ٹیگ کے محفوظات: آزاد

غم حرماں کا کب تک کھینچیں شاد کرو تو بہتر ہے

دیوان چہارم غزل 1498
دیر سے ہم کو بھول گئے ہو یاد کرو تو بہتر ہے
غم حرماں کا کب تک کھینچیں شاد کرو تو بہتر ہے
پہنچا ہوں میں دوری سے مرنے کے نزدیک آخر تو
قیدحیات سے بندے کو آزاد کرو تو بہتر ہے
جو کریے گا حق میں میرے خوبی ہے میری اس ہی میں
داد کرو تو بہتر ہے بیداد کرو تو بہتر ہے
زخم دامن دار جگر سے جامہ گذاری ہو نہ گئی
ظلم نمایاں اب کوئی جو ایجاد کرو تو بہتر ہے
عشق میں دم مارا نہ کبھو تم چپکے چپکے میر کھپے
لوہو منھ سے مل کر اب فریاد کرو تو بہتر ہے
میر تقی میر

ایسا کچھ کرکے چلو یاں کہ بہت یاد رہو

دیوان سوم غزل 1230
بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہو
ایسا کچھ کرکے چلو یاں کہ بہت یاد رہو
عشق پیچے کی طرح حسن گرفتاری ہے
لطف کیا سرو کی مانند گر آزاد رہو
ہم کو دیوانگی شہروں ہی میں خوش آتی ہے
دشت میں قیس رہو کوہ میں فرہاد رہو
وہ گراں خواب جو ہے ناز کا اپنے سو ہے
داد بے داد رہو شب کو کہ فریاد رہو
میر ہم مل کے بہت خوش ہوئے تم سے پیارے
اس خرابے میں مری جان تم آباد رہو
میر تقی میر

زبان سرخ سرِسبز دیتی ہے برباد

دیوان سوم غزل 1127
ہماری بات کو اے شمع بزم کریو یاد
زبان سرخ سرِسبز دیتی ہے برباد
ہمیں اسیر تو ہونا ہے اپنا اچھا یاد
کشش نہ دام کی دیکھی نہ کوشش صیاد
نہ دردمندی سے یہ راہ تم چلے ورنہ
قدم قدم پہ تھی یاں جاے نالہ و فریاد
ہزار فاختہ گردن میں طوق پہنے پھرے
اسے خیال نہیں کچھ وہ سرو ہے آزاد
جہاں میں اتنے ہی آشوب کیا رہیں گے بس
ابھی پڑے گا مرے خون بے گنہ سے زیاد
چمن میں اٹھتے ہیں سنّاہٹے سے اے بلبل
جگرخراش یہ نالے ہیں تیرے منھ سے زیاد
ثبات قصر و در و بام و خشت و گل کتنا
عمارت دل درویش کی رکھو بنیاد
چمن میں یار ہمیں لے گئے تھے وا نہ ہوئے
ہمارے ساتھ یہی غم یہی دل ناشاد
ہمیں تو مرنے کا طور اس کے خوش بہت آیا
طواف کریے جو ہو نخل ماتم فرہاد
نظر نہ کرنی طرف صید کے دم بسمل
یہ ظلم تازہ ہوا اس کشندے سے ایجاد
چلے نہ تیغ اگر ہم نگاہ عجز کریں
ہماری اور نہ دیکھے خدا کرے جلاد
کب ان نے دل میں کر انصاف ہم پہ لطف کیا
وہی ہے خشم وہی یاں سے جا وہی بیداد
تمام ریجھ پچائو ہیں اب تو پھر پس مرگ
کہا کنھوں نے تو کیا عزّاسمہٗ استاد
اگرچہ گنج بھی ہے پر خرابیاں ہیں بہت
نہ پھر خرابے میں اے میر خانماں برباد
میر تقی میر

ٹک اک خاطر خواب صیاد کیجو

دیوان اول غزل 412
نہ آ دام میں مرغ فریاد کیجو
ٹک اک خاطر خواب صیاد کیجو
یہ تہمت بڑی ہے کہ مر گئی ہے شیریں
تحمل ٹک اے مرگ فرہاد کیجو
غم گل میں مرتا ہوں اے ہم صفیرو
چمن میں جو جائو مجھے یاد کیجو
رہائی مری مدعی ضعف سے ہے
تو صیاد مجھ کو نہ آزاد کیجو
مرے روبرو آئینہ لے کے ظالم
دم واپسیں میں تو تو شاد کیجو
جدا تن سے کرتے ہی پامال کرنا
یہ احساں مرے سر پہ جلاد کیجو
میر تقی میر

رکھ کے تیشہ کہے ہے یا استاد

دیوان اول غزل 203
میرے سنگ مزار پر فرہاد
رکھ کے تیشہ کہے ہے یا استاد
ہم سے بن مرگ کیا جدا ہو ملال
جان کے ساتھ ہے دل ناشاد
موند آنکھیں سفر عدم کا کر
بس ہے دیکھا نہ عالم ایجاد
فکر تعمیر میں نہ رہ منعم
زندگانی کی کچھ بھی ہے بنیاد
خاک بھی سر پہ ڈالنے کو نہیں
کس خرابے میں ہم ہوئے آباد
سنتے ہو ٹک سنو کہ پھر مجھ بعد
نہ سنوگے یہ نالہ و فریاد
لگتی ہے کچھ سموم سی تو نسیم
خاک کس دل جلے کی دی برباد
بھولا جا ہے غم بتاں میں جی
غرض آتا ہے پھر خدا ہی یاد
تیرے قید قفس کا کیا شکوہ
نالے اپنے سے اپنے سے فریاد
ہر طرف ہیں اسیر ہم آواز
باغ ہے گھر ترا تو اے صیاد
ہم کو مرنا یہ ہے کہ کب ہوں کہیں
اپنی قید حیات سے آزاد
ایسا وہ شوخ ہے کہ اٹھتے صبح
جانا سو جاے اس کی ہے معتاد
نہیں صورت پذیر نقش اس کا
یوں ہی تصدیع کھینچے ہے بہزاد
خوب ہے خاک سے بزرگوں کی
چاہنا تو مرے تئیں امداد
پر مروت کہاں کی ہے اے میر
تو ہی مجھ دل جلے کو کر ارشاد
نامرادی ہو جس پہ پروانہ
وہ جلاتا پھرے چراغ مراد
میر تقی میر

اور کچھ اس بے وفا کو یاد رکھنا چاہیے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 646
دل کو کچھ دن اور بھی برباد رکھنا چاہیے
اور کچھ اس بے وفا کو یاد رکھنا چاہیے
کونج کی سسکاریاں سُن کر کھلا رخصت کی شام
گھر بڑی شے ہے اسے آباد رکھنا چاہیے
ریل میں جس سے ہوئی تھی یونہی دم بھر گفتگو
خوبصورت آدمی تھا، یاد رکھنا چاہیے
موسم گل ہے کہیں بھی لڑکھڑا سکتا ہے دل
ہر گھڑی اندیشۂ افتاد رکھنا چاہیے
فربہ بھیڑوں کی چراگاہوں میں خیمہ زن نہ رہ
اک سفر جاری سفر کے بعد رکھنا چاہیے
باغ چاہے کہر میں گم ہے تجھے آنکھوں کے بیچ
بس وہی خوش قامتِ شمشاد رکھنا چاہیے
مت پکڑ منصور پتوں میں یہ چھپتی تیتری
ایسی نازک چیز کو آزاد رکھنا چاہیے
منصور آفاق

اس میں تُو آباد رہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 639
خواہ یہ دل برباد رہے
اس میں تُو آباد رہے
شکر ہے دشتِ حسرت میں
پاؤں مسافت زاد رہے
برسوں غم کے مکتب میں
میر مرے استاد رہے
اک لمحے کی خواہش میں
برسوں ہم ناشاد رہے
ایک دعا دکھیارے کی
غم سے تُو آزاد رہے
اشکوں سے تعمیر ہوئی
درد مری بنیاد رہے
جیسا بھی ہوں تیرا ہوں
اتنا تجھ کو یاد رہے
تیری گلی میں سانس سدا
مائل بر فریاد رہے
زخم نہ چاٹے کوئی بھی
مر جائے یا شاد رہے
میں برمنگھم قید رہا
وہ اسلام آباد رہے
میرے نواحِ جاں منصور
کتنے ستم ایجاد رہے
منصور آفاق

جو ہمیں بھول گیا ہے اسے کیا یاد کریں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 300
اب کوئی اورخدا کعبہ میں آباد کریں
جو ہمیں بھول گیا ہے اسے کیا یاد کریں
اتنی بے رحم سلگتی ہوئی تنہائی میں
در کوئی ہے جہاں انصاف کی فریاد کریں
زندگی اور خدا دونوں بڑے تیزمزاج
کس کو ناشاد کریں اور کسے شاد کریں
شب کی تعمیر گرانا کوئی آساں تو نہیں
تھک نہ جائے کہیں آ وقت کی امداد کریں
ہے ازل ہی سے وفا اپنے قبیلے کی سرشت
کیا گلہ تجھ سے ترے خانماں برباد کریں
روک کر ہاتھ سے خورشید کی گردش منصور
وقت کی قید سے آفاق کو آزاد کریں
منصور آفاق

اس کو بھی اپنی طرح برباد کر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 170
اب کوئی ایسا ستم ایجاد کر
اس کو بھی اپنی طرح برباد کر
روند کر رکھ دوں ترے سات آسماں
اک ذرا بس موت سے آزاد کر
اب مجھے تسخیر کرنے کے لیے
اسم اعظم روح میں آباد کر
میری باتیں میری آنکھیں میرے ہاتھ
بیٹھ کر اب رو مجھے اور یاد کر
قریہء تشکیک کی سرحد پہ ہوں
صاحبِ لوح و قلم امداد کر
خالق و مخلوق میں دے فاصلے
ہم خدا زادوں کو آدم زاد کر
خشک سالی آ گئی آنکھوں تلک
پانیوں کے واسطے فریاد کر
ہے رکا کوئی یہاں برسوں کے بعد
بس دعائے عمرِ ابر و باد کر
اک قیامت سے نکل آیا ہوں میں
اب کوئی نازل نئی افتاد کر
ہیں ہمہ تن گوش ساتوں آسماں
بول کچھ منصور کچھ ارشاد کر
منصور آفاق