ٹیگ کے محفوظات: آشیانہ

تمہیں خبر کیا ہنسا ہے کیا کیا رُلا رُلا کے ہمیں زمانہ

نہ کوئی مونس نہ کوئی ہمدم کہیَں تَو کس سے کہیَں فسانہ
تمہیں خبر کیا ہنسا ہے کیا کیا رُلا رُلا کے ہمیں زمانہ
بسی تَو بستی ہمارے دل کی چلو بالآخر اِسی بَہانے
مِلا نہ کون و مکاں میں رنج و غم و اَلَم کو کوئی ٹھکانہ
قسم ہے تجھ کو بھی اے ستمگر شریکِ بزمِ طرب ہو آ کر
زمانہ خوشیاں منا رہا ہے جلا رہا ہُوں میں آشیانہ
جہاں کی نیرنگیوں سے شکوہ ہو کیا کہ تم خود بدل گئے ہو
نظر اُٹھاؤ اِدھر تَو دیکھو بنا رہے ہو عبَث بہانہ
ہر اِک طبیعت ہوئی ہے مضطر ہر اِک کو بھُولا ہے روزِ محشر
بہت پریشاں ہیں آج وہ بھی حضورِ حق ہے مرا فسانہ
سکونِ دل آج بھی ہے غارت ملے نہیں گو کہ مدّتوں سے
قدم قدم پر ہے بے قراری کو یادِ ماضی کا تازیانہ
وہ کس رعونت سے کہہ رہے ہیں اگر نہ ہَوں ہم کسی کے ضامنؔ
تو وہ سمجھ لے کہ اُٹھ گیا اِس جہان سے اُس کا آب و دانہ
ضامن جعفری

وہ سنہری زمانہ ہوتا ہے

طَور جب عاشقانہ ہوتا ہے
وہ سنہری زمانہ ہوتا ہے
کچھ نہیں جن کے پاس اُن کے پاس
خواہشوں کا خزانہ ہوتا ہے
دل کسی کا کسی کے کہنے سے
کبھی پہلے ہوا نہ ہوتا ہے
بجلیوں کا ہدف نجانے کیوں
ایک ہی آشیانہ ہوتا ہے
غم نہیں اب جو ہم ہیں غیر فعال
اپنا اپنا زمانہ ہوتا ہے
دیکھتے ہیں تمہاری بستی میں
کب تلک آب و دانہ ہوتا ہے
دوستو کر لیا بہت آرام
کارواں اب روانہ ہوتا ہے
ڈھونڈتے ہیں جو آپ باصرِؔ کو
اُس کا کوئی ٹھکانہ ہوتا ہے
باصر کاظمی

تمہارا ذکر رہا یا مرا فسانہ رہا

مجید امجد ۔ غزل نمبر 60
کوئی بھی دَور سرِ محفلِ زمانہ رہا
تمہارا ذکر رہا یا مرا فسانہ رہا
مرے نشانِ قدم دشتِ غم پہ ثبت رہے
اَبد کی لوح پہ تقدیر کا لکھا نہ رہا
وہ کوئی کنجِ سمن پوش تھا کہ تودۂ خس
اک آشیانہ بہرحال آشیانہ رہا
تم اک جزیرۂ دل میں سمٹ کے بیٹھ رہے
مری نگاہ میں طوفانِ صد زمانہ رہا
طلوعِ صبح کہاں، ہم طلوع ہوتے گئے
ہمارا قافلۂ بے درا روانہ رہا
یہ پیچ پیچ بھنور، اس کی اک گرہ تو کھلی
کوئی تڑپتا سفینہ رہا رہا نہ رہا
نہ شاخ گل پہ نشیمن نہ رازِ گل کی خبر
وہ کیا رہا جو جہاں میں قلندرانہ رہا
?1952
مجید امجد