ٹیگ کے محفوظات: آشیانہ

وہ سنہری زمانہ ہوتا ہے

طَور جب عاشقانہ ہوتا ہے
وہ سنہری زمانہ ہوتا ہے
کچھ نہیں جن کے پاس اُن کے پاس
خواہشوں کا خزانہ ہوتا ہے
دل کسی کا کسی کے کہنے سے
کبھی پہلے ہوا نہ ہوتا ہے
بجلیوں کا ہدف نجانے کیوں
ایک ہی آشیانہ ہوتا ہے
غم نہیں اب جو ہم ہیں غیر فعال
اپنا اپنا زمانہ ہوتا ہے
دیکھتے ہیں تمہاری بستی میں
کب تلک آب و دانہ ہوتا ہے
دوستو کر لیا بہت آرام
کارواں اب روانہ ہوتا ہے
ڈھونڈتے ہیں جو آپ باصرِؔ کو
اُس کا کوئی ٹھکانہ ہوتا ہے
باصر کاظمی

تمہارا ذکر رہا یا مرا فسانہ رہا

مجید امجد ۔ غزل نمبر 60
کوئی بھی دَور سرِ محفلِ زمانہ رہا
تمہارا ذکر رہا یا مرا فسانہ رہا
مرے نشانِ قدم دشتِ غم پہ ثبت رہے
اَبد کی لوح پہ تقدیر کا لکھا نہ رہا
وہ کوئی کنجِ سمن پوش تھا کہ تودۂ خس
اک آشیانہ بہرحال آشیانہ رہا
تم اک جزیرۂ دل میں سمٹ کے بیٹھ رہے
مری نگاہ میں طوفانِ صد زمانہ رہا
طلوعِ صبح کہاں، ہم طلوع ہوتے گئے
ہمارا قافلۂ بے درا روانہ رہا
یہ پیچ پیچ بھنور، اس کی اک گرہ تو کھلی
کوئی تڑپتا سفینہ رہا رہا نہ رہا
نہ شاخ گل پہ نشیمن نہ رازِ گل کی خبر
وہ کیا رہا جو جہاں میں قلندرانہ رہا
?1952
مجید امجد