ٹیگ کے محفوظات: آمد

بوزنہ سا رہ گیا ہے ، قامت و قد کے بغیر

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 110
کل جو آمر تھا اس ے اب دیکھ مسند کے بغیر
بوزنہ سا رہ گیا ہے ، قامت و قد کے بغیر
آدمی کو اک ذرا انسان ہو لینے تو دو
تم کو ہر بستی نظر آئے گی سرحد کے بغیر
خواب میں یہ بھی کرشمہ ہے اسی کے خواب کا
یعنی دن نکلا ہوا ہے اس کی آمد کے بغیر
تم بتاؤ وہ بڑے آدرش والے کیا ہوئے
کیا برا ہے ہم اگر زندہ ہیں مقصد کے بغیر
آفتاب اقبال شمیم

زمیں کو عیدِ میلادِ محمدﷺ پر مبارک باد

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 153
گلستاں کو بہارِ سبز گنبد پر مبارک باد
زمیں کو عیدِ میلادِ محمدﷺ پر مبارک باد
شعورِ ذہنِ انسانی جہاں منزل تلک پہنچا
دماغو! اُس خرد کی آخری حد پر مبارک باد
جہاں کو ہدیۂ تبریک کالی کملی پر میرا
جہاں کو آسمانِ شالِ اسود پر مبارک باد
زمیں پر نائبِ اللہ ہونے کی نوید آئی
مقامِ جانشینِ کُن کی مسند پر مبارک باد
تجھے رحمت بھرے بارہ ربیع اول کے دن منصور
رسولِ اقدس و اعظم کی آمد پر مبارک باد
منصور آفاق