ٹیگ کے محفوظات: آوارگی

کہاں جاتی ہے اس رفتار سے، اے روشنی! تھم جا

نہ پورا چاند گھٹ جائے، اسی لمحے! ابھی تھم جا
کہاں جاتی ہے اس رفتار سے، اے روشنی! تھم جا
عذابِ جاں بنی ہے تیری ٹک ٹک اے گھڑی! تھم جا
مرے حلقوم پر چلتی ہوئی میٹھی چھری! تھم جا
مجھے کچھ سانس لینے دے، مجھے کچھ سانس لینے دے
مری آوارگی تھم جا! مری آوارگی تھم جا
کسی دریا سے ہو کر بحر میں مٹ جائے گی آخر
اسی وادی میں بہتی رہ، اری پیاری ندی! تھم جا
امر کرنے کو ہے دیکھو کرن کو بوند پانی کی
یہ لمحہ پھر نہیں آنا، یہیں پر روشنی! تھم جا
اسی امید پر چلتا رہا انجان رستوں پر
کوئی مجھ کو پکارے گا کہ تھم جا۔۔ اجنبی، تھم جا
یہ گردش شش جہت کی تو کبھی تھمتی نہیں یاؔور
تو پھر اے گردشِ دوراں ذرا تو ہی کبھی تھم جا!
یاور ماجد

کچھ اختیار کے کچھ بے بَسی کے قصّے ہیں

سزا جزا کے ہیں یا بَندَگی کے قصّے ہیں
کچھ اختیار کے کچھ بے بَسی کے قصّے ہیں
طِلِسم خانہِ تخلیق اَزَل سے تا بہ اَبَد
سب، عشقِ ذات کے اَور آزَری کے قصّے ہیں
یہ جَبرِ باد یہ ذَرّوَں کی دَشت پیمائی
یہ سب مری تری آوارَگی کے قصّے ہیں
مآلِ گُل کی و پژمردگیِ گُل کی قَسَم
سکوتِ غنچہ میں لب بستگی کے قصّے ہیں
کتابِ عشق میں بابِ اَنا نہیں کوئی
دلوں پہ زخم لبوں پر ہنسی کے قصّے ہیں
سکونِ جہل کو دیکھا تَو یہ ہُوا معلوم
کہ سنگ و خشت فقط آگَہی کے قصّے ہیں
دُکھی دِلَوں کی سُنیِں جب حکایتیں ضامنؔ
مجھے لگا یہ مری زِندَگی کے قصّے ہیں
ضامن جعفری

حسن کی سادگی میں کیا کچھ تھا

نازِ بیگانگی میں کیا کچھ تھا
حسن کی سادگی میں کیا کچھ تھا
لاکھ راہیں تھیں لاکھ جلوے تھے
عہدِ آوارگی میں کیا کچھ تھا
آنکھ کھلتے ہی چھپ گئی ہر شے
عالمِ بے خودی میں کیا کچھ تھا
یاد ہیں مرحلے محبت کے
ہائے اُس بے کلی میں کیا کچھ تھا
کتنے بیتے دنوں کی یاد آئی
آج تیری کمی میں کیا کچھ تھا
کتنے مانوس لوگ یاد آئے
صبح کی چاندنی میں کیا کچھ تھا
رات بھر ہم نہ سو سکے ناصرؔ
پردۂ خامشی میں کیا کچھ تھا
ناصر کاظمی