان اول غزل 227
آزار دیکھے کیا کیا ان پلکوں سے اٹک کر
جی لے گئے یہ کانٹے دل میں کھٹک کھٹک کر
سرو و تدرو دونوں پھر آپ میں نہ آئے
گلزار میں چلا تھا وہ شوخ ٹک لٹک کر
کب آنکھ کھول دیکھا تیرے تئیں سرہانے
ناچار مر گئے ہم سر کو پٹک پٹک کر
حاصل بجز کدورت اس خاکداں سے کیا ہے
خوش وہ کہ اٹھ گئے ہیں داماں جھٹک جھٹک کر
یہ مشت خاک یعنی انسان ہی ہے روکش
ورنہ اٹھائی کن نے اس آسماں کی ٹکر
دل کام چاہتا ہے اب اس کے گیسوئوں سے
واں مر گئے ہیں کتنے برسوں اٹک اٹک کر
ٹک منھ سے اس کے دی شب برقع سرک گیا تھا
جاتی رہی نظر سے مہتاب سی چھٹک کر
دھولا چکے تھے مل کر کل لونڈے میکدے کے
پر سرگراں ہو واعظ جاتا رہا سٹک کر
کل رقص شیخ مطلق دل کو لگا نہ میرے
آیا وہ حیز شرعی کتنا مٹک مٹک کر
منزل کی میر اس کی کب راہ تجھ سے نکلے
یاں خضر سے ہزاروں مر مر گئے بھٹک کر
میر تقی میر

یونہی رات رات غزل میں رو، یونہی شعر شعر سسک کے پڑھ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 408
یہی تیرے غم کا کِتھارسس، یونہی چشمِ نم سے ٹپک کے پڑھ
یونہی رات رات غزل میں رو، یونہی شعر شعر سسک کے پڑھ
جو اکائی میں نہیں ذہن کی اسے سوچنے کا کمال کر
یہ شعور نامۂ خاک سن، یہ درود لوحِ فلک کے پڑھ
یہی رتجگوں کی امانتیں ہیں بیاضِ جاں میں رکھی ہوئی
جو لکھے نہیں ہیں نصیب میں وہ ملن پلک سے پلک کے پڑھ
مرے کینوس پہ شفق بھری نہ لکیریں کھینچ ملال کی
کوئی نظم قوسِ قزح کی لکھ کوئی رنگ ونگ دھنک کے پڑھ
ترے نرم سر کا خرام ہو مری روح کے کسی راگ میں
مجھے انگ انگ میں گنگنا، مرا لمس لمس لہک کے پڑھ
یہ بجھا دے بلب امید کے، یہ بہشتِ دیدِ سعید کے
ابھی آسمان کے بورڈ پر وہی زخم اپنی کسک کے پڑھ
او ڈرائیور مرے دیس کے او جہاں نما مری سمت کے
یہ پہنچ گئے ہیں کہاں پہ ہم، ذرا سنگ میل سڑک کے پڑھ
کوئی پرفیوم خرید لا، کوئی پہن گجرا کلائی میں
نئے موسموں کا مشاعرہ کسی مشکبو میں مہک کے پڑھ
ہے کتابِ جاں کا ربن کھلا کسی واڈکا بھری شام میں
یہی افتتاحیہ رات ہے ذرا لڑکھڑا کے، بہک کے پڑھ
یہ ہے ایک رات کا ناولٹ، یہ ہے ایک شام کی سرگزشت
یہ فسانہ تیرے کرم کا ہے، اسے اتنا بھی نہ اٹک کے پڑھ
کئی فاختاؤں کی ہڈیاں تُو گلے میں اپنے پہن کے جا
وہ جو عہد نامۂ امن تھا اسے بزم شب میں کھنک کے پڑھ
منصور آفاق