ٹیگ کے محفوظات: آم

اُن کے کام اگر دیکھیں تو ہیں بس عام سے کام

کام سے بڑھ کر تھا جن کو جاہ و اکرام سے کام
اُن کے کام اگر دیکھیں تو ہیں بس عام سے کام
جن کا کام بنانا چاہا اُن سے بگڑ گئی
اسی لیے اب ہم رکھتے ہیں اپنے کام سے کام
کوئی نہ کوئی نئی مصیبت روز کھڑی کرتے ہو
ایک بھی دن کرنے نہ دیا ہم کو آرام سے کام
ابھی تو اُس میں دیکھتے ہو دنیا بھر کے اوصاف
پوچھوں گا جس روز پڑے گا اُس گلفام سے کام
لوگ گلی کوچوں میں بچارے ہو جاتے ہیں خوار
تم تو فقط کہہ دیتے ہو بالائے بام سے کام
زاہد اس سے قبل کہ جانا ہو داتا کے پاس
ہو توفیق تو کچھ کر لو سَر گنگا رام سے کام
اپنی کوشش تو ہوتی ہے اچھے شعر سنائیں
ورنہ چل جاتا ہے ناصِر تیرے نام سے کام
تھوڑی دیر رُکے ہیں باصرؔ ٹھنڈی چھاؤں میں ہم
پیڑ گِنے وہ باغ ہے جس کا ہمیں تو آم سے کام
باصر کاظمی

شاعرو! اونچے گھروں میں رتجگے کس کام کے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 570
رات بھر نازل ہوں فٹ پاتھوں پہ چاند الہام کے
شاعرو! اونچے گھروں میں رتجگے کس کام کے
خواب گہ میں ایک آتش دان روشن تھا مگر
سرد لمحے کانپتے تھے جنوری کی شام کے
بانس کے کمرے میں دھڑکن بج رہی تھی گیت کی
لان میں چپ برف اوڑھے پیڑ تھے بادام کے
قید ہیں کتنے برس سے جانتا کوئی نہیں
دکھ کی غاروں میں مسافر منزلِ خوشگام کے
بن گئے اپنی محبت کی وہ شریں یادگار
جو نواحِ کوچہ ء گل میں شجر تھے آم کے
اپنا کیا تھا کس لئے ہوتے خدا کے ہم نفس
اپنے تو منصور سے بھی رابطے تھے نام کے
منصور آفاق

زندگی لمسِ رنگ عام کرے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 531
بادِ خوشبو کو ہم کلام کرے
زندگی لمسِ رنگ عام کرے
رزق میرا بھی کچھ کشادہ ہو
کوئی میرے بھی گھر قیام کرے
میں کہ رومانیت کا پیغمبر
کون کافر مجھے امام کرے
ایک شاعرکی حیثیت کیا ہے
اس سے کہہ دو کہ کوئی کام کرے
سندھ دریا کے ٹھنڈے پانی میں
میری خاطر وہ سرد آم کرے
دشت کی آتشیں شعاعوں پر
شامِ قوسِ قزح خرام کرے
غم سے کہنا کہ آج پلکوں پر
محفلِ شب کا اہتمام کرے
کوئی منصور روز و شب میرے
اپنی آسودگی کے نام کرے
منصور آفاق

یاد ہے وصل کی سبز اتوار تھی شام کا پیڑ تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 97
ناریل کے درختوں کی شاخوں میں بادام کا پیڑ تھا
یاد ہے وصل کی سبز اتوار تھی شام کا پیڑ تھا
قمقموں سے پرویا ہوا، روشنی سے بھگویا ہوا
برف کے ڈھیر میں سرخ سا زخمِ ناکام کا پیڑ تھا
شاعری نہر کے ساتھ چلتی ہوئی چاپ تھی خواب کی
رات نظموں کی فٹ پاتھ تھی چاند الہام کا پیڑ تھا
میں ثمر باریوں کی توقع لئے دیکھتا تھا اسے
جو کرائے کے گھر میں لگایا ابھی آم کا پیڑ تھا
ایک دہکی ہوئی آگ کے تھے شمالی پہاڑوں پہ پھول
اک دہکتے چناروں میں کشمیر کے نام کا پیڑ تھا
جس کے پتوں سے تصویر کھینچی گئی میرے کردار کی
ٹہنیوں سے کئی جھوٹ لٹکے تھے، الزام کا پیڑ تھا
اک طرف نیکیوں کا شجر تھا سفیدی پھری قبر سا
اک طرف لمس افزا گناہِ سیہ فام کا پیڑ تھا
زلزلے بھی وبائیں بھی سیلاب بھی شاخ درشاخ تھے
ساری بستی پہ پھیلا ہوا کوئی آلام کا پیڑ تھا
سب پھلوں کے مگر مختلف ذائقے ، مختلف رنگ تھے
اپنی تفہیم کے باغ میں تازہ افہام کا پیڑ تھا
جس شجر کی جوانی کومیں چھوڑ آیا بہاروں کے بیچ
گالیاں چھاؤں میں چہچہاتی تھیں دشنام کا پیڑ تھا
کوئی انبوہ تھا اہلِ اسباب کا اس کی آغوش میں
کیا ہوس کار گلزار میں درہم و دام کا پیڑ تھا
برگ و بار اس پہ آئے ہوئے تھے نئی شاعری کے بہت
ایک دریا کے مبہم کنارے پہ ابہام کا پیڑ تھا
آگ ہی آگ تھی اس کی شاخوں میں پھیلی ہوئی لمس کی
باغِ فردوس میں ایک ممنوعہ مادام کا پیڑ تھا
اک جڑوں سے لپیٹی ہوئی موت کی بیل کی چیخ تھی
زندگی ، شورِ واہی تباہی تھی ، سرسام کا پیڑ تھا
جس سے منصور گنتے پرندے پھریں اپنی تنہائیاں
حسنِ تقویم کے صحن میں ایک ایام کا پیڑ تھا
منصور آفاق

کیا اس کی اجازت بھی اسلام نہیں دیتا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 24
وہ بات نہیں کرتا، دشنام نہیں دیتا
کیا اس کی اجازت بھی اسلام نہیں دیتا
بندوق کے دستے پر تحریر تھا امریکا
میں قتل کا بھائی کو الزام نہیں دیتا
کچھ ایسے بھی اندھے ہیں کہتے ہیں خدا اپنا
پیشانی پہ سورج کی کیوں نام نہیں دیتا
رستے پہ بقا کے بس قائم ہے منافع بخش
اْس پیڑ نے کٹنا ہے جو آم نہیں دیتا
اب سامنے سورج کے برسات نہیں ہوتی
دکھ آنکھ نہیں بھرتے غم کام نہیں دیتا
موتی میری پلکوں کے بازار میں رُلتے ہیں
کوئی بھی جواہر کے اب دام نہیں دیتا
اوراقِ گل و لالہ لکھے ہوئے لے جائے
جو صبحِ غزل جیسی اک شام نہیں دیتا
کرداروں کے چہروں پر چھریاں ہیں ابھر آئیں
پھر بھی وہ کہانی کو انجام نہیں دیتا
بیڈ اپنا بدل لینا منصور ضروری ہے
یہ خواب دکھاتا ہے، آرام نہیں دیتا
منصور آفاق