ٹیگ کے محفوظات: آفاق

زندگانی اب تو کرنا شاق ہے

دیوان سوم غزل 1309
دل کی بیماری سے طاقت طاق ہے
زندگانی اب تو کرنا شاق ہے
دم شماری سی ہے رنج قلب سے
اب حساب زندگی بیباق ہے
اپنی عزلت رکھتی ہے عالم ہی اور
یہ سیہ رو شہرئہ آفاق ہے
فرط خجلت سے گرا جاتا ہے سرو
قد دلکش اس کا بالا چاق ہے
دل زدہ کو اس کے دیکھا نزع میں
تھا نمودار آنکھ سے مشتاق ہے
رنگ میں اس کے جھمک ہے برق کی
سطح کیا رخسار کا براق ہے
گو خط اس کے پشت لب کا زہر ہو
بوسۂ کنج دہن تریاق ہے
خشک کر دیتی ہے گرمی عشق کی
بیدصحرائی سا مجنوں قاق ہے
مت پڑا رہ دیر کے ٹکڑوں پہ میر
اٹھ کے کعبے چل خدا رزاق ہے
میر تقی میر

پروازِ مسلسل میں ہیں ، براق نشیں ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 373
الفاظ پہن کر ہمی اوراق نشیں ہیں
پروازِ مسلسل میں ہیں ، براق نشیں ہیں
یہ بات الگ روشنی ہوتی ہے کہیں اور
ہم مثلِ چراغِ شبِ غم طاق نشیں ہیں
سورج کی طرف دیکھنے والوں کی قسم ہم
اک خوابِ عشاء اوڑھ کے اشراق نشیں ہیں
چاہیں تو زباں کھینچ لیں انکار کی ہم لوگ
بس خوفِ خدا ہے ہمیں ، اشفاق نشیں ہیں
آتی ہیں شعاعوں سے انا الحق کی صدائیں
ہم نورِ ہیں منصور ہیں آفاق نشیں ہیں
منصور آفاق