ٹیگ کے محفوظات: آسماں

یہاں بھی دل جلے گا اور وہاں بھی

نہیں کچھ فرق اب رہیے جہاں بھی
یہاں بھی دل جلے گا اور وہاں بھی
بیاباں کی شکایت کیسی یارو
ہوا پرخار اب تو گُلستاں بھی
معلق ہو گئے باصرِؔ فضا میں
زمیں چھوٹی تو روٹھا آسماں بھی
باصر کاظمی

تیری آسودہ حالی کی امید پر، کر گئے ہم تو اپنا زیاں یا اخی

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 56
رزق کی جستجو میں کسے تھی خبر، تُو بھی ہو جائے گا رائگاں یا اخی
تیری آسودہ حالی کی امید پر، کر گئے ہم تو اپنا زیاں یا اخی
جب نہ تھا یہ بیابانِ دیوار و در، جب نہ تھی یہ سیاہی بھری رہگزر
کیسے کرتے تھے ہم گفتگو رات بھر، کیسے سنتا تھا یہ آسماں یا اخی
جب یہ خواہش کا انبوہِ وحشت نہ تھا، شہر اتنا تہی دستِ فرصت نہ تھا
کتنے آباد رہتے تھے اہلِ ہنر، ہر نظر تھی یہاں مہرباں یا اخی
یہ گروہِ اسیرانِ کذب و ریا، بندگانِ درم بندگانِ انا
ہم فقط اہلِ دل یہ فقط اہلِ زر، عمر کیسے کٹے گی یہاں یا اخی
خود کلامی کا یہ سلسلہ ختم کر، گوش و آواز کا فاصلہ ختم کر
اک خموشی ہے پھیلی ہوئی سر بہ سر، کچھ سخن چاہیے درمیاں یا اخی
جسم کی خواہشوں سے نکل کر چلیں، زاویہ جستجو کا بدل کا چلیں
ڈھونڈنے آگہی کی کوئی رہگزر، روح کے واسطے سائباں یا اخی
ہاں کہاتھا یہ ہم نے بچھڑتے ہوئے، لوٹ آئیں گے ہم عمر ڈھلتے ہوئے
ہم نے سوچا بھی تھا واپسی کا مگر، پھر یہ سوچا کہ تُو اب کہاں یا اخی
خود شناسی کے لمحے بہم کب ہوئے، ہم جو تھے درحقیقت وہ ہم کب ہوئے
تیرا احسان ہو تُو بتا دے اگر، کچھ ہمیں بھی ہمارا نشاں یا اخی
قصۂ رنج و حسرت نہیں مختصر، تجھ کو کیا کیا بتائے گی یہ چشمِ تر
آتش غم میں جلتے ہیں قلب و جگر، آنکھ تک آ رہا ہے دھواں یا اخی
عمر کے باب میں اب رعایت کہاں، سمت تبدیل کرنے کی مہلت کہاں
دیکھ بادِ فنا کھٹکھٹاتی ہے در، ختم ہونے کو ہے داستاں یا اخی
ہو چکا سب جو ہونا تھا سود و زیاں، اب جو سوچیں تو کیا رہ گیا ہے یہاں
اور کچھ فاصلے کا یہ رختِ سفر، اور کچھ روز کی نقدِ جاں یا اخی
تُو ہمیں دیکھ آ کر سرِ انجمن، یوں سمجھ لے کہ ہیں جانِ بزمِ سخن
ایک تو روداد دلچسپ ہے اس قدر، اور اس پر ہمارا بیاں یا اخی
عرفان ستار

مگر جو کچھ نہیں، وہ سب یہاں باقی رہے گا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 9
یہاں جو ہے کہاں اُس کا نشاں باقی رہے گا
مگر جو کچھ نہیں، وہ سب یہاں باقی رہے گا
سفر ہو گا سفر کی منزلیں معدوم ہوں گی
مکاں باقی نہ ہو گا لا مکاں باقی رہے گا
کبھی قریہ بہ قریہ اور کبھی عالم بہ عالم
غبارِ ہجرتِ بے خانماں باقی رہے گا
ہمارے ساتھ جب تک درد کی دھڑکن رہے گی
ترے پہلو میں ہونے کا گماں باقی رہے گا
بہت بے اعتباری سے گزر کر دل ملے ہیں
بہت دن تک تکلف درمیاں باقی رہے گا
رہے گا آسماں جب تک زمیں باقی رہے گی
زمیں قائم ہے جب تک آسماں باقی رہے گا
یہ دنیا حشر تک آباد رکھی جا سکے گی
یہاں ہم سا جو کوئی خوش بیاں باقی رہے گا
جنوں کو ایسی عمرِ جاوداں بخشی گئی ہے
قیامت تک گروہِ عاشقاں باقی رہے گا
تمدن کو بچا لینے کی مہلت اب کہاں ہے
سر گرداب کب تک بادباں باقی رہے گا
کنارہ تا کنارہ ہو کوئی یخ بستہ چادر
مگر تہہ میں کہیں آبِ رواں باقی رہے گا
ہمارا حوصلہ قائم ہے جب تک سائباں ہے
خدا جانے کہاں تک سائباں باقی رہے گا
تجھے معلوم ہے یا کچھ ہمیں اپنی خبر ہے
سو ہم مر جائیں گے تُو ہی یہاں باقی رہے گا
عرفان ستار

سب جیسے اڑ گئی ہے رنگینی گلستاں کی

دیوان ششم غزل 1916
گلبرگ سی زباں سے بلبل نے کیا فغاں کی
سب جیسے اڑ گئی ہے رنگینی گلستاں کی
مطلوب گم کیا ہے تب اور بھی پھرے ہے
بے وجہ کچھ نہیں ہے گردش یہ آسماں کی
مائل ستم کے ہونا جور و جفا بھی کرنا
انصاف سے یہ کہنا یہ رسم ہے کہاں کی
ہے سبزئہ لب جو اس لطف سے چمن میں
جوں بھیگتی مسیں ہوں کوئی سرو نوجواں کی
میں گھر جہاں میں اپنے لڑکوں کے سے بنائے
جب چاہا تب مٹایا بنیاد کیا جہاں کی
صوم و صلوٰۃ یکسو میخانے میں جو تھے ہم
آواز بھی نہ آئی کانوں میں یاں اذاں کی
جب سامنے گئے ہم ہم نے اسے دعا دی
شکل ان نے دیکھتے ہی غصہ کیا زباں کی
دیکھیں تو میر کیونکر ہجراں میں ہم جیے ہیں
ہے اضطراب دل کا بے طاقتی ہے جاں کی
میر تقی میر

پھر زمانے میں کہاں تم ہم کہاں

دیوان ششم غزل 1844
رابطہ باہم ہے کوئی دن کا یاں
پھر زمانے میں کہاں تم ہم کہاں
گم ہوا ہوں یاں سے جاکر میں جہاں
کچھ نہیں پیدا کہاں میرا نشاں
پیری میں ہے طفل مکتب سا جہول
ہے فلک کرنے کے قابل آسماں
تو کہے واں ناگہاں بجلی گری
وہ نگاہ تند کرتا ہے جہاں
بھولے بھی میں یک نظر دیکھا نہیں
اس پہ ہے وہ بے دماغ و بدگماں
عشق نے تکلیف کی مالایطاق
بار امانت کا گراں میں ناتواں
کام کچھ آئی نہ دل کی بھی کشش
کھنچ رہا ہے ہم سے وہ ابرو کماں
کیا چھپی ہیں باتیں میرے عشق کی
داستاں در داستاں ہے داستاں
عشق میں کیونکر بسر کریے گا عمر
دل لگا ہے جس سے سو نامہرباں
جو زمیں پالغز تھی شاید کہ میر
ہو وہیں مسجود اس کا آستاں
میر تقی میر

