ٹیگ کے محفوظات: آگہی

یہ ندی بعد مدت کچھ بہی تو

کہانی آنسوؤں نے کچھ کہی تو
یہ ندی بعد مدت کچھ بہی تو
کہا ہم نے کہ ہو تم بے مروت
کہا ہم بے مروت ہی سہی تو
تری ہی نذر کرنے کو ہے یہ جاں
اگر اغیار سے کچھ بچ رہی تو
ہمیں محفوظ کر رکھا ہے جس نے
یہی دیوار جب سر پر ڈہی تو
تمہاری بات سے میں متفق ہوں
ابھی میں کہہ رہا تھا کچھ یہی تو
جہالت ہی سے بچ جاؤ تو جانیں
بہت مشکل ہے باصرِؔ آگہی تو
باصر کاظمی

بولتا کوئی کچھ بھی نہیں ہے مگر، ایک زنجیرِ در، خامشی اور میں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 37
جاگتے ہیں تری یاد میں رات بھر، ایک سنسان گھر، چاندنی اور میں
بولتا کوئی کچھ بھی نہیں ہے مگر، ایک زنجیرِ در، خامشی اور میں
اک اذیّت میں رہتے ہوئے مستقل، ایک لمحے کو غافل نہیں ذہن و دل
کچھ سوالات ہیں ان کے پیشِ نظر، انتہا کی خبر، آگہی اور میں
تیری نسبت سے اب یاد کچھ بھی نہیں، اُس تعلق کی روداد کچھ بھی نہیں
اب جو سوچوں تو بس یاد ہے اس قدر، ایک پہلی نظر، تشنگی اور میں
کس مسافت میں ہوں دیکھ میرے خدا، ایسی حالت میں تُو میری ہمت بندھا
یہ کڑی رہ گزر، رئگانی کا ڈر،مضمحل بال و پر، بے بسی اور میں
اُس کو پانے کی اب جستجو بھی نہیں، جستجو کیا کریں آرزو بھی نہیں
شوقِ آوارگی بول جائیں کدھر، ہو گئے در بہ در، زندگی اور میں
لمحہ لمحہ اجڑتا ہوا شہرِ جاں، لحظہ لحظہ ہوئے جا رہے ہیں دھواں
پھول پتّے شجر، منتظر چشمِ تر، رات کا یہ پہر، روشنی اور میں
گفتگو کا بہانہ بھی کم رہ گیا، رشتۂ لفظ و معنی بھی کم رہ گیا
ہے یقینا کسی کی دعا کا اثر، آج زندہ ہیں گر، شاعری اور میں
عرفان ستار