ٹیگ کے محفوظات: آزار

آرام بھی مِلا ہمیں آزار کی طرح

سوئے بہت مگر کسی بیمار کی طرح
آرام بھی مِلا ہمیں آزار کی طرح
کچھ ایسی پُختہ ہو گئی دِل توڑنے کی خو
اِقرار کر رہے ہیں وہ اِنکار کی طرح
بیکار سمجھے جاتے ہیں فن کار اِس لیے
دن رات کام کرتے ہیں بیگار کی طرح
میری غزل میں کیسے تغزل ملے اُنہیں
پڑھتے ہیں اب وہ شاعری اخبار کی طرح
باصر کاظمی

سلایا مرے خوں میں تلوار کو

دیوان ششم غزل 1858
زمانے نے دشمن کیا یار کو
سلایا مرے خوں میں تلوار کو
کھلی رہتی ہے چشم آئینہ ساں
کہاں خواب مشتاق دیدار کو
مجھے عشق اس پاس یوں لے گیا
کوئی لاوے جیسے گنہگار کو
محبت میں دشوار دینی ہے جاں
نہ جاتے سنا سہل آزار کو
کوئی دن کرے زندگی عشق میں
جو دم لینے دیں دل کے بیمار کو
بکا میں تو بازار خوبی میں جا
کہ واں بیچتے تھے خریدار کو
مرے منھ پہ رکھا ہے رنگ اب تلک
ہزار آفریں چشم خونبار کو
تب اک جرعہ مے دیں مجھے مغبچے
گرو جب کروں رخت و دستار کو
کرو مت درنگ اٹھتے اس پینٹھ میں
چلو مول لو میر بازار کو
میر تقی میر

دشتی وحش و طیر آئے ہیں ہونے تیرے شکار بہت

دیوان ششم غزل 1818
باہر چلنے میں آبادی سے کر نہ تغافل یار بہت
دشتی وحش و طیر آئے ہیں ہونے تیرے شکار بہت
دعویٰ عاشق بیچارے کا کون سنے گا محشر میں
خیل ملائک واں بھی ہوں گے اس کے خاطر دار بہت
خشکی لب کی زردی رخ کی نمنا کی دو آنکھوں کی
جو دیکھے ہے کہے ہے ان نے کھینچا ہے آزار بہت
جسم کی حالت جی کی طاقت نبض سے کر معلوم طبیب
کہنے لگا جانبر کیا ہو گا یہ تو ہے بیمار بہت
چار طرف ابرو کے اشارے اس ظالم کے زمانے میں
ٹھہرے کیا عاشق بیکس یاں چلتی ہے تلوار بہت
پیش گئی نہ کچھ چاہت میں کافر و مسلم دونوں کی
سینکڑوں سبحے پھینکے گئے اور ٹوٹے ہیں زنار بہت
جی کے لگاؤ کہے سے ہم نے جی ہی جاتے دیکھے ہیں
اس پہ نہ جانا آہ برا ہے الفت کا آزار بہت
کس کو دماغ سیر چمن ہے کیا ہجراں میں واشد ہو
کم گلزار میں اس بن جاکر آتا ہوں بیزار بہت
میر دعا کر حق میں میرے تو بھی فقیر ہے مدت سے
اب جو کبھو دیکھوں اس کو تو مجھ کو نہ آوے پیار بہت
میر تقی میر

تو جینا ہمیں اپنا دشوار ہو گا

دیوان ششم غزل 1798
جو تو ہی صنم ہم سے بیزار ہو گا
تو جینا ہمیں اپنا دشوار ہو گا
غم ہجر رکھے گا بیتاب دل کو
ہمیں کڑھتے کڑھتے کچھ آزار ہو گا
جو افراط الفت ہے ایسا تو عاشق
کوئی دن میں برسوں کا بیمار ہو گا
اچٹتی ملاقات کب تک رہے گی
کبھو تو تہ دل سے بھی یار ہو گا
تجھے دیکھ کر لگ گیا دل نہ جانا
کہ اس سنگدل سے ہمیں پیار ہو گا
لگا کرنے ہجران سختی سی سختی
خدا جانے کیا آخر کار ہو گا
یہی ہو گا کیا ہو گا میر ہی نہ ہوں گے
جو تو ہو گا بے یار و غم خوار ہو گا
میر تقی میر

جان عزیز گئی ہوتی کاش اب کے سال بہار کے ساتھ

دیوان پنجم غزل 1718
ہائے ستم ناچار معیشت کرنی پڑی ہر خار کے ساتھ
جان عزیز گئی ہوتی کاش اب کے سال بہار کے ساتھ
کس آوارئہ عشق و جنوں کی اک مٹھی اب خاک اڑی
اڑتی پھرے ہے پس محمل جو راہ کے گرد و غبار کے ساتھ
وہ لحظہ نہیں جاتا جی سے آنکھ لڑی تھی جب اس سے
چاہ نکلتی تھی باتوں سے چتون بھی تھی پیار کے ساتھ
جی مارے شب مہ میں ہمارے قہر کیا مشاطہ نے
بل کھائے بالوں کو دیے بل اس کے گلے کے ہار کے ساتھ
کیا دن تھے جو ہم کو تنہا کہیں کہیں مل جاتا تھا
اب تو لگے ہی رہتے ہیں اغیار ہمارے یار کے ساتھ
ہم ہیں مریض عشق و جنوں سختی سے دل کو مت توڑو
نرم کرے ہیں حرف و حکایت اہل خرد بیمار کے ساتھ
دیدئہ تر سے چشمۂ جوشاں ہیں جو قریب اپنے واقع
تو ہی رود چلے جاتے ہیں لگ کر جیب و کنار کے ساتھ
دیر سے ہیں بیمار محبت ہم سے قطع امید کرو
جانیں ہی جاتی دیکھی ہیں ہم نے آخر اس آزار کے ساتھ
رونے سے سب سر بر آئے خاک ہمارے سر پر میر
مدت میں ہم ٹک لگ بیٹھے تھے اس کی دیوار کے ساتھ
میر تقی میر

عشق کی گرمی دل کو پہنچی کہتے ہی آزار بہت

دیوان پنجم غزل 1584
زرد ہیں چہرے سوکھ گئے ہیں یعنی ہیں بیمار بہت
عشق کی گرمی دل کو پہنچی کہتے ہی آزار بہت
نالہ و زاری سے عاشق کی کیا ابر بہاری طرف ہو گا
دل ہے نالاں حد سے زیادہ آنکھیں ہیں خونبار بہت
برسوں ہوئے اب ہم لوگوں سے آنکھ انھوں کی نہیں ملتی
برسوں تک آپس میں رہا ہے اپنے جنھوں کے پیار بہت
ارض و سما کی پستی بلندی اب تو ہم کو برابر ہے
یعنی نشیب و فراز جو دیکھے طبع ہوئی ہموار بہت
سو غیروں میں ہو عاشق تو ایک اسی سے شرماویں
اس مستی میں آنکھیں اس کی رہتی ہیں ہشیار بہت
کم ہے ہمیں امید بہی سے اتنی نزاری پر اس کی
پچھلے دنوں دیکھا تھا ہم نے عاشق تھے بیمار بہت
میر نہ ایسا ہووے کہیں پردے ہی پر وہ مار مرے
ڈر لگتا ہے اس سے ہم کو ہے وہ ظاہر دار بہت
میر تقی میر

انچھر ہیں تو عشق کے دوہی لیکن ہے بستار بہت

دیوان پنجم غزل 1582
دل کی تہ کی کہی نہیں جاتی نازک ہے اسرار بہت
انچھر ہیں تو عشق کے دوہی لیکن ہے بستار بہت
کافر مسلم دونوں ہوئے پر نسبت اس سے کچھ نہ ہوئی
بہت لیے تسبیح پھرے ہم پہنا ہے زنار بہت
ہجر نے جی ہی مارا ہمارا کیا کہیے کیا مشکل ہے
اس سے جدا رہنا ہوتا ہے جس سے ہمیں ہے پیار بہت
منھ کی زردی تن کی نزاری چشم تر پر چھائی ہے
عشق میں اس کے یعنی ہم نے کھینچے ہیں آزار بہت
کہہ کے تغافل ان نے کیا تھا لیکن تقصیر اپنی ہے
کام کھنچا جو تیغ تک اس کی ہم نے کیا اصرار بہت
حرف و سخن اب تنگ ہوا ہے ان لوگوں کا ساتھ اپنے
منھ کرنے سے جن کی طرف آتی تھی ہم کو عار بہت
رات سے شہرت اس بستی میں میر کے اٹھ جانے کی ہے
جنگل میں جو جلد بسا جا شاید تھا بیمار بہت
میر تقی میر

سر مارے ہیں اپنے در و دیوار سے اب تک

دیوان چہارم غزل 1420
وحشت ہے ہمیں بھی وہی گھر بار سے اب تک
سر مارے ہیں اپنے در و دیوار سے اب تک
مرتے ہی سنا ان کو جنھیں دل لگی کچھ تھی
اچھا بھی ہوا کوئی اس آزار سے اب تک
جب سے لگی ہیں آنکھیں کھلی راہ تکے ہیں
سوئے نہیں ساتھ اس کے کبھو پیار سے اب تک
آیا تھا کبھو یار سو مامول ہم اس کے
بستر پہ گرے رہتے ہیں بیمار سے اب تک
بدعہدیوں میں وقت وفات آن بھی پہنچا
وعدہ نہ ہوا ایک وفا یار سے اب تک
ہے قہر و غضب دیکھ طرف کشتے کے ظالم
کرتا ہے اشارت بھی تو تلوار سے اب تک
کچھ رنج دلی میر جوانی میں کھنچا تھا
زردی نہیں جاتی مرے رخسار سے اب تک
میر تقی میر

دور سے دیکھ لیا اس کو تو جی مار رہے

دیوان سوم غزل 1258
برسوں گذرے ہیں ملے کب تئیں یوں پیار رہے
دور سے دیکھ لیا اس کو تو جی مار رہے
وہ مودت کہ جو قلبی ہو اسے سو معلوم
چار دن کہنے کو اس شوخ سے ہم یار رہے
مرگ کے حال جدائی میں جئیں یوں کب تک
جان بیتاب رہے دل کو اک آزار رہے
وجہ یہ تھی کہ ترے ساتھ لڑی آنکھ اس کی
ہم جو صورت سے تھے آئینے کی بیزار رہے
دین و دنیا کا زیاں کار کہو ہم کو میر
دو جہاں داونخستیں ہی میں ہم ہار رہے
میر تقی میر

خوں کیا ہے مدتوں اس میں غم بسیار کو

دیوان سوم غزل 1221
دوست رکھتا ہوں بہت اپنے دل بیمار کو
خوں کیا ہے مدتوں اس میں غم بسیار کو
جز عزیز از جاں نہیں یوسف کو لکھتا یہ کبھو
کیا غرور میرزائی ہے ہمارے یار کو
جب کبھو ایدھر سے نکلے ہے تو اک حسرت کے ساتھ
دیکھے ہے خورشید اس کے سایۂ دیوار کو
بوجھ تو اچھا تھا پر آخر گرو رکھتے ہوئے
وجہ جام مے نہ پایا خرقہ و دستار کو
خوں چکاں شکوے ہیں دل سے تا زباں میری ولے
سی لیا ہے تو کہے میں نے لب اظہار کو
تصفیے سے دل میں میرے منھ نظر آتا ہے لیک
کیا کروں آئینہ ساں میں حسرت دیدار کو
عاشقی وہ روگ ہے جس میں کہ ہوجاتی ہے یاس
اچھے ہوتے کم سنا ہے میر اس آزار کو
میر تقی میر

ہے بے خبری اس کو خبردار رہو تم

دیوان سوم غزل 1170
میر آج وہ بدمست ہے ہشیار رہو تم
ہے بے خبری اس کو خبردار رہو تم
جی جائے کسی کا کہ رہے تم کو قسم ہے
مقدور تلک درپئے آزار رہو تم
وہ محو جمال اپنی ہی پروا نہیں اس کو
خواہاں رہو تم اب کہ طلب گار رہو تم
اس معنی کے ادراک سے حیرت ہی ہے حاصل
آئینہ نمط صورت دیوار رہو تم
یک بار ہوا دل کی تسلی کا وہ باعث
یہ کیا کہ اسی طور پہ ہر بار رہو تم
ہو لطف اسی کا تو کوئی کام کو پہنچے
تسبیح گلے ڈال کے زنار رہو تم
کیا میر بری چال سے جینے کی چلے ہے
بہتر ہے کہ اپنے تئیں اب مار رہو تم
میر تقی میر

غمزے ہیں بلا ان کو نہ سنکار دیا کر

دیوان دوم غزل 807
مت آنکھ ہمیں دیکھ کے یوں مار دیا کر
غمزے ہیں بلا ان کو نہ سنکار دیا کر
آئینے کی مشہور پریشاں نظری ہے
تو سادہ ہے ایسوں کو نہ دیدار دیا کر
سو بار کہا غیر سے صحبت نہیں اچھی
اس جیف کو مجلس میں نہ تو بار دیا کر
کیوں آنکھوں میں سرمے کا تو دنبالہ رکھے ہے
مت ہاتھ میں ان مستوں کے تلوار دیا کر
کچھ خوب نہیں اتنا ستانا بھی کسو کا
ہے میر فقیر اس کو نہ آزار دیا کر
میر تقی میر

دیر لیکن ہے قیامت ابھی دیدار کے بیچ

دیوان دوم غزل 791
جھوٹ ہر چند نہیں یار کی گفتار کے بیچ
دیر لیکن ہے قیامت ابھی دیدار کے بیچ
کس کی خوبی کے طلبگار ہیں عزت طلباں
خرقے بکنے کو چلے آتے ہیں بازار کے بیچ
خضر و عیسیٰ کے تئیں نام کو جیتا سن لو
جان ہے ورنہ کب اس کے کسو بیمار کے بیچ
اگلے کیا پیچ تمھارے نہ تھے بس عاشق کو
بال جو اور گھر سنے لگے دستار کے بیچ
عشق ہے جس کو ترا اس سے تو رکھ دل کو جمع
زندگی کی نہیں امید اس آزار کے بیچ
ہم بھی اب ترک وفا ہی کریں گے کیا کریے
جنس یہ کھپتی نہیں آپ کی سرکار کے بیچ
دیدنی دشت جنوں ہے کہ پھپھولے پا کے
میں نے موتی سے پرو رکھے ہیں ہر خار کے بیچ
پردہ اٹھتا ہے تو پھر جان پر آ بنتی ہے
خوبی عاشق کی نہیں عشق کے اظہار کے بیچ
اس زمیں میں غزل اک اور بھی موزوں کر میر
پاتے ہیں زور ہی لذت تری گفتار کے بیچ
میر تقی میر

ہوا ابر رحمت گنہگار سا

دیوان دوم غزل 737
بندھا رات آنسو کا کچھ تار سا
ہوا ابر رحمت گنہگار سا
کوئی سادہ ہی اس کو سادہ کہے
لگے ہے ہمیں تو وہ عیار سا
محبت ہے یا کوئی جی کا ہے روگ
سدا میں تو رہتا ہوں بیمار سا
گل و سرو اچھے سبھی ہیں ولے
نہ نکلا چمن میں کوئی یار سا
جو ایسا ہی تم ہم کو سمجھو ہو سہل
ہمیں بھی یہ جینا ہے دشوار سا
فلک نے بہت کھینچے آزار لیک
نہ پہنچا بہم اس دل آزار سا
مگر آنکھ تیری بھی چپکی کہیں
ٹپکتا ہے چتون سے کچھ پیار سا
چمن ہووے جو انجمن تجھ سے واں
لگے آنکھ میں سب کی گل خار سا
کھڑے منتظر ضعف جو آگیا
گرا اس کے در پر میں دیوار سا
دکھائوں متاع وفا کب اسے
لگا واں تو رہتا ہے بازار سا
عجب کیا جو اس زلف کا سایہ دار
پھرے راتوں کو بھی پری دار سا
نہیں میر مستانہ صحبت کا باب
مصاحب کرو کوئی ہشیار سا
میر تقی میر

کیا آرزو تھی ہم کو کہ بیمار ہو گئے

دیوان اول غزل 533
تجھ بن خراب و خستہ زبوں خوار ہو گئے
کیا آرزو تھی ہم کو کہ بیمار ہو گئے
خوبی بخت دیکھ کہ خوبان بے وفا
بے ہیچ میرے درپئے آزار ہو گئے
ہم نے بھی سیر کی تھی چمن کی پر اے نسیم
اٹھتے ہی آشیاں سے گرفتار ہو گئے
وہ تو گلے لگا ہوا سوتا تھا خواب میں
بخت اپنے سو گئے کہ جو بیدار ہو گئے
اپنی یگانگی ہی کیا کرتے ہیں بیاں
اغیار رو سیاہ بہت یار ہو گئے
لائی تھی شیخوں پر بھی خرابی تری نگاہ
بے طالعی سے اپنی وے ہشیار ہو گئے
کیسے ہیں وے کہ جیتے ہیں صد سال ہم تو میر
اس چار دن کی زیست میں بیزار ہو گئے
میر تقی میر

مر جائے ولے اس کو یہ آزار نہ ہووے

دیوان اول غزل 507
یارب کوئی ہو عشق کا بیمار نہ ہووے
مر جائے ولے اس کو یہ آزار نہ ہووے
زنداں میں پھنسے طوق پڑے قید میں مر جائے
پر دام محبت میں گرفتار نہ ہووے
اس واسطے کانپوں ہوں کہ ہے آہ نپٹ سرد
یہ بائو کلیجے کے کہیں پار نہ ہووے
صد نالۂ جانکاہ ہیں وابستہ چمن سے
کوئی بال شکستہ پس دیوار نہ ہووے
پژمردہ بہت ہے گل گلزار ہمارا
شرمندئہ یک گوشۂ دستار نہ ہووے
مانگے ہے دعا خلق تجھے دیکھ کے ظالم
یارب کسو کو اس سے سروکار نہ ہووے
کس شکل سے احوال کہوں اب میں الٰہی
صورت سے مری جس میں وہ بیزار نہ ہووے
ہوں دوست جو کہتا ہوں سن اے جان کے دشمن
بہتر تو تجھے ترک ہے تا خوار نہ ہووے
خوباں برے ہوتے ہیں اگرچہ ہیں نکورو
بے جرم کہیں ان کا گنہگار نہ ہووے
باندھے نہ پھرے خون پر اپنی تو کمر کو
یہ جان سبک تن پہ ترے بار نہ ہووے
چلتا ہے رہ عشق ہی اس پر بھی چلے تو
پر ایک قدم چل کہیں زنہار نہ ہووے
صحراے محبت ہے قدم دیکھ کے رکھ میر
یہ سیر سر کوچہ و بازار نہ ہووے
میر تقی میر

رشک سے جلتے ہیں یوسف کے خریدار کئی

دیوان اول غزل 458
گرم ہیں شور سے تجھ حسن کے بازار کئی
رشک سے جلتے ہیں یوسف کے خریدار کئی
کب تلک داغ دکھاوے گی اسیری مجھ کو
مر گئے ساتھ کے میرے تو گرفتار کئی
وے ہی چالاکیاں ہاتھوں کی ہیں جو اول تھیں
اب گریباں میں مرے رہ گئے ہیں تار کئی
خوف تنہائی نہیں کر تو جہاں سے تو سفر
ہر جگہ راہ عدم میں ملیں گے یار کئی
اضطراب و قلق و ضعف میں کس طور جیوں
جان واحد ہے مری اور ہیں آزار کئی
کیوں نہ ہوں خستہ بھلا میں کہ ستم کے تیرے
تیر ہیں پار کئی وار ہیں سوفار کئی
اپنے کوچے میں نکلیو تو سنبھالے دامن
یادگار مژۂ میر ہیں واں خار کئی
میر تقی میر

جی ہی جاتے نظر آئے ہیں اس آزار کے ساتھ

دیوان اول غزل 429
کیا موافق ہو دوا عشق کے بیمار کے ساتھ
جی ہی جاتے نظر آئے ہیں اس آزار کے ساتھ
رات مجلس میں تری ہم بھی کھڑے تھے چپکے
جیسے تصویر لگا دے کوئی دیوار کے ساتھ
مر گئے پر بھی کھلی رہ گئیں آنکھیں اپنی
کون اس طرح موا حسرت دیدار کے ساتھ
شوق کا کام کھنچا دور کہ اب مہر مثال
چشم مشتاق لگی جائے ہے طومار کے ساتھ
راہ اس شوخ کی عاشق سے نہیں رک سکتی
جان جاتی ہے چلی خوبی رفتار کے ساتھ
وے دن اب سالتے ہیں راتوں کو برسوں گذرے
جن دنوں دیر رہا کرتے تھے ہم یار کے ساتھ
ذکر گل کیا ہے صبا اب کہ خزاں میں ہم نے
دل کو ناچار لگایا ہے خس و خار کے ساتھ
کس کو ہر دم ہے لہو رونے کا ہجراں میں دماغ
دل کو اک ربط سا ہے دیدئہ خونبار کے ساتھ
میری اس شوخ سے صحبت ہے بعینہ ویسی
جیسے بن جائے کسو سادے کو عیار کے ساتھ
دیکھیے کس کو شہادت سے سر افراز کریں
لاگ تو سب کو ہے اس شوخ کی تلوار کے ساتھ
بے کلی اس کی نہ ظاہر تھی جو تو اے بلبل
دم کش میر ہوئی اس لب و گفتار کے ساتھ
میر تقی میر

ناسور چشم ہو مژہ خوں بار کیوں نہ ہو

دیوان اول غزل 397
عاشق ہوئے تو گو غم بسیار کیوں نہ ہو
ناسور چشم ہو مژہ خوں بار کیوں نہ ہو
کامل ہو اشتیاق تو اتنا نہیں ہے دور
حشر دگر پہ وعدئہ دیدار کیوں نہ ہو
گل گشت کا بھی لطف دل خوش سے ہے نسیم
پیش نظر وگرنہ چمن زار کیوں نہ ہو
مخصوص دل ہے کیا مرض عشق جاں گداز
اے کاش اس کو اور کچھ آزار کیوں نہ ہو
آوے جو کوئی آئینہ بازار دہر میں
بارے متاع دل کا خریدار کیوں نہ ہو
مقصود درد دل ہے نہ اسلام ہے نہ کفر
پھر ہر گلے میں سجہ و زنار کیوں نہ ہو
شاید کہ آوے پرسش احوال کو کبھو
عاشق بھلا سا ہووے تو بیمار کیوں نہ ہو
تلوار کے تلے بھی ہیں آنکھیں تری ادھر
تو اس ستم کا میر سزاوار کیوں نہ ہو
میر تقی میر

اب دل گرفتگی سے آزار کھینچتے ہیں

دیوان اول غزل 348
لیتے ہیں سانس یوں ہم جوں تار کھینچتے ہیں
اب دل گرفتگی سے آزار کھینچتے ہیں
سینہ سپر کیا تھا جن کے لیے بلا کا
وے بات بات میں اب تلوار کھینچتے ہیں
مجلس میں تیری ہم کو کب غیر خوش لگے ہے
ہم بیچ اپنے اس کے دیوار کھینچتے ہیں
بے طاقتی نے ہم کو چاروں طرف سے کھویا
تصدیع گھر میں بیٹھے ناچار کھینچتے ہیں
منصور کی حقیقت تم نے سنی ہی ہو گی
حق جو کہے ہے اس کو یاں دار کھینچتے ہیں
شکوہ کروں تو کس سے کیا شیخ کیا برہمن
ناز اس بلاے جاں کے سب یار کھینچتے ہیں
ناوک سے میر اس کے دل بستگی تھی مجھ کو
پیکاں جگر سے میرے دشوار کھینچتے ہیں
میر تقی میر

لگتا نہیں ہے دل کا خریدار آج کل

دیوان اول غزل 270
مندا ہے اختلاط کا بازار آج کل
لگتا نہیں ہے دل کا خریدار آج کل
اس مہلت دو روزہ میں خطرے ہزار ہیں
اچھا ہے رہ سکو جو خبردار آج کل
اوباشوں ہی کے گھر تجھے پانے لگے ہیں روز
مارا پڑے گا کوئی طلبگار آج کل
ملنے کی رات داخل ایام کیا نہیں
برسوں ہوئے کہاں تئیں اے یار آج کل
گلزار ہورہے ہے مرے دم سے کوے یار
اک رنگ پر ہے دیدئہ خوں بار آج کل
تاشام اپنا کام کھنچے کیونکے دیکھیے
پڑتی نہیں ہے جی کو جفا کار آج کل
کعبے تلک تو سنتے ہیں ویرانہ و خراب
آباد ہے سو خانۂ خمار آج کل
ٹھوکر دلوں کو لگنے لگی ہے خرام میں
لاوے گی اک بلا تری رفتار آج کل
ایسا ہی مغبچوں میں جو آنا ہے شیخ جی
تو جارہے ہیں جبہ و دستار آج کل
حیران میں ہی حال کی تدبیر میں نہیں
ہر اک کو شہر میں ہے یہ آزار آج کل
اچھا نہیں ہے میر کا احوال ان دنوں
غالب کہ ہو چکے گا یہ بیمار آج کل
میر تقی میر

تر ہیں سب سرکے لہو سے در و دیوار ہنوز

دیوان اول غزل 233
مر گیا میں پہ مرے باقی ہیں آثار ہنوز
تر ہیں سب سرکے لہو سے در و دیوار ہنوز
دل بھی پر داغ چمن ہے پر اسے کیا کیجے
جی سے جاتی ہی نہیں حسرت دیدار ہنوز
بہ کیے عمر ہوئی ابر بہاری کو ولے
لہو برسا رہے ہیں دیدئہ خوں بار ہنوز
بد نہ لے جائیو پوچھوں ہوں تجھی سے یہ طبیب
بہ ہوا کوئی بھی اس درد کا بیمار ہنوز
نا امیدی میں تو مر گئے پہ نہیں یہ معلوم
جیتے ہیں کون سی امید پہ ناچار ہنوز
بارہا چل چکی تلوار تری چال پہ شوخ
تو نہیں چھوڑتا اس طرز کی رفتار ہنوز
ایک دن بال فشاں ٹک ہوئے تھے خوش ہوکر
ہیں غم دل کی اسیری میں گرفتار ہنوز
کوئی تو آبلہ پا دشت جنوں سے گذرا
ڈوبا ہی جائے ہے لوہو میں سر خار ہنوز
منتظر قتل کے وعدے کا ہوں اپنے یعنی
جیتا مرنے کو رہا ہے یہ گنہگار ہنوز
اڑ گئے خاک ہو کتنے ہی ترے کوچے سے
باز آتے نہیں پر تیرے ہوادار ہنوز
ایک بھی زخم کی جا جس کے نہ ہو تن پہ کہیں
کوئی دیتا ہے سنا ویسے کو آزار ہنوز
ٹک تو انصاف کر اے دشمن جان عاشق
میان سے نکلی پڑے ہے تری تلوار ہنوز
میر کو ضعف میں میں دیکھ کہا کچھ کہیے
ہے تجھے کوئی گھڑی قوت گفتار ہنوز
ابھی اک دم میں زباں چلنے سے رہ جاتی ہے
درد دل کیوں نہیں کرتا ہے تو اظہار ہنوز
آنسو بھر لا کے بہت حزن سے یہ کہنے لگا
کیا کہوں تجھ کو سمجھ اس پہ نہیں یار ہنوز
آنکھوں میں آن رہا جی جو نکلتا ہی نہیں
دل میں میرے ہے گرہ حسرت دیدار ہنوز
میر تقی میر

جاتے ہیں جی سے کس قدر آزار دیکھ کر

دیوان اول غزل 214
مرتے ہیں تیری نرگس بیمار دیکھ کر
جاتے ہیں جی سے کس قدر آزار دیکھ کر
افسوس وے کہ منتظر اک عمر تک رہے
پھر مر گئے ترے تئیں یک بار دیکھ کر
ناخواندہ خط شوق لگے چاک کرنے تو
قاصد تو کہیو ٹک کہ جفا کار دیکھ کر
کوئی جو دم رہا ہے سو آنکھوں میں ہے پھر اب
کریو ٹک ایک وعدئہ دیدار دیکھ کر
دیکھیں جدھر وہ رشک پری پیش چشم ہے
حیران رہ گئے ہیں یہ اسرار دیکھ کر
جاتا ہے آسماں لیے کوچے سے یار کے
آتا ہے جی بھرا در و دیوار دیکھ کر
تیرے خرام ناز پہ جاتے ہیں جی چلے
رکھ ٹک قدم زمیں پہ ستمگار دیکھ کر
طالع نے چشم پوشی کی یاں تک کہ ہم نشیں
چھپتا ہے مجھ کو دور سے اب یار دیکھ کر
جی میں تھا اس سے ملیے تو کیا کیا نہ کہیے میر
پر جب ملے تو رہ گئے ناچار دیکھ کر
میر تقی میر

کام آئے فراق میں اے یار

دیوان اول غزل 211
دل دماغ و جگر یہ سب اک بار
کام آئے فراق میں اے یار
کیوں نہ ہو ضعف غالب اعضا پر
مر گئے ہیں قشون کے سردار
گل پژمردہ کا نہیں ممنون
ہم اسیروں کا گوشۂ دستار
مت نکل گھر سے ہم بھی راضی ہیں
دیکھ لیں گے کبھو سر بازار
سینکڑوں حرف ہیں گرہ دل میں
پر کہاں پایئے لب اظہار
سیر کر دشت عشق کا گلشن
غنچے ہو ہورہے ہیں سو سو خار
روز محشر ہے رات ہجراں کی
ایسی ہم زندگی سے ہیں بیزار
بحث نالہ بھی کیجیو بلبل
پہلے پیدا تو کر لب گفتار
چاک دل پر ہیں چشم صد خوباں
کیا کروں یک انار و صد بیمار
شکر کر داغ دل کا اے غافل
کس کو دیتے ہیں دیدئہ بیدار
گو غزل ہو گئی قصیدہ سی
عاشقوں کا ہے طول حرف شعار
ہر سحر لگ چلی تو ہے تو نسیم
اے سیہ مست ناز ٹک ہشیار
شاخسانے ہزار نکلیں گے
جو گیا اس کی زلف کا اک تار
واجب القتل اس قدر تو ہوں
کہ مجھے دیکھ کر کہے ہے پکار
یہ تو آیا نہ سامنے میرے
لائو میری میاں سپر تلوار
آ زیارت کو قبر عاشق پر
اک طرح کا ہے یاں بھی جوش بہار
نکلے ہے میری خاک سے نرگس
یعنی اب تک ہے حسرت دیدار
میر صاحب زمانہ نازک ہے
دونوں ہاتھوں سے تھامیے دستار
سہل سی زندگی پہ کام کے تیں
اپنے اوپر نہ کیجیے دشوار
چار دن کا ہے مجہلہ یہ سب
سب سے رکھیے سلوک ہی ناچار
کوئی ایسا گناہ اور نہیں
یہ کہ کیجے ستم کسی پر یار
واں جہاں خاک کے برابر ہے
قدر ہفت آسمان ظلم شعار
یہی درخواست پاس دل کی ہے
نہیں روزہ نماز کچھ درکار
در مسجد پہ حلقہ زن ہو تم
کہ رہو بیٹھ خانۂ خمار
جی میں آوے سو کیجیو پیارے
لیک ہوجو نہ درپئے آزار
حاصل دو جہان ہے یک حرف
ہو مری جان آگے تم مختار
میر تقی میر

یک سینہ خنجر سینکڑوں یک جان و آزار اس قدر

دیوان اول غزل 209
کر رحم ٹک کب تک ستم مجھ پر جفا کار اس قدر
یک سینہ خنجر سینکڑوں یک جان و آزار اس قدر
بھاگے مری صورت سے وہ عاشق میں اس کی شکل پر
میں اس کا خواہاں یاں تلک وہ مجھ سے بیزار اس قدر
منزل پہنچنا یک طرف نے صبر ہے نے ہے سکوں
یکسر قدم میں آبلے پھر راہ پرخار اس قدر
ہے جاے ہر دل میں تری آ درگذر کر بے وفا
کر رحم ٹک اپنے اپرمت ہو دل آزار اس قدر
جز کشمکش ہووے تو کیا عالم سے ہم کو فائدہ
یہ بے فضا ہے اک قفس ہم ہیں گرفتار اس قدر
غیر اور بغل گیری تری عید اور ہم سے بھاگنا
ہم یار ہوں یوں غم زدے خوش ہوئیں اغیار اس قدر
طاقت نہیں ہے بات کی کہتا تھا نعرہ ماریے
کیا جانتا تھا میر ہوجاوے گا بیمار اس قدر
میر تقی میر

رہنے لگا ہے دل کو اب آزار بے طرح

دیوان اول غزل 194
ہونے لگا گذار غم یار بے طرح
رہنے لگا ہے دل کو اب آزار بے طرح
اب کچھ طرح نہیں ہے کہ ہم غم زدے ہوں شاد
کہنے لگا ہے منھ سے ستمگار بے طرح
جاں بر تمھارے ہاتھ سے ہو گا نہ اب کوئی
رکھنے لگے ہو ہاتھ میں تلوار بے طرح
فتنہ اٹھے گا ورنہ نکل گھر سے تو شتاب
بیٹھے ہیں آ کے طالب دیدار بے طرح
لوہو میں شور بور ہے دامان و جیب میر
بپھرا ہے آج دیدئہ خونبار بے طرح
میر تقی میر

عاشق کا اپنے آخری دیدار دیکھنا

دیوان اول غزل 121
آنکھوں میں جی مرا ہے ادھر یار دیکھنا
عاشق کا اپنے آخری دیدار دیکھنا
کیسا چمن کہ ہم سے اسیروں کو منع ہے
چاک قفس سے باغ کی دیوار دیکھنا
آنکھیں چرائیو نہ ٹک ابر بہار سے
میری طرف بھی دیدئہ خونبار دیکھنا
اے ہم سفر نہ آبلے کو پہنچے چشم تر
لاگا ہے میرے پائوں میں آ خار دیکھنا
ہونا نہ چار چشم دل اس ظلم پیشہ سے
ہشیار زینہار خبردار دیکھنا
صیاد دل ہے داغ جدائی سے رشک باغ
تجھ کو بھی ہو نصیب یہ گلزار دیکھنا
گر زمزمہ یہی ہے کوئی دن تو ہم صفیر
اس فصل ہی میں ہم کو گرفتار دیکھنا
بلبل ہمارے گل پہ نہ گستاخ کر نظر
ہوجائے گا گلے کا کہیں ہار دیکھنا
شاید ہماری خاک سے کچھ ہو بھی اے نسیم
غربال کرکے کوچۂ دلدار دیکھنا
اس خوش نگہ کے عشق سے پرہیز کیجو میر
جاتا ہے لے کے جی ہی یہ آزار دیکھنا
میر تقی میر

اس جنس کا یاں ہم نے خریدار نہ پایا

دیوان اول غزل 55
عالم میں کوئی دل کا طلبگار نہ پایا
اس جنس کا یاں ہم نے خریدار نہ پایا
حق ڈھونڈنے کا آپ کو آتا نہیں ورنہ
عالم ہے سبھی یار کہاں یار نہ پایا
غیروں ہی کے ہاتھوں میں رہے دست نگاریں
کب ہم نے ترے ہاتھ سے آزار نہ پایا
جاتی ہے نظر خس پہ گہ چشم پریدن
یاں ہم نے پر کاہ بھی بے کار نہ پایا
تصویر کے مانند لگے در ہی سے گذری
مجلس میں تری ہم نے کبھو بار نہ پایا
سوراخ ہے سینے میں ہر اک شخص کے تجھ سے
کس دل کے ترا تیر نگہ پار نہ پایا
مربوط ہیں تجھ سے بھی یہی ناکس و نااہل
اس باغ میں ہم نے گل بے خار نہ پایا
دم بعد جنوں مجھ میں نہ محسوس تھا یعنی
جامے میں مرے یاروں نے اک تار نہ پایا
آئینہ بھی حیرت سے محبت کی ہوئے ہم
پر سیر ہو اس شخص کا دیدار نہ پایا
وہ کھینچ کے شمشیر ستم رہ گیا جو میر
خوں ریزی کا یاں کوئی سزاوار نہ پایا
میر تقی میر

گل باغ میں گلے کا مرے ہار ہو گیا

دیوان اول غزل 37
خوبی کا اس کی بسکہ طلبگار ہو گیا
گل باغ میں گلے کا مرے ہار ہو گیا
کس کو نہیں ہے شوق ترا پر نہ اس قدر
میں تو اسی خیال میں بیمار ہو گیا
میں نودمیدہ بال چمن زاد طیر تھا
پر گھر سے اٹھ چلا سو گرفتار ہو گیا
ٹھہرا گیا نہ ہو کے حریف اس کی چشم کا
سینے کو توڑ تیر نگہ پار ہو گیا
ہے اس کے حرف زیرلبی کا سبھوں میں ذکر
کیا بات تھی کہ جس کا یہ بستار ہو گیا
تو وہ متاع ہے کہ پڑی جس کی تجھ پہ آنکھ
وہ جی کو بیچ کر بھی خریدار ہو گیا
کیا کہیے آہ عشق میں خوبی نصیب کی
دلدار اپنا تھا سو دل آزار ہو گیا
آٹھوں پہر لگا ہی پھرے ہے تمھارے ساتھ
کچھ ان دنوں میں غیر بہت یار ہو گیا
کب رو ہے اس سے بات کے کرنے کا مجھ کو میر
ناکردہ جرم میں تو گنہگار ہو گیا
میر تقی میر

غافل نہ رہ کہ قافلہ اک بار جائے گا

دیوان اول غزل 33
اے تو کہ یاں سے عاقبت کار جائے گا
غافل نہ رہ کہ قافلہ اک بار جائے گا
موقوف حشر پر ہے سو آتے بھی وے نہیں
کب درمیاں سے وعدئہ دیدار جائے گا
چھوٹا جو میں قفس سے تو سب نے مجھے کہا
بے چارہ کیونکے تا سر دیوار جائے گا
دے گی نہ چین لذت زخم اس شکار کو
جو کھا کے تیرے ہاتھ کی تلوار جائے گا
آوے گی اک بلا ترے سر سن لے اے صبا
زلف سیہ کا اس کی اگر تار جائے گا
باہر نہ آتا چاہ سے یوسف جو جانتا
لے کارواں مرے تئیں بازار جائے گا
تدبیر میرے عشق کی کیا فائدہ طبیب
اب جان ہی کے ساتھ یہ آزار جائے گا
آئے بن اس کے حال ہوا جائے ہے تغیر
کیا حال ہو گا پاس سے جب یار جائے گا
کوچے کے اس کے رہنے سے باز آ وگرنہ میر
اک دن تجھے وہ جان سے بھی مار جائے گا
میر تقی میر

فقیر ظلم کے دربار سے نکل آئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 515
حصارِ جبہ و دستار سے نکل آئے
فقیر ظلم کے دربار سے نکل آئے
دکھائی کیا دیا اک خطِ مستقیم مجھے
کہ دائرے مری پرکار سے نکل آئے
خبر ہو نغمہء گل کو، سکوت کیا شے ہے
کبھی جو رنگ کے بازار سے نکل آئے
پہن لے چھاؤں جو میرے بدن کی تنہائی
تو دھوپ سایہء دیوار سے نکل آئے
اُدھر سے نیم برہنہ بدن کے آتے ہی
امامِ وقت، اِدھر، کار سے نکل آئے
ذرا ہوئی تھی مری دوستی اندھیروں سے
چراغ کتنے ہی اس پار سے نکل آئے
کبھی ہوا بھی نہیں اور ہو بھی ہو سکتا ہے
اچانک آدمی آزار سے نکل آئے
یہ چاہتی ہے حکومت ہزار صدیوں سے
عوام درہم و دینار سے نکل آئے
دبی تھی کوئی خیالوں میں سلطنت منصور
زمین چٹخی تو آثار سے نکل آئے
منصور آفاق

دی ہم نے زبردستی لبِ یار پہ دستک

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 260
ہونٹوں بھری رکھ دی درِ انکارِ پہ دستک
دی ہم نے زبردستی لبِ یار پہ دستک
اک شام پلٹ آئے ہیں یہ بات الگ ہے
دی پاؤں نے برسوں رہِ پُر خار پہ دستک
پھر رات کی رانی کا محل سامنے مہکے
پھر صبح کی چڑیوں بھری چہکار پہ دستک
کاندھے پہ کوئی بھیدوں بھری پوٹلی رکھ کر
دیتا ہے پھر امکان ابد زار پہ دستک
دم بھر کو نئی صبح کا اعلانیہ سن کر
دی اہلِ قفس نے گل و گلزار پہ دستک
بازار سے گزرا تو چہکتی ہوئی رت کی
تصویر نے دی جیبِ خریدار پہ دستک
کچھ ہاتھ کہیں اور سے آیا ہی نہیں ہے
دینا پڑی پھر عرشِ کرم بار پہ دستک
ممکن ہے ملاقات ہو آسیبِ بدن سے
اچھی طرح دے کمرئہ اسرار پہ دستک
ہے فرض یہی تجھ پہ یہی تیری عبادت
دے خاک نسب ! خانہء سیار پہ دستک
درویش فقیری ہی کہیں بھول نہ جائے
یہ کون ہے دیتا ہے جو پندار پہ دستک
وہ دیکھیے دینے لگا پھر اپنے بدن سے
اک تازہ گنہ، چشم گنہگار پہ دستک
اٹھ دیکھ کوئی درد نیا آیا ہوا ہے
وہ پھر ہوئی دروازئہ آزار پہ دستک
دشنام گلابوں کی طرح ہونٹوں پہ مہکیں
درشن کے لیے دے درِ دلدار پہ دستک
برسوں سے کھڑا شخص زمیں بوس ہوا ہے
یہ کیسی سمندر کی تھی کہسار پہ دستک
پانی مجھے مٹی کی خبر دینے لگے ہیں
اک سبز جزیرے کی ہے پتوار پہ دستک
افسوس ضروری ہے مرا بولنا دو لفظ
پھر وقت نے دی حجرۂ اظہار پہ دستک
مایوسی کے عالم میں محبت کا مسافر
در چھوڑ کے دینے لگا دیوار پہ دستک
دی جائے سلگتی ہوئی پُر شوق نظر سے
کچھ دیر تو اس کے لب و رخسار پہ دستک
اب اور گنی جاتی نہیں مجھ سے یہ قبریں
اب دینی ضروری ہے کسی غار پہ دستک
منصور بلایا ہے مجھے خواب میں اس نے
دی نیند نے پھر دیدۂ بیدار پہ دستک
منصور آفاق

دیکھ پڑتی ہوئی دیوار کے سینے میں دراڑ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 255
ساعتِ دیدۂ انکار کے سینے میں دراڑ
دیکھ پڑتی ہوئی دیوار کے سینے میں دراڑ
ایک ہی لفظ سے بھونچال نکل آیا ہے
پڑ گئی ہے کسی کہسار کے سینے میں دراڑ
کوئی شے ٹوٹ گئی ہے مرے اندر شاید
آ گئی ہے مرے پندار کے سینے میں دراڑ
چاٹتی جاتی ہے رستے کی طوالت کیا کیا
ایک بنتی ہوئی دلدار کے سینے میں دراڑ
تم ہی ڈالو گے مرے شاہ سوارو آخر
موت کی وادیِ اسرار کے سینے میں دراڑ
کھلکھلاتی ہوئی اک چشمِ سیہ نے ڈالی
آ مری صحبتِ آزار کے سینے میں دراڑ
رو پڑا خود ہی لپٹ کر شبِ غم میں مجھ سے
تھی کہانی ترے کردار کے سینے میں دراڑ
روندنے والے پہاڑوں کو پلٹ آئے ہیں
دیکھ کر قافلہ سالار کے سینے میں دراڑ
صبح کی پہلی کرن ! تجھ پہ تباہی آئے
ڈال دی طالعِ بیدار کے سینے میں دراڑ
کل شبِ ہجر میں طوفان کوئی آیا تھا
دیدۂ نم سے پڑی یار کے سینے میں دراڑ
غم کے ملبے سے نکلتی ہوئی پہلی کونپل
دیکھ باغیچہء مسمار کے سینے میں دراڑ
لفظ کی نوکِ سناں سے بھی کہاں ممکن ہے
وقت کے خانہء زنگار کے سینے میں دراڑ
بس قفس سے یہ پرندہ ہے نکلنے والا
نہ بڑھا اپنے گرفتار کے سینے میں دراڑ
شام تک ڈال ہی لیتے ہیں اندھیرے منصور
صبح کے جلوۂ زرتار کے سینے میں دراڑ
منصور آفاق