ٹیگ کے محفوظات: آشیان

آنکھیں ہماری لگ رہی ہیں آسمان سے

دیوان ششم غزل 1915
اب دشت عشق میں ہیں بتنگ آئے جان سے
آنکھیں ہماری لگ رہی ہیں آسمان سے
پڑتا ہے پھول برق سے گلزار کی طرف
دھڑکے ہے جی قفس میں غم آشیان سے
یک دست جوں صداے جرس بیکسی کے ساتھ
میں ہر طرف گیا ہوں جدا کاروان سے
تم کو تو التفات نہیں حال زار پر
اب ہم ملیں گے اور کسو مہربان سے
تم ہم سے صرفہ ایک نگہ کا کیا کیے
اغماض ہم کو اپنے ہے جی کے زیان سے
جاتے ہیں اس کی اور تو عشاق تیر سے
قامت خمیدہ ان کے اگر ہیں کمان سے
دلکش قد اس کا آنکھوں تلے ہی پھرا کیا
صورت گئی نہ اس کی ہمارے دھیان سے
آتا نہیں خیال میں خوش رو کوئی کبھو
تو مار ڈالیو نہ مجھے اس گمان سے
آنکھوں میں آ کے دل سے نہ ٹھہرا تو ایک دم
جاتا ہے کوئی دید کے ایسے مکان سے
دیں گالیاں انھیں نے وہی بے دماغ ہیں
میں میر کچھ کہا نہیں اپنی زبان سے
میر تقی میر

وقت شکیب خوش کہ گیا درمیان سے

دیوان اول غزل 609
بیتابیوں میں تنگ ہم آئے ہیں جان سے
وقت شکیب خوش کہ گیا درمیان سے
داغ فراق و حسرت وصل آرزوے دید
کیا کیا لیے گئے ترے عاشق جہان سے
ہم خامشوں کا ذکر تھا شب اس کی بزم میں
نکلا نہ حرف خیر کسو کی زبان سے
آب خضر سے بھی نہ گئی سوزش جگر
کیا جانیے یہ آگ ہے کس دودمان سے
جز عشق جنگ دہر سے مت پڑھ کہ خوش ہیں ہم
اس قصے کی کتاب میں اس داستان سے
آنے کا اس چمن میں سبب بے کلی ہوئی
جوں برق ہم تڑپ کے گرے آشیان سے
اب چھیڑ یہ رکھی ہے کہ عاشق ہے تو کہیں
القصہ خوش گذرتی ہے اس بدگمان سے
کینے کی میرے تجھ سے نہ چاہے گا کوئی داد
میں کہہ مروں گا اپنے ہر اک مہربان سے
داغوں سے ہے چمن جگر میر دہر میں
ان نے بھی گل چنے بہت اس گلستان سے
میر تقی میر

سپہر نیلی کا یہ سائبان جل جاوے

دیوان اول غزل 511
کروں جو آہ زمین و زمان جل جاوے
سپہر نیلی کا یہ سائبان جل جاوے
دی آگ دل کو محبت نے جب سے پھرتا ہوں
میں جس طرح کسو کا خانمان جل جاوے
دوا پذیر نہیں اے طبیب تپ غم کی
بدن میں ٹک رہے تو استخوان جل جاوے
نہ آوے سوز جگر منھ پہ شمع ساں اے کاش
بیان کرنے سے آگے زبان جل جاوے
ہمارے نالے بھی آتش ہی کے ہیں پرکالے
سنے تو بلبل نالاں کی جان جل جاوے
ہزار حیف کہ دل خار و خس سے باندھے کوئی
خزاں میں برق گرے آشیان جل جاوے
متاع سینہ سب آتش ہے فائدہ کس کا
خیال یہ ہے مبادا دکان جل جاوے
نہ پوچھ کچھ لب ترسا بچے کی کیفیت
کہوں تو دختر رز کی فلان جل جاوے
نہ بول میر سے مظلوم عشق ہے وہ غریب
مبادا آہ کرے سب جہان جل جاوے
میر تقی میر

یہ بلا آسمان پر آئی

دیوان اول غزل 436
آہ میری زبان پر آئی
یہ بلا آسمان پر آئی
عالم جاں سے تو نہیں آیا
ایک آفت جہان پر آئی
پیری آفت ہے پھر نہ تھا گویا
یہ بلا جس جوان پر آئی
ہم بھی حاضر ہیں کھینچیے شمشیر
طبع گر امتحان پر آئی
تب ٹھکانے لگی ہماری خاک
جب ترے آستان پر آئی
آتش رنگ گل سے کیا کہیے
برق تھی آشیان پر آئی
طاقت دل برنگ نکہت گل
پھیر اپنے مکان پر آئی
ہو جہاں میر اور غم اس کا
جس سے عالم کی جان پر آئی
میر تقی میر