آشوب نالہ اب تو پہنچا ہے آسماں تک

دیوان ششم غزل 1832
وہ تو نہیں کہ اودھم رہتا تھا آشیاں تک
آشوب نالہ اب تو پہنچا ہے آسماں تک
لبریز جلوہ اس کا سارا جہاں ہے یعنی
ساری ہے وہ حقیقت جاوے نظر جہاں تک
ہجراں کی سختیوں سے پتھر دل و جگر ہیں
صبر اس کی عاشقی میں کوئی کرے کہاں تک
سوداے عاشقی میں نقصاں ہے جی کا لیکن
ہم راضی ہورہے ہیں اپنے زیان جاں تک
وا ماندہ نقش پا سے یک دشت ہم ہیں بیکس
دشوار ہے پہنچنا اب اپنا کارواں تک
جی مارتے ہیں دلبر عاشق کا اس خطر سے
حرف وفا نہ آیا اپنی کبھو زباں تک
دل دھڑکے ہے جو بجلی چمکے ہے سوے گلشن
پہنچے مبادا میری خاشاک آشیاں تک
دیواروں سے بھی مارا پتھروں سے پھوڑ ڈالا
پہنچا نہ سر ہمارا حیف اس کے آستاں تک
یہ تنگی و نزاکت اس رنگ سے کہاں ہے
گل برگ و غنچے پہنچیں کب ان لب و دہاں تک
ان جلتی ہڈیوں پر ہرگز ہما نہ بیٹھے
پہنچی ہے عشق کی تب اے میر استخواں تک
میر تقی میر

کی تم نے مہربانی بے خانماں کے اوپر

دیوان ششم غزل 1823
آئے ہو گھر سے اٹھ کر میرے مکاں کے اوپر
کی تم نے مہربانی بے خانماں کے اوپر
پھولوں سے اٹھ نگاہیں مکھڑے پہ اس کے ٹھہریں
وہ گل فروش کا جو آیا دکاں کے اوپر
برسات اب کے گذری خوف و خطر میں ساری
چشمک زناں رہی ہے برق آشیاں کے اوپر
رخسار سا کسو کے کاہے کو ہے فروزاں
ہر چند ماہ تاباں ہے آسماں کے اوپر
بے سدھ پڑا رہوں ہوں بستر پہ رات دن میں
کیا آفت آگئی ہے اس نیم جاں کے اوپر
عشق و ہوس میں کچھ تو آخر تمیز ہو گی
آئی طبیعت اس کی گر امتحاں کے اوپر
الفت کی کلفتوں میں معلوم ہے ہوئی وہ
تھا اعتماد کلی تاب و تواں کے اوپر
محو دعا تھا اکثر غیرت سے لیک گاہے
آیا نہ نام اس کا میری زباں کے اوپر
وہ جان و دل کی خواہش آیا نہیں جہاں میں
آئی ہے اک قیامت اہل جہاں کے اوپر
کیا لوگ ہیں محباں سوداے عاشقی میں
اغماض کرتے ہیں سب جی کے زیاں کے اوپر
حیرت سے اس کے روکی چپ لگ گئی ہے ایسی
گویا کہ مہر کی ہے میرے دہاں کے اوپر
جو راہ دوستی میں اے میر مرگئے ہیں
سر دیں گے لوگ ان کے پا کے نشاں کے اوپر
میر تقی میر

بیمار مرا گراں بہت ہے

دیوان پنجم غزل 1768
دل پہلو میں ناتواں بہت ہے
بیمار مرا گراں بہت ہے
ہر آن شکیب میں کمی ہے
بیتابی زماں زماں بہت ہے
مقصود کو دیکھیں پہنچے کب تک
گردش میں تو آسماں بہت ہے
جی کو نہیں لاگ لامکاں سے
ہم کو کوئی دل مکاں بہت ہے
گو خاک سے گور ہووے یکساں
گم گشتے کا یہ نشاں بہت ہے
جاں بخشی غیر ہی کیا کر
مجھ کو یہی نیم جاں بہت ہے
اکثر پوچھے ہے جیتے ہیں میر
اب تو کچھ مہرباں بہت ہے
میر تقی میر

کر ہاتھ ٹک ملا کے کوئی پہلواں ہلاک

دیوان پنجم غزل 1665
اے عشق کیا جو مجھ سا ہوا ناتواں ہلاک
کر ہاتھ ٹک ملا کے کوئی پہلواں ہلاک
میں چل بسا تو شہر ہی ویران سب ہوا
اس نیم جاں کے بدلے ہوا یک جہاں ہلاک
مقصود گم ہے پھرتا جو رہتا ہے رات دن
ہلکان ہو کے ہو گا کبھو آسماں ہلاک
اس ظلم کیش کی ہے طرب گاہ ہر کہیں
عاشق خدا ہی جانے ہوا ہے کہاں ہلاک
جی میر نے دیا نہ ہوا لیک وصل یار
افسوس ہے کہ مفت ہوا یہ جواں ہلاک
میر تقی میر

پر حوصلے سے شکوہ آیا نہیں زباں تک

دیوان پنجم غزل 1661
اب رنج و درد و غم کا پہنچا ہے کام جاں تک
پر حوصلے سے شکوہ آیا نہیں زباں تک
آواز کے ہماری تم حزن پر نہ جائو
یہ نالۂ حزیں تو جاتے ہیں آسماں تک
رونا جہاں جہاں تو عین آرزو ہے لیکن
روتا ہوں رویا جاوے میرے کنے جہاں تک
اکثر صداع مجھ کو رہتا ہے عاشقی میں
تصدیع درد و غم سے کھینچے کوئی کہاں تک
آوارہ ہی ہوئے ہم سر مار مار یعنی
نوپر نکل گئے ہیں اپنے سب آشیاں تک
اے وائے بے نصیبی سر سے بھی گذرے لیکن
پیشانی ٹک نہ پہنچی اس خاک آستاں تک
نفع کثیر اٹھایا کر عشق کی تجارت
راضی ہیں میر اب تو ہم جان کے زیاں تک
میر تقی میر

میرا دماغ تب سے ہے ہفتم آسماں پر

دیوان پنجم غزل 1620
شوریدہ سر رکھا ہے جب سے اس آستاں پر
میرا دماغ تب سے ہے ہفتم آسماں پر
گھائل گرا رہا ہے فتراک سے بندھا ہے
کیا کیا ستم ہوئے ہیں اس صید ناتواں پر
لطف بدن کو اس کے ہرگز پہنچ سکے نہ
جا پڑتی تھی ہمیشہ اپنی نگاہ جاں پر
خاشاک و خار و خس کو کر ایک جا جلایا
کیا چشم شور برق خاطف تھی آشیاں پر
وہ باغباں پسر کچھ گل گل شگفتہ ہے اب
یہ اور گل کھلا ہے اک پھولوں کی دکاں پر
پرکالے آگ کے تھے کیا نالہ ہاے بلبل
شبنم سے آبلے ہیں گل برگ سی زباں پر
دل کیا مکاں پھر اس کا کیا صحن میر لیکن
غالب ہے سعی میں تو میدان لامکاں پر
میر تقی میر

تسکیں نہیں ہے جان کو آب رواں سے بھی

دیوان چہارم غزل 1518
ہوتی نہیں تسلی دل گلستاں سے بھی
تسکیں نہیں ہے جان کو آب رواں سے بھی
تا یہ گرفتہ وا ہو کہاں لے کے جائیے
آئے ہیں اس کی غنچگی میں تنگ جاں سے بھی
آگے تھی شوخی ہم سے کنایوں میں چپ تھے ہم
مشکل ہے اب برا لگے کہنے زباں سے بھی
ہر چند دست بیع جواناں ہوں میں ولے
اک اعتقاد رکھتا ہوں پیرمغاں سے بھی
جھنجھلاہٹ اور غصے میں ہجران یار کے
جھگڑا ہمیں رہے ہے زمیں آسماں سے بھی
دنیا سے درگذر کہ گذرگہ عجب ہے یہ
درپیش یعنی میر ہے جانا جہاں سے بھی
لشکر میں ہے مبیت اسی بات کے لیے
کہتے ہیں لوگ کوچ ہے کل صبح یاں سے بھی
میر تقی میر

اک نالہ حوصلے سے بس ہے وداع جاں کو

دیوان چہارم غزل 1467
دیتی ہے طول بلبل کیا شورش فغاں کو
اک نالہ حوصلے سے بس ہے وداع جاں کو
میں تو نہیں پر اب تک مستانہ غنچے ہوکر
کہتے ہیں مرغ گلشن سے میری داستاں کو
نالاں تو ہیں مجھی سے پر وہ اثر کہاں ہے
گو طائر گلستاں سیکھے مری زباں کو
کیا جانیے کہ کیا کچھ پردے سے ہووے ظاہر
رہتے ہیں دیکھتے ہم ہر صبح آسماں کو
اس چشم سرخ پر ہے وہ ابروے کشیدہ
جوں ترک مست رکھ لے سر کے تلے کماں کو
میری نگاہ میں تو معدوم سب ہیں وے ہی
موجود بھی نہ جانا اس راہ سے جہاں کو
بعد از نماز تھے کل میخانے کے در اوپر
کیا جانے میر واں سے پھر اٹھ گئے کہاں کو
میر تقی میر

پیدا ہے عشق کشتے کا اس کے نشاں ہنوز

دیوان چہارم غزل 1394
ہے زیرخاک لاشۂ عاشق طپاں ہنوز
پیدا ہے عشق کشتے کا اس کے نشاں ہنوز
گردش سے اس کی خاک برابر ہوئی ہے خلق
استادہ روے خاک پہ ہے آسماں ہنوز
اس تک پہنچنے کا تو نہیں حال کچھ ولے
جاتے ہیں گرتے پڑتے بھی ہم ناتواں ہنوز
پروانہ جل کے خاک ہوا پھر اڑا کیا
اے شمع تیری رہتی نہیں ہے زباں ہنوز
چندیں ہزار جانیں گئیں اس کی راہ میں
ایک آدھ تو بھی مر رہے ہیں نیم جاں ہنوز
مدت ہوئی کہ خوار ہو گلیوں میں مر گئے
قصہ ہمارے عشق کا ہے داستاں ہنوز
لخت جگر کے غم میں کہ تھا لعل پارہ میر
رخسار زرد پر ہے مرے خوں رواں ہنوز
میر تقی میر

کی عشق نے خرابی سے اس خانداں کی طرح

دیوان چہارم غزل 1374
کیا ہم بیاں کسو سے کریں اپنے ہاں کی طرح
کی عشق نے خرابی سے اس خانداں کی طرح
جوں سبزہ چل چمن میں لب جو پہ سیر کر
عمر عزیز جاتی ہے آب رواں کی طرح
جو سقف بے عمد ہو نہیں اس کا اعتماد
کس خانماں خراب نے کی آسماں کی طرح
اثبات بے ثباتی ہوا ہوتا آگے تو
کیوں اس چمن میں ڈالتے ہم آشیاں کی طرح
اب کہتے ہیں بلا ہے ستم کش یہ پیرگی
قد جو ہوا خمیدہ ہمارا کماں کی طرح
نقصان جاں صریح تھا سودے میں عشق کے
ہم جان کر نکالی ہے جی کے زیاں کی طرح
دل کو جو خوب دیکھا تو ہو کا مکان ہے
ہے اس مکاں میں ساری وہی لامکاں کی طرح
کل دیکھ آفتاب کو رویا ہوں دیر تک
غصے میں ایسی ہی تھی مرے مہرباں کی طرح
جاوے گا اپنی بھول طرح داری میر وہ
کچھ اور ہو گئی جو کسو ناتواں کی طرح
میر تقی میر

اب کیسے لوگ آئے زمیں آسماں کے بیچ

دیوان چہارم غزل 1370
آگے تو رسم دوستی کی تھی جہاں کے بیچ
اب کیسے لوگ آئے زمیں آسماں کے بیچ
میں بے دماغ عشق اٹھا سو چلا گیا
بلبل پکارتی ہی رہی گلستاں کے بیچ
تحریک چلنے کی ہے جو دیکھو نگاہ کر
ہیئت کو اپنی موجوں میں آب رواں کے بیچ
کیا میل ہو ہما کی پس از مرگ میری اور
ہے جاے گیر عشق کی تب استخواں کے بیچ
کیا جانوں لوگ کہتے ہیں کس کو سرور قلب
آیا نہیں یہ لفظ تو ہندی زباں کے بیچ
طالع سے بن گئی کہ ہم اس مہ کنے گئے
بگڑی تھی رات اس کے سگ و پاسباں کے بیچ
اتنی جبین رگڑی کہ سنگ آئینہ ہوا
آنے لگا ہے منھ نظر اس آستاں کے بیچ
خوگر ہوئے ہیں عشق کی گرمی سے خار و خس
بجلی پڑی رہی ہے مرے آشیاں کے بیچ
اس روے برفروختہ سے جی ڈرے ہے میر
یہ آگ جا لگے گی کسو دودماں کے بیچ
میر تقی میر

خلل سا ہے دماغ آسماں میں

دیوان سوم غزل 1186
نئی گردش ہے اس کی ہر زماں میں
خلل سا ہے دماغ آسماں میں
ہوا تن ضعف سے ایسا کہے تو
کہ اب جی ہی نہیں اس ناتواں میں
کہا میں درد دل یا آگ اگلی
پھپھولے پڑ گئے میری زباں میں
متاع حسن یوسفؑ سی کہاں اب
تجسس کرتے ہیں ہر کارواں میں
بلاے جاں ہے وہ لڑکا پری زاد
اسی کا شور ہے پیر و جواں میں
بہت ناآشنا تھے لوگ یاں کے
چلے ہم چار دن رہ کر جہاں میں
تری شورش بھی بے کل ہے مگر میر
ملا دے پیس کر بجلی فغاں میں
میر تقی میر

کچھ ہورہے ہیں غم میں ترے نیم جاں سے ہم

دیوان سوم غزل 1171
آ ٹک شتاب جاتے ہیں ورنہ جہاں سے ہم
کچھ ہورہے ہیں غم میں ترے نیم جاں سے ہم
ہر بات کے جواب میں گالی کہاں تلک
اب جاں بہ لب ہوئے ہیں تمھاری زباں سے ہم
وعدہ کرو تو سوچ لو مدت کو دل میں بھی
یہ حال ہے تو دیر رہیں گے کہاں سے ہم
الجھائو دل کا جس سے ہے جھنجھلاکے اس بغیر
جھگڑا کیا کریں ہیں زمین آسماں سے ہم
لاویں ہماری خاک پر اس کینہ ور کو بھی
یہ کہہ مریں گے اپنے ہر اک مہرباں سے ہم
دربان سنگدل نے خبر واں تلک نہ کی
سر مار مار صبح کی اس آستاں سے ہم
جب اس کی تیغ رکھنے لگا اپنے پاس میر
امید قطع کی تھی تبھی اس جواں سے ہم
میر تقی میر

لیکن کبھو شکایت آئی نہیں زباں تک

دیوان سوم غزل 1160
ہر چند صرف غم ہیں لے دل جگر سے جاں تک
لیکن کبھو شکایت آئی نہیں زباں تک
کیا کوئی اس کے رنگوں گل باغ میں کھلا ہے
شور آج بلبلوں کا جاتا ہے آسماں تک
دو چار دن جو ہوں تو رک رک کے کوئی کاٹے
ناچار صبر کرنا عاشق سے ہو کہاں تک
ان جلتی ہڈیوں کو شاید ہما نہ کھاوے
تب عشق کی ہمارے پہنچی ہے استخواں تک
روئے جہاں جہاں ہم جوں ابر میر اس بن
اب آب ہے سراسر جاوے نظر جہاں تک
میر تقی میر

شعلہ ہے شمع ساں یاں ہر یک سخن زباں پر

دیوان سوم غزل 1130
گرمی سے گفتگو کی کرلے قیاس جاں پر
شعلہ ہے شمع ساں یاں ہر یک سخن زباں پر
دیکھ اس کے خط کی خوبی لگ جاتی ہے چپ ایسی
گویا کہ مہر کی ہے ان نے مرے دہاں پر
ہوں خاک مجھ کو ان سے نسبت حساب کیا ہے
میں گنتی میں نہیں ہوں وے ہفتم آسماں پر
گھر باغ میں بنایا پر ہم نے یہ نہ جانا
بجلی سے بھی پڑے گا پھول آ کے آشیاں پر
روتے ہیں دوست اکثر سن سرگذشت عاشق
تو بھی تو گوش وا کر ٹک میری داستاں پر
کیا بات میں تب اس کی جاوے کسو سے بولا
ہونے لگے ہوں خوں جب ہونٹوں کے رنگ پاں پر
تڑپے ہے دل گھڑی بھر تو پہروں غش رہے ہے
کیا جانوں آفت آئی کیا طاقت و تواں پر
سودا بنے جو اس سے تو میر منفعت ہے
اپنی نظر نہیں ہے پھر جان کے زیاں پر
میر تقی میر

سنتا نہیں ہے کوئی کلی کے دہاں کی بات

دیوان سوم غزل 1113
جب سے چلی چمن میں ترے رنگ پاں کی بات
سنتا نہیں ہے کوئی کلی کے دہاں کی بات
یاں شہر حسن میں تو کہیں ذکر بھی نہیں
کیا جانیے کہ مہر و وفا ہے کہاں کی بات
اختر شناس کو بھی خلل ہے دماغ کا
پوچھو اگر زمیں سے کہیں آسماں کی بات
ایسا خدا ہی جانے کہ ہو عرش یا نہ ہو
دل بولنے کی جا نہیں کیا اس مکاں کی بات
کیا لطف جو سنو اسے کہتے پھرا کرو
یوں چاہیے کہ بھول وہیں ہو جہاں کی بات
لے شام سے جہاں میں ہے تاصبح ایک شور
اپنی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آتی یاں کی بات
اوباش کس کو پوچھتے ہیں التفات سے
سیدھی کبھو سنی نہیں اس بدزباں کی بات
ہر حرف میں ہے ایک کجی ہر سخن میں پیچ
پنہاں رہے ہے کب کسو کی ٹیڑھی بانکی بات
کینے سے کچھ کہا ہی کیا زیرلب مجھے
کیا پوچھتے ہو میر مرے مہرباں کی بات
میر تقی میر

یا محبت کہہ کے یہ بارگراں میں لے گیا

دیوان سوم غزل 1056
دین و دل کے غم کو آساں ناتواں میں لے گیا
یا محبت کہہ کے یہ بارگراں میں لے گیا
خاک و خوں میں لوٹ کر رہ جانے ہی کا لطف ہے
جان کو کیا جو سلامت نیم جاں میں لے گیا
سرگذشت عشق کی تہ کو نہ پہنچا یاں کوئی
گرچہ پیش دوستاں یہ داستاں میں لے گیا
عرصۂ دشت قیامت باغ ہوجائے گا سب
اس طرح سے جو یہ چشم خوں فشاں میں لے گیا
ذکر دل جانے کا وہ پرکینہ سن کہنے لگا
یہ سناتے ہو کسے کیا مہرباں میں لے گیا
یک جہاں مہر و وفا کی جنس تھی میرے کنے
لیکن اس کو پھیر ہی لایا جہاں میں لے گیا
ریختہ کاہے کو تھا اس رتبۂ اعلیٰ میں میر
جو زمیں نکلی اسے تا آسماں میں لے گیا
میر تقی میر

سو یوں رہے کہ جیسے کوئی میہماں رہے

دیوان دوم غزل 1004
یاں ہم براے بیت جو بے خانماں رہے
سو یوں رہے کہ جیسے کوئی میہماں رہے
تھا ملک جن کے زیرنگیں صاف مٹ گئے
تم اس خیال میں ہو کہ نام و نشاں رہے
آنسو چلے ہی آنے لگے منھ پہ متصل
کیا کیجے اب کہ راز محبت نہاں رہے
ہم جب نظر پڑیں تو وہ ابرو کو خم کرے
تیغ اپنے اس کے کب تئیں یوں درمیاں رہے
کوئی بھی اپنے سر کو کٹاتا ہے یوں ولے
جوں شمع کیا کروں جو نہ میری زباں رہے
یہ دونوں چشمے خون سے بھر دوں تو خوب ہے
سیلاب میری آنکھوں سے کب تک رواں رہے
دیکھیں تو مصر حسن میں کیا خواریاں کھنچیں
اب تک تو ہم عزیز رہے ہیں جہاں رہے
مقصود گم کیا ہے تب ایسا ہے اضطراب
چکر میں ورنہ کاہے کو یوں آسماں رہے
کیا اپنی ان کی تم سے بیاں کیجیے معاش
کیں مدتوں رکھا جو تنک مہرباں رہے
گہ شام اس کے مو سے ہے گہ رو سے اس کے صبح
تم چاہو ہو کہ ایک سا ہی یاں سماں رہے
کیا نذر تیغ عشق سرِتیر میں کیا
اس معرکے میں کھیت بہت خستہ جاں رہے
اس تنگناے دہر میں تنگی نفس نے کی
جوں صبح ایک دم ہی رہے ہم جو یاں رہے
اک قافلے سے گرد ہماری نہ ٹک اٹھی
حیرت ہے میر اپنے تئیں ہم کہاں رہے
میر تقی میر

آئے ہیں پھر کے یارو اب کے خدا کے ہاں سے

دیوان دوم غزل 976
کعبے میں جاں بہ لب تھے ہم دوری بتاں سے
آئے ہیں پھر کے یارو اب کے خدا کے ہاں سے
تصویر کے سے طائر خاموش رہتے ہیں ہم
جی کچھ اچٹ گیا ہے اب نالہ و فغاں سے
جب کوندتی ہے بجلی تب جانب گلستاں
رکھتی ہے چھیڑ میرے خاشاک آشیاں سے
کیا خوبی اس کے منھ کی اے غنچہ نقل کریے
تو تو نہ بول ظالم بو آتی ہے دہاں سے
آنکھوں ہی میں رہے ہو دل سے نہیں گئے ہو
حیران ہوں یہ شوخی آئی تمھیں کہاں سے
سبزان باغ سارے دیکھے ہوئے ہیں اپنے
دلچسپ کاہے کو ہیں اس بے وفا جواں سے
کی شست و شو بدن کی جس دن بہت سی ان نے
دھوئے تھے ہاتھ میں نے اس دن ہی اپنی جاں سے
خاموشی ہی میں ہم نے دیکھی ہے مصلحت اب
ہر یک سے حال دل کا مدت کہا زباں سے
اتنی بھی بدمزاجی ہر لحظہ میر تم کو
الجھائو ہے زمیں سے جھگڑا ہے آسماں سے
میر تقی میر

ہما کے آشیانے میں جلیں ہیں استخواں میرے

دیوان دوم غزل 974
وہی شورش موئے پر بھی ہے اب تک ساتھ یاں میرے
ہما کے آشیانے میں جلیں ہیں استخواں میرے
عزیزاں غم میں اپنے یوسفؑ گم گشتہ کے ہر دم
چلے جاتے ہیں آنسو کارواں در کارواں میرے
تمھاری دشمنی ہم دوستوں سے لا نہایت ہے
وگرنہ انتہا کینے کو بھی ہے مہرباں میرے
لب و لہجہ غزل خوانی کا کس کو آج کل ایسا
گھڑی بھر کو ہوئے مرغ چمن ہم داستاں میرے
نظر مت بے پری پر کر کہ آں سوے جہاں پھر ہوں
ہوئے پرواز کے قابل یہ ٹوٹے پر جہاں میرے
کہاں تک سر کو دیواروں سے یوں مارا کرے کوئی
رکھوں اس در پہ پیشانی نصیب ایسے کہاں میرے
مجھے پامال کر یکساں کیا ہے خاک سے تو بھی
وہی رہتا ہے صبح و شام درپے آسماں میرے
خزاں کی بائو سے حضرت میں گلشن کے تطاول تھا
تبرک ہو گئے یک دست خارآشیاں میرے
کہا میں شوق میں طفلان تہ بازار کے کیا کیا
سخن مشتاق ہیں اب شہر کے پیر و جواں میرے
زمیں سر پر اٹھا لی کبک نے رفتار رنگیں سے
خراماں ناز سے ہو تو بھی اے سرو رواں میرے
سخن کیا میر کریے حسرت و اندوہ و حرماں سے
بیاں حاجت نہیں حالات ہیں سارے عیاں میرے
میر تقی میر

برہم زدہ شہر ہے جہاں تو

دیوان دوم غزل 911
سب حال سے بے خبر ہیں یاں تو
برہم زدہ شہر ہے جہاں تو
اس تن پہ نثار کرتے لیکن
اپنی بھی نظر میں ٹھہرے جاں تو
برباد نہ دے کہیں سراسر
رہتی نہیں شمع ساں زباں تو
کیا اس کے گئے ہے ذکر دل کا
ویران پڑا ہے یہ مکاں تو
کیا کیا نہ عزیز خوار ہوں گے
ہونے دو اسے ابھی جواں تو
غنچہ لگے منھ تمھارے لیکن
صحبت کا اسے بھی ہو دہاں تو
کیا اس سے رکھیں امید بہبود
پھرتا ہے خراب آسماں تو
یہ طالع نارسا بھی جاگیں
سو جائے ٹک اس کا پاسباں تو
مت تربت میر کو مٹائو
رہنے دو غریب کا نشاں تو
میر تقی میر

وہی اک جنس ہے اس کارواں میں

دیوان دوم غزل 866
نہ نکلا دوسرا ویسا جہاں میں
وہی اک جنس ہے اس کارواں میں
کیا منھ بند سب کا بات کہتے
بلا کچھ سحر ہے اس کی زباں میں
اگر وہ بت نہ جانے تو نہ جانے
ہمیں سب جانے ہیں ہندوستاں میں
نیا آناً فآناً اس کو دیکھا
جدا تھی شان اس کی ہر زماں میں
کھنچی رہتی ہے اس ابروے خم سے
کوئی کیا شاخ نکلی ہے کماں میں
جبیں پر چین رہتی ہے ہمیشہ
بلا کینہ ہے اپنے مہرباں میں
نیا ہے کیا شگوفہ یہ کہ اکثر
رہا ہے پھول پڑتا گلستاں میں
کوئی بجلی کا ٹکڑا اب تلک بھی
پڑا ہو گا ہمارے آشیاں میں
پھرے ہے چھانتا ہی خاک اے میر
ہوس کیا ہے مزاج آسماں میں
میر تقی میر

جن کے نشاں تھے فیلوں پر ان کا نشاں نہیں

دیوان دوم غزل 865
کیا کیا جہاں اثر تھا سو اب واں عیاں نہیں
جن کے نشاں تھے فیلوں پر ان کا نشاں نہیں
دفتر بنے کہانی بنی مثنوی ہوئی
کیا شرح سوز عشق کروں میں زباں نہیں
اپنا ہی ہاتھ سر پہ رہا اپنے یاں سدا
مشفق کوئی نہیں ہے کوئی مہرباں نہیں
ہنگامہ و فساد کی باعث ہے وہ کمر
پھر آپ خوب دیکھیے تو درمیاں نہیں
جی ہی نکل گیا جو گیا یار پاس سے
جسم ضعیف و زار میں اب میرے جاں نہیں
ہے عشق ہی سے چار طرف بحث و گفتگو
شور اس بلاے جاں کا جہاں میں کہاں نہیں
اس عہد کو نہ جانیے اگلا سا عہد میر
وہ دور اب نہیں وہ زمیں آسماں نہیں
میر تقی میر

جی رندھ گیا ہے ظالم اب رحم کر کہاں تک

دیوان دوم غزل 844
سو خونچکاں گلے ہیں لب سے مری زباں تک
جی رندھ گیا ہے ظالم اب رحم کر کہاں تک
ملنے میں میرے گاہے ٹک تن دیا نہ ان نے
حاضر رہا ہوں میں تو اپنی طرف سے جاں تک
ہر چند میں نے سر پر اس رہ کی خاک ڈالی
لیکن نہ پہنچیں آنکھیں اس پائوں کے نشاں تک
ان ہڈیوں کا جلنا کوئی ہما سے پوچھو
لاتا نہیں ہے منھ وہ اب میرے استخواں تک
اس کی گلی کے سگ سے کی ہے موافقت میں
اس راہ سے بھی پہنچیں شاید کہ پاسباں تک
ابربہار نے شب دل کو بہت جلایا
تھا برق کا چمکنا خاشاک آشیاں تک
اس مہ کے گوش تک تو ہرگز نہیں پہنچتی
گو آہ بے سرایت جاتی ہے آسماں تک
قید قفس میں مرنا کب شوق کا ہے مانع
پہنچیں گے مشت پر بھی اڑ کر یہ گلستاں تک
ہونا جہاں کا اپنی آنکھوں میں ہے نہ ہونا
آتا نظر نہیں کچھ جاوے نظر جہاں تک
جاتی ہیں خط کے پیچھے جوں مہر آنکھیں میری
اب کارشوق میرا پہنچا ہے میر یاں تک
میر تقی میر

آتی نہیں ہے تو بھی شکایت زباں تلک

دیوان دوم غزل 840
حالانکہ کام پہنچ گیا کب کا جاں تلک
آتی نہیں ہے تو بھی شکایت زباں تلک
اس رشک مہ کے دل میں نہ مطلق کیا اثر
ہرچند پہنچی میری دعا آسماں تلک
جو آرزو کی اس سے سو دل میں ہی خوں ہوئی
نومید یوں بسر کرے کوئی کہاں تلک
کھینچا کیے وہ دور بہت آپ کو سدا
ہمسائے ہم موا کیے آئے نہ یاں تلک
بلبل قفس میں اس لب و لہجہ پہ یہ فغاں
آواز ایک ہو رہی ہے گلستاں تلک
پچھتائے اٹھ کے گھر سے کہ جوں نو دمیدہ پر
جانا بنا نہ آپ کو پھر آشیاں تلک
ہم صحبتی یار کو ہے اعتبار شرط
اپنی پہنچ تو میر نہیں پاسباں تلک
میر تقی میر

جی لگ رہا ہے خار و خس آشیاں کی اور

دیوان دوم غزل 811
چمکی ہے جب سے برق سحر گلستاں کی اور
جی لگ رہا ہے خار و خس آشیاں کی اور
وہ کیا یہ دل لگے ہے فنا میں کہ رفتگاں
منھ کرکے بھی نہ سوئے کبھو پھر جہاں کی اور
رنگ سخن تو دیکھ کہ حیرت سے باغ میں
رہ جاتے ہیں گے دیکھ کے گل اس دہاں کی اور
آنکھیں سی کھل ہی جائیں گی جو مر گیا کوئی
دیکھا نہ کر غضب سے کسو خستہ جاں کی اور
کیا بے خبر ہے رفتن رنگین عمر سے
جوے چمن میں دیکھ ٹک آب رواں کی اور
یاں تاب سعی کس کو مگر جذب عشق کا
لاوے اسی کو کھینچ کسو ناتواں کی اور
یارب ہے کیا مزہ سخن تلخ یار میں
رہتے ہیں کان سب کے اسی بد زباں کی اور
یا دل وہ دیدنی تھی جگہ یا کہ تجھ بغیر
اب دیکھتا نہیں ہے کوئی اس مکاں کی اور
آیا کسے تکدر خاطر ہے زیرخاک
جاتا ہے اکثر اب تو غبار آسماں کی اور
کیا حال ہو گیا ہے ترے غم میں میر کا
دیکھا گیا نہ ہم سے تو ٹک اس جواں کی اور
میر تقی میر

لاتا ہے تازہ آفت تو ہر زماں زمیں پر

دیوان دوم غزل 802
رفتار میں یہ شوخی رحم اے جواں زمیں پر
لاتا ہے تازہ آفت تو ہر زماں زمیں پر
آنکھیں لگی رہیں گی برسوں وہیں سبھوں کی
ہو گا قدم کا تیرے جس جا نشاں زمیں پر
میں مشت خاک یارب بارگران غم تھا
کیا کہیے آ پڑا ہے اک آسماں زمیں پر
آنکھیں ہی بچھ رہی ہیں لوگوں کی تیری رہ میں
ٹک دیکھ کر قدم رکھ اے کام جاں زمیں پر
خاک سیہ سے یکساں ہر ایک ہے کہے تو
مارا اٹھا فلک نے سارا جہاں زمیں پر
چشمے کہیں ہیں جوشاں جوئیں کہیں ہیں جاری
جوں ابر ہم نہ روئے اس بن کہاں زمیں پر
آتا نہ تھا فرو سرجن کا کل آسماں سے
ہیں ٹھوکروں میں ان کے آج استخواں زمیں پر
جو کوئی یاں سے گذرا کیا آپ سے نہ گذرا
پانی رہا کب اتنا ہوکر رواں زمیں پر
پھر بھی اٹھالی سر پر تم نے زمیں سب آکر
کیا کیا ہوا تھا تم سے کچھ آگے یاں زمیں پر
کچھ بھی مناسبت ہے یاں عجز واں تکبر
وے آسمان پر ہیں میں ناتواں زمیں پر
پست و بلند یاں کا ہے اور ہی طرف سے
اپنی نظر نہیں ہے کچھ آسماں زمیں پر
قصر جناں تو ہم نے دیکھا نہیں جو کہیے
شاید نہ ہووے دل سا کوئی مکاں زمیں پر
یاں خاک سے انھوں کی لوگوں نے گھر بنائے
آثار ہیں جنھوں کے اب تک عیاں زمیں پر
کیا سر جھکا رہے ہو میر اس غزل کو سن کر
بارے نظر کرو ٹک اے مہرباں زمیں پر
میر تقی میر

دل نے جگر کی اور اشارت کی یاں گرا

دیوان دوم غزل 741
کل میں کہا وہ طور کا شعلہ کہاں گرا
دل نے جگر کی اور اشارت کی یاں گرا
منظر خراب ہونے کو ہے چشم تر کا حیف
پھر دید کی جگہ نہیں جو یہ مکاں گرا
روح القدس کو سہل کیا یار نے شکار
اک تیر میں وہ مرغ بلند آشیاں گرا
پہنچایا مجھ کو عجز نے مقصود دل کے تیں
یعنی کہ اس کے در ہی پہ میں ناتواں گرا
شور اک مری نہاد سے تجھ بن اٹھا تھا رات
جس سے کیا خیال کہ یہ آسماں گرا
کیا کم تھا شعلہ شوق کا شعلے سے طور کے
پتھر بھی واں کے جل گئے جاکر جہاں گرا
ڈوبا خیال چاہ زنخداں میں اس کے میر
دانستہ کیوں کنوئیں میں بھلا یہ جواں گرا
میر تقی میر

بلبل نے کیا سمجھ کر یاں آشیاں بنایا

دیوان دوم غزل 716
لے رنگ بے ثباتی یہ گلستاں بنایا
بلبل نے کیا سمجھ کر یاں آشیاں بنایا
اڑتی ہے خاک یارب شام و سحر جہاں میں
کس کے غبار دل سے یہ خاکداں بنایا
اک رنگ پر نہ رہنا یاں کا عجب نہیں ہے
کیا کیا نہ رنگ لائے تب یہ جہاں بنایا
آئینے میں کہاں ہے ایسی صفا کہے تو
جبہوں سے راستوں کے وہ آستاں بنایا
سرگشتہ ایسی کس کی ہاتھ آگئی تھی مٹی
جو چرخ زن قضا نے یہ آسماں بنایا
نقش قدم سے اس کے گلشن کی طرح ڈالی
گرد رہ اس کی لے کر سرو رواں بنایا
ہونے پہ جمع اپنے پھولا بہت تھا لیکن
کیا غنچہ تنگ آیا جب وہ دہاں بنایا
اس صحن پر یہ وسعت اللہ رے تیری صنعت
معمار نے قضا کے دل کیا مکاں بنایا
دل ٹک ادھر نہ آیا ایدھر سے کچھ نہ پایا
کہنے کو ترک لے کر اک سوانگ یاں بنایا
دریوزہ کرتے گذری گلیوں میں عمر اپنی
درویش کب ہوئے ہم تکیہ کہاں بنایا
وہ تو مٹا گیا تھا تربت بھی میر جی کی
دو چار اینٹیں رکھ کر پھر میں نشاں بنایا
میر تقی میر

ہوں میں چراغ کشتہ باد سحر کہاں ہے

دیوان اول غزل 574
دو سونپ دود دل کو میرا کوئی نشاں ہے
ہوں میں چراغ کشتہ باد سحر کہاں ہے
بیٹھا جگر سے اپنے کھینچوں ہوں اس کے پیکاں
جینے کی اور سے تو خاطر مری نشاں ہے
روشن ہے جل کے مرنا پروانے کا ولیکن
اے شمع کچھ تو کہہ تو تیرے بھی تو زباں ہے
بھڑکے ہے آتش گل اے ابرتر ترحم
گوشے میں گلستاں کے میرا بھی آشیاں ہے
ہم زمزمہ تو ہو کے مجھ نالہ کش سے چپ رہ
اے عندلیب گلشن تیرا لب و دہاں ہے
کس دور میں اٹھایا مجھ سینہ سوختہ کو
پیوند ہو زمیں کا جیسا یہ آسماں ہے
کتنی ہی جی نے تجھ سے لی خاک گر اڑائی
وابستگی کر اس سے پر وہی جہاں ہے
ہے قتل گاہ کس کی کوچہ ترا ستمگر
یک عمر خضر ہو گئی خوں متصل رواں ہے
پیرمغاں سعادت تیری جو ایسا آوے
یہ میر مے کشوں میں اک طرز کا جواں ہے
میر تقی میر

یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے

دیوان اول غزل 472
دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
گور کس دل جلے کی ہے یہ فلک
شعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے
خانۂ دل سے زینہار نہ جا
کوئی ایسے مکاں سے اٹھتا ہے
نالہ سر کھینچتا ہے جب میرا
شور اک آسماں سے اٹھتا ہے
لڑتی ہے اس کی چشم شوخ جہاں
ایک آشوب واں سے اٹھتا ہے
سدھ لے گھر کی بھی شعلۂ آواز
دود کچھ آشیاں سے اٹھتا ہے
بیٹھنے کون دے ہے پھر اس کو
جو ترے آستاں سے اٹھتا ہے
یوں اٹھے آہ اس گلی سے ہم
جیسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے
عشق اک میر بھاری پتھر ہے
کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے
میر تقی میر

اب کار شوق اپنا پہنچا ہے یاں تلک تو

دیوان اول غزل 409
اجرت میں نامہ کی ہم دیتے ہیں جاں تلک تو
اب کار شوق اپنا پہنچا ہے یاں تلک تو
آغشتہ میرے خوں سے اے کاش جاکے پہنچے
کوئی پر شکستہ ٹک گلستاں تلک تو
واماندگی نے مارا اثناے رہ میں ہم کو
معلوم ہے پہنچنا اب کارواں تلک تو
افسانہ غم کا لب تک آیا ہے مدتوں میں
سو جائیو نہ پیارے اس داستاں تلک تو
آوارہ خاک میری ہو کس قدر الٰہی
پہنچوں غبار ہوکر میں آسماں تلک تو
آنکھوں میں اشک حسرت اور لب پہ شیون آیا
اے حرف شوق تو بھی آیا زباں تلک تو
اے کاش خاک ہی ہم رہتے کہ میر اس میں
ہوتی ہمیں رسائی اس آستاں تلک تو
میر تقی میر

کیا جانے منھ سے نکلے نالے کے کیا سماں ہو

دیوان اول غزل 383
اے چرخ مت حریف اندوہ بے کساں ہو
کیا جانے منھ سے نکلے نالے کے کیا سماں ہو
کب تک گرہ رہے گا سینے میں دل کے مانند
اے اشک شوق اک دم رخسار پر رواں ہو
ہم دور ماندگاں کی منزل رساں مگر اب
یا ہو صدا جرس کی یا گرد کارواں ہو
مسند نشین ہو گر عرصہ ہے تنگ اس پر
آسودہ وہ کسو کا جو خاک آستاں ہو
تاچند کوچہ گردی جیسے صبا زمیں پر
اے آہ صبح گاہی آشوب آسماں ہو
گر ذوق سیر ہے تو آوارہ اس چمن میں
مانند عندلیب گم کردہ آشیاں ہو
یہ جان تو کہ ہے اک آوارہ دست بردل
خاک چمن کے اوپر برگ خزاں جہاں ہو
کیا ہے حباب ساں یاں آ دیکھ اپنی آنکھوں
گر پیرہن میں میرے میرا تجھے گماں ہو
از خویش رفتہ ہر دم رہتے ہیں ہم جو اس بن
کہتے ہیں لوگ اکثر اس وقت تم کہاں ہو
پتھر سے توڑ ڈالوں آئینے کو ابھی میں
گر روے خوبصورت تیرا نہ درمیاں ہو
اس تیغ زن سے کہیو قاصد مری طرف سے
اب تک بھی نیم جاں ہوں گر قصد امتحاں ہو
کل بت کدے میں ہم نے دھولیں لگائیاں ہیں
کعبے میں آج زاہد گو ہم پہ سرگراں ہو
ہمسایہ اس چمن کے کتنے شکستہ پر ہیں
اتنے لیے کہ شاید اک بائو گل فشاں ہو
میر اس کو جان کر تو بے شبہ ملیو رہ پر
صحرا میں جو نمد مو بیٹھا کوئی جواں ہو
میر تقی میر

مانا کیا خدا کی طرح ان بتاں کو میں

دیوان اول غزل 349
سمجھا تنک نہ اپنے تو سود و زیاں کو میں
مانا کیا خدا کی طرح ان بتاں کو میں
لاویں اسے بھی بعد مرے میری لاش پر
یہ کہہ رکھا ہے اپنے ہر اک مہرباں کو میں
گردش فلک کی کیا ہے جو دور قدح میں ہے
دیتا رہوں گا چرخ مدام آسماں کو میں
جی جاوے تو قبول ترا غم نہ جائیو
رکھتا نپٹ عزیز ہوں اس میہماں کو میں
عاشق ہے یا مریض ہے پوچھو تو میر سے
پاتا ہوں زرد روز بروز اس جواں کو میں
میر تقی میر

القصہ رفتہ رفتہ دشمن ہوا ہے جاں کا

دیوان اول غزل 25
شکوہ کروں میں کب تک اس اپنے مہرباں کا
القصہ رفتہ رفتہ دشمن ہوا ہے جاں کا
گریے پہ رنگ آیا قید قفس سے شاید
خوں ہو گیا جگر میں اب داغ گلستاں کا
لے جھاڑو ٹوکرا ہی آتا ہے صبح ہوتے
جاروب کش مگر ہے خورشید اس کے ہاں کا
دی آگ رنگ گل نے واں اے صبا چمن کو
یاں ہم جلے قفس میں سن حال آشیاں کا
ہر صبح میرے سر پر اک حادثہ نیا ہے
پیوند ہو زمیں کا شیوہ اس آسماں کا
ان صید افگنوں کا کیا ہو شکار کوئی
ہوتا نہیں ہے آخر کام ان کے امتحاں کا
تب تو مجھے کیا تھا تیروں سے صید اپنا
اب کرتے ہیں نشانہ ہر میرے استخواں کا
فتراک جس کا اکثر لوہو میں تر رہے ہے
وہ قصد کب کرے ہے اس صید ناتواں کا
کم فرصتی جہاں کے مجمع کی کچھ نہ پوچھو
احوال کیا کہوں میں اس مجلس رواں کا
سجدہ کریں ہیں سن کر اوباش سارے اس کو
سید پسر وہ پیارا ہے گا امام بانکا
ناحق شناسی ہے یہ زاہد نہ کر برابر
طاعت سے سو برس کی سجدہ اس آستاں کا
ہیں دشت اب یہ جیتے بستے تھے شہر سارے
ویرانۂ کہن ہے معمورہ اس جہاں کا
جس دن کہ اس کے منھ سے برقع اٹھے گا سنیو
اس روز سے جہاں میں خورشید پھر نہ جھانکا
ناحق یہ ظلم کرنا انصاف کہہ پیارے
ہے کون سی جگہ کا کس شہر کا کہاں کا
سودائی ہو تو رکھے بازار عشق میں پا
سر مفت بیچتے ہیں یہ کچھ چلن ہے واں کا
سو گالی ایک چشمک اتنا سلوک تو ہے
اوباش خانہ جنگ اس خوش چشم بدزباں کا
یا روئے یا رلایا اپنی تو یوں ہی گذری
کیا ذکر ہم صفیراں یاران شادماں کا
قید قفس میں ہیں تو خدمت ہے نالگی کی
گلشن میں تھے تو ہم کو منصب تھا روضہ خواں کا
پوچھو تو میر سے کیا کوئی نظر پڑا ہے
چہرہ اتر رہا ہے کچھ آج اس جواں کا
میر تقی میر

یہ لگ رہا ہے مجھے ناگہاں تباہی ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 637
تباہی ہے شبِ آئندگاں تباہی ہے
یہ لگ رہا ہے مجھے ناگہاں تباہی ہے
کوئی معاشرہ ممکن نہیں بجز انصاف
جہاں جہاں پہ ستم ہے وہاں تباہی ہے
میں ٹال سکتا نہیں آیتوں کی قرآت سے
لکھی ہوئی جو سرِ آسماں تباہی ہے
گزر گیا ہے جو طوفاں گزرنے والاتھا
یہ ملبہ زندگی ہے، اب کہاں تباہی ہے
بچھے ہوئے کئی بھونچال ہیں مکانوں میں
دیارِ دل میں مسلسل رواں تباہی ہے
دعا کرو کہ قیامت میں دیکھتا ہوں قریب
مرے قریب کوئی بے کراں تباہی ہے
فراز مند ہے ابلیس کا علم منصور
گلی گلی میں عجب بے نشاں تباہی ہے
منصور آفاق

دل مزاجاً میری جاں معشوق ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 617
عشق میں کوئی کہاں معشوق ہے
دل مزاجاً میری جاں معشوق ہے
جس سے گزرا ہی نہیں ہوں عمر بھر
وہ گلی وہ آستاں معشوق ہے
رفتہ رفتہ کیسی تبدیلی ہوئی
میں جہاں تھا اب وہاں معشوق ہے
ہے رقیبِ دلربا اک ایک آنکھ
کہ مرا یہ آسماں معشوق ہے
مشورہ جا کے زلیخا سے کروں
کیا کروں نامہرباں معشوق ہے
صبحِ ہجراں سے نشیبِ خاک کا
جلوۂ آب رواں معشوق ہے
ہیں مقابل ہر جگہ دو طاقتیں
اور ان کے درمیاں معشوق ہے
گھنٹیاں کہتی ہیں دشتِ یاد کی
اونٹنی کا سارباں معشوق ہے
وہ علاقہ کیا زمیں پر ہے کہیں
ان دنوں میرا جہاں معشوق ہے
میں جہاں دیدہ سمندر کی طرح
اور ندی سی نوجواں معشوق ہے
ہر طرف موجودگی منصور کی
کس قدر یہ بے کراں معشوق ہے
منصور آفاق

چاند جب آسماں سے اٹھتا ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 597
کوئی دہلیزِ جاں سے اٹھتا ہے
چاند جب آسماں سے اٹھتا ہے
ہے ابھی کوئی خالی بستی میں
وہ دھواں سا مکاں سے اٹھتا ہے
چھوڑ آتا ہے نقشِ پا کا چراغ
پاؤں تیرا جہاں سے اٹھتا ہے
جس بلندی کو عرش کہتے ہیں
ذکر تیراؐ وہاں سے اٹھتا ہے
اس نے سینے پہ ہاتھ رکھ کے کہا
درد سا کچھ یہاں سے اٹھتا ہے
اک ستارہ صفت سرِ آفاق
دیکھتے ہیں کہاں سے اٹھتا ہے
ہم ہی ہوتے ہیں اس طرف منصور
پردہ جب درمیاں سے اٹھتا ہے
منصور آفاق

اسمِ جاں اللہ ہو جانِ جہاں اللہ ہو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 235
وردِ دل اللہ ہو ، وردِ زباں اللہ ہو
اسمِ جاں اللہ ہو جانِ جہاں اللہ ہو
ایک ہی آہنگ میں موجِ صبا کے ساتھ ساتھ
کہہ رہا ہے صبح دم آبِ رواں اللہ ہو
گونجتا ہے اس لئے داؤد سے باہو تلک
نغمۂ ہو کے تکلم میں نہاں اللہ ہو
عابدوں کا اپنا تقوی ، زاہدوں کا اپنا زہد
رندِ درد آمیز کی آہ و فغاں اللہ ہو
لفظِ ہو میں گم ہواہے ہست کا سارا وجود
یہ زمیں اللہ ہو یہ آسماں اللہ ہو
خاک اور افلاک کو واپس بھی لے سکتا ہے وہ
ہیں جہاں دونوں فنا اک جاوداں اللہ ہو
قبر کی دعوت میں باہو کہہ گیا منصور سے
جس کا میں شہباز ہوں وہ لامکاں اللہ ہو
منصور آفاق

ہم جہاں سے چلے ، وہاں کی طرف

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 208
چلتے رہتے ہیں لامکاں کی طرف
ہم جہاں سے چلے ، وہاں کی طرف
رحمتِ ابر جب بھی گرتی ہے
پاؤں اٹھتے ہیں سائباں کی طرف
چل پڑے واقعات بستی کو
اور کردار داستاں کی طرف
کمپنی کھولی ہے خسارے کی
فائدہ دیکھ کر زیاں کی طرف
ہم پکھیرو ہزاروں سالوں سے
روزجاتے ہیں آشیاں کی طرف
بھیگ جاؤں کرم کی بارش سے
ہاتھ اٹھاؤں جو آسماں کی طرف
آتے پولیس کے سپاہی ہیں
روز منصور کے مکاں کی طرف
منصور آفاق

وہ جو مرتبت میں مثال ہے اسی آستاں سے گرا دیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 109
مری بد لحاظ نگاہ نے مجھے عرشِ جاں سے گرا دیا
وہ جو مرتبت میں مثال ہے اسی آستاں سے گرا دیا
مجھے کچھ بھی اس نے کہا نہیں مگر اپنی رت ہی بدل گئی
مجھے دیکھتے ہوئے برف کو ذرا سائباں سے گرا دیا
مجھے دیکھ کر کہ میں زد پہ ہوں سرِ چشم آخری تیر کو
کسی نے کماں پہ چڑھا لیا کسی نے کماں سے گرا دیا
ہے عجب مزاج کی وہ کوئی کبھی ہم نفس کبھی اجنبی
کبھی چاند اس نے کہا مجھے کبھی آسماں سے گرا دیا
میں وہ خستہ حال مکان تھا جسے خوفِ جاں کے خیال سے
کسی نے یہاں سے گرا دیا کسی نے وہاں سے گرا دیا
منصور آفاق