ٹیگ کے محفوظات: آساں

کیا کروں گر نہ کروں چاک گریباں اپنا

دیوان سوم غزل 1096
ان نے کھینچا ہے مرے ہاتھ سے داماں اپنا
کیا کروں گر نہ کروں چاک گریباں اپنا
بارہا جاں لب جاں بخش سے دی جن نے ہمیں
دشمن جانی ہوا اب وہی جاناں اپنا
خلطے یاد آتے ہیں وے جب کہ بدلتے کپڑے
مجھ کو پہناتے تھے رعنائی کا ساماں اپنا
کیا ہوئی یکجہتی وہ کہ طرف تھے میرے
اب یہ طرفہ ہے کہ منھ کرتے ہیں پنہاں اپنا
جس طرح شاخ پراگندہ نظر آتے ہیں بید
تھا جنوں میں کبھو سر مو سے پریشاں اپنا
مشکلیں سینکڑوں چاہت میں ہمیں آئیں پیش
کام ہو دیکھیے کس طور سے آساں اپنا
دل فقیری سے نہیں میر کسو کا ناساز
خوش ہوا کتنا ہے یہ خانۂ ویراں اپنا
میر تقی میر

دامن گل گریۂ خونیں سے سب افشاں ہوا

دیوان دوم غزل 710
وارد گلشن غزل خواں وہ جو دلبر یاں ہوا
دامن گل گریۂ خونیں سے سب افشاں ہوا
طائران باغ کو تھا بیت بحثی کا دماغ
پر ہر اک درد سخن سے میر کے نالاں ہوا
دل کی آبادی کو پہنچا اپنے گویا چشم زخم
دیکھتے ہی دیکھتے یہ شہر سب ویراں ہوا
سبز بختی پر ہے اس کی طائر سدرہ کو رشک
جو شکار اس تیغ کے سائے تلے بے جاں ہوا
خاک پر بھی دوڑتی ہے چشم مہر و ماہ چرخ
کس دنی الطبع کے گھر جا کے میں مہماں ہوا
تھا جگر میں جب تلک قطرہ ہی تھا خوں کا سرشک
اب جو آنکھوں سے تجاوز کر چلا طوفاں ہوا
اس کے میرے بیچ میں آئینہ آیا تھا ولے
صورت احوال ساری دیکھ کر حیراں ہوا
دل نے خوں ہو عشق خوباں میں بھی کیا بدلے ہیں رنگ
چہروں کو غازہ ہوا ہونٹوں کا رنگ پاں ہوا
تم جو کل اس راہ نکلے برق سے ہنستے گئے
ابر کو دیکھو کہ جب آیا ادھر گریاں ہوا
جی سے جانا بن گیا اس بن ہمیں پل مارتے
کام تو مشکل نظر آتا تھا پر آساں ہوا
جب سے ناموس جنوں گردن بندھا ہے تب سے میر
جیب جاں وابستۂ زنجیر تا داماں ہوا
میر تقی میر

نکالا سر سے میرے جاے مو خار مغیلاں کو

دیوان اول غزل 377
فلک نے گر کیا رخصت مجھے سیر بیاباں کو
نکالا سر سے میرے جاے مو خار مغیلاں کو
وہ ظالم بھی تو سمجھے کہہ رکھا ہے ہم نے یاراں کو
کہ گورستان سے گاڑیں جدا ہم اہل ہجراں کو
نہیں یہ بید مجنوں گردش گردون گرداں نے
بنایا ہے شجر کیا جانیے کس مو پریشاں کو
ہوئے تھے جیسے مرجاتے پر اب تو سخت حسرت ہے
کیا دشوار نادانی سے ہم نے کار آساں کو
کہیں نسل آدمی کی اٹھ نہ جاوے اس زمانے میں
کہ موتی آب حیواں جانتے ہیں آب انساں کو
تجھے گر چشم عبرت ہے تو آندھی اور بگولے سے
تماشا کر غبار افشانی خاک عزیزاں کو
لباس مرد میداں جوہر ذاتی کفایت ہے
نہیں پرواے پوشش معرکے میں تیغ عریاں کو
ہواے ابر میں گرمی نہیں جو تو نہ ہو ساقی
دم افسردہ کردے منجمد رشحات باراں کو
جلیں ہیں کب کی مژگاں آنسوئوں کی گرم جوشی سے
اس آب چشم کی جوشش نے آتش دی نیستاں کو
وہ کافر عشق کا ہے دل کہ میری بھی رگ جاں تک
سدا زنار ہی تسبیح ہے اس نامسلماں کو
غرور ناز سے آنکھیں نہ کھولیں اس جفا جونے
ملا پائوں تلے جب تک نہ چشم صد غزالاں کو
نہ سی چشم طمع خوان فلک پر خام دستی سے
کہ جام خون دے ہے ہر سحر یہ اپنے مہماں کو
زبس صرف جنوں میرے ہوا آہن عجب مت کر
نہ ہو گر حلقۂ در خانۂ زنجیر سازاں کو
بنے ناواقف شادی اگر ہم بزم عشرت میں
دہان زخم دل سمجھے جو دیکھا روے خنداں کو
نہیں ریگ رواں مجنوں کے دل کی بے قراری نے
کیا ہے مضطرب ہر ذرئہ گرد بیاباں کو
کسی کے واسطے رسواے عالم ہو پہ جی میں رکھ
کہ مارا جائے جو ظاہر کرے اس راز پنہاں کو
گری پڑتی ہے بجلی ہی تبھی سے خرمن گل پر
ٹک اک ہنس میرے رونے پر کہ دیکھے تیرے دنداں کو
غرور ناز قاتل کو لیے جا ہے کوئی پوچھے
چلا تو سونپ کر کس کے تئیں اس صید بے جاں کو
وہ تخم سوختہ تھے ہم کہ سرسبزی نہ کی حاصل
ملایا خاک میں دانہ نمط حسرت سے دہقاں کو
ہوا ہوں غنچۂ پژمردہ آخر فصل کا تجھ بن
نہ دے برباد حسرت کشتۂ سردرگریباں کو
غم و اندوہ و بیتابی الم بے طاقتی حرماں
کہوں اے ہم نشیں تاچند غم ہاے فراواں کو
گل وسرو وسمن گر جائیں گے مت سیرگلشن کر
ملا مت خاک میں ان باغ کے رعنا جواناں کو
بہت روئے جو ہم یہ آستیں رکھ منھ پہ اے بجلی
نہ چشم کم سے دیکھ اس یادگارچشم گریاں کو
مزاج اس وقت ہے اک مطلع تازہ پہ کچھ مائل
کہ بے فکرسخن بنتی نہیں ہرگز سخنداں کو
میر تقی میر

روح کی مدہوش بیداری کا ساماں ہو گئیں

مجید امجد ۔ غزل نمبر 11
عشق کی ٹیسیں جو مضرابِ رگِ جاں ہو گئیں
روح کی مدہوش بیداری کا ساماں ہو گئیں
پیار کی میٹھی نظرسے تو نے جب دیکھا مجھے
تلخیاں سب زندگی کی لطف ساماں ہو گئیں
اب لبِ رنگیں پہ نوریں مسکراہٹ؟ کیا کہوں
بجلیاں گویا شفق زاروں میں رقصاں ہو گئیں
ماجرائے شوق کی بےباکیاں ان پر نثار
ہائے وہ آنکھیں جو ضبطِ غم میں گریاں ہو گئیں
چھا گئیں دشواریوں پر میری سہل انگاریاں
مشکلوں کا اک خیال آیا کہ آساں ہو گئیں
مجید امجد