ٹیگ کے محفوظات: آوے

ناز و نیاز کا جھگڑا ایسا کس کے کنے لے جاوے اب

دیوان پنجم غزل 1574
کب سے صحبت بگڑ رہی ہے کیونکر کوئی بناوے اب
ناز و نیاز کا جھگڑا ایسا کس کے کنے لے جاوے اب
سوچتّے آتے ہیں جی میں پگڑی پر گل رکھے سے
کس کو دماغ رہا ہے اس کے جو حرف خشن اٹھاوے اب
تیغ بلند ہوئی ہے اس کی قسمت ہوں گے زخم رسا
مرد اگر ہے صیدحرم تو کوئی جراحت کھاوے اب
داغ سر و سینے کے میرے حسرت آگیں چشم ہوئے
دیکھیں کیا کیا عشق ستم کش ہم لوگوں کو دکھاوے اب
دم دو دم گھبراہٹ ہوتو ہوسکتا ہے تدارک بھی
جی کی چال سے پیدا ہے سو کوئی گھڑی میں جاوے اب
دل کے داغ بھی گل ہیں لیکن دل کی تسلی ہوتی نہیں
کاشکے دو گلبرگ ادھر سے بائو اڑا کر لاوے اب
اس کے کفک کی پامالی میں دل جو گیا تھا شاید میر
یار ادھر ہو مائل ٹک تو وہ رفتہ ہاتھ آوے اب
میر تقی میر

کام اپنے وہ کیا آیا جو کام ہمارے آوے گا

دیوان چہارم غزل 1339
خوں نہ ہوا دل چاہیے جیسا گو اب کام سے جاوے گا
کام اپنے وہ کیا آیا جو کام ہمارے آوے گا
آنکھیں لگی رہتی ہیں اکثر چاک قفس سے اسیروں کی
جھونکا باد بہاری کا گل برگ کوئی یاں لاوے گا
فتنے کتنے جمع ہوئے ہیں زلف و خال و خد و قد
کوئی نہ کوئی عہد میں میرے سران میں سے اٹھاوے گا
عشق میں تیرے کیا کیا سن کر یار گئی کر جاتے ہیں
یعنی غم کھاتے ہیں بہت ہم غم بھی ہم کو کھاوے گا
ایک نگہ کی امید بھی اس کی چشم شوخ سے ہم کو نہیں
ایدھر اودھر دیکھے گا پر ہم سے آنکھ چھپاوے گا
اب تو جوانی کا یہ نشہ ہی بے خود تجھ کو رکھے گا
ہوش گیا پھر آوے گا تو دیر تلک پچھتاوے گا
دیر سے اس اندیشے نے ناکام رکھا ہے میر ہمیں
پائوں چھوئیں گے اس کے ہم تو وہ بھی ہاتھ لگاوے گا
میر تقی میر

منھ پھیرے وہ تو ہم کو پھر کون منھ لگاوے

دیوان سوم غزل 1273
ہوں خاک پا جو اس کی ہر کوئی سر چڑھاوے
منھ پھیرے وہ تو ہم کو پھر کون منھ لگاوے
ان دو ہی صورتوں میں شکل اب نباہ کی ہے
یا صبر ہم کو آوے یا رحم اس کو آوے
اس مہ بغیر عالم آنکھوں میں سب سیہ ہے
دیکھیں تو عشق کیا کیا ہم کو سمیں دکھاوے
کچھ زخم کھل چلے ہیں کچھ داغ کھل رہے ہیں
اب کے بہار دیکھیں کیا کیا شگوفے لاوے
جوں لیلیٰ اور مجنوں تا نقش کچھ رہے یاں
اس کی مری بھی صورت یک جا کوئی بناوے
یہ طرح دار لڑکے دیں بیٹھنے تب اس کو
جب جی سے اپنے کوئی ہر طرح دل اٹھاوے
ہم جس زمیں پہ آئے واں آسماں یہی تھا
یارب جو کوئی جاوے تو کس طرف کو جاوے
شب سنتے حال میرا لیتا ہے موند آنکھیں
مچلے سے میں کہوں کیا سوتا ہو تو جگاوے
طاعت کا محو تب ہے جب ڈھب نہیں بتوں سے
چھوڑے نماز واجب گر میر وقت پاوے
میر تقی میر