ٹیگ کے محفوظات: آسمانی

جان لے لے گی یہ خوش گمانی مری

نینا عادل ۔ غزل نمبر 17
آپ کے دل پہ ہے حکمرانی مری
جان لے لے گی یہ خوش گمانی مری
عشق ریشم کا دھاگہ تھا کھلتا گیا
درد بُنتا گیا رائیگانی مری
میں ترا گھر بنانے میں مصروف تھی
مجھ پہ ہنستی رہی بے مکانی مری
چشم در چشم پڑھیے فسانے مرے
خواب در خواب لکھیے کہانی مری
آہ کہتی نہیں تھی مرا واقعہ
اشک کرتے نہ تھے ترجمانی مری
اک زمیں زاد سے اِس زمیں پر رہی
گفتگو مستقل آسمانی مری
اور نیناؔ رہے نا رہے کچھ مگر!
حرف میرے رہیں گے نشانی مری
نینا عادل

سنی گرچہ جاتی نہیں یہ کہانی

دیوان چہارم غزل 1503
سنو سرگذشت اب ہماری زبانی
سنی گرچہ جاتی نہیں یہ کہانی
بہت نذریں مانیں کہ مانے گا کہنا
ولیکن مری بات ہرگز نہ مانی
بہت مو پریشاں کھپے اس کے غم میں
خدا جانے ہے بید کس کی نشانی
گیا بھول جی شیب میں جو ہمارا
بہت یاد آئی گئی وہ جوانی
توقع نہیں یاں تک آنے کی ان سے
اگر لطف مجھ پر کریں مہربانی
گری ضبط گریہ سے دل کی عمارت
ہوئی چشم تر اس خرابی کی بانی
ملا دیتی ہے خاک میں آدمی کو
محبت ہے کوئی بلا آسمانی
گرامی گہر میر جی تھا ہمارا
ولے عشق میں قدر ہم نے نہ جانی
میر تقی میر