ٹیگ کے محفوظات: آرائی

’’مُلتجی تھا تری تصویر سے گویائی کا‘‘

رات بھر کربِ مسلسل مری تنہائی کا
’’مُلتجی تھا تری تصویر سے گویائی کا‘‘
کسی شب آئیے تصویر سے باہر صاحب
آپ پر قرض بہت ہے مری بینائی کا
ہم نے مَرمَر کے جیے جانے کا فن سیکھ لیا
ہم سے اُٹھتا نہیں احسان مسیحائی کا
کون آیا ہے نیا شہر میں معلوم کرو
سبھی ارمان لئے پھِرتے ہیں رُسوائی کا
کسی خوش رنگ سے نسبت کا اَثَر ہے شاید
شوق زخموں میں دَر آیا ہے خود آرائی کا
خوب احسان کِیا عشقِ جنوں پیشہ نے
نام ہر سنگ پہ لکّھا ترے سَودائی کا
اَور تو کارگہِ حُسن میں کیا ہے ضامنؔ
اِک تماشا ہے تمنّا و تمنّائی کا
ضامن جعفری

شبِ فراق ہے یا تیری جلوہ آرائی

ترے خیال سے لو دے اُٹھی ہے تنہائی
شبِ فراق ہے یا تیری جلوہ آرائی
تو کس خیال میں ہے منزلوں کے شیدائی
اُنھیں بھی دیکھ جنھیں راستے میں نیند آئی
پکار اے جرسِ کاروانِ صبحِ طرب
بھٹک رہے ہیں اندھیروں میں تیرے سودائی
ٹھہر گئے ہیں سرِ راہ خاک اُڑانے کو
مسافروں کو نہ چھیڑ اے ہوائے صحرائی
رہِ حیات میں کچھ مرحلے تو دیکھ لیے
یہ اور بات تری آرزو نہ راس آئی
یہ سانحہ بھی محبت میں بارہا گزرا
کہ اُس نے حال بھی پوچھا تو آنکھ بھر آئی
دلِ فسردہ میں پھر دھڑکنوں کا شور اُٹھا
یہ بیٹھے بیٹھے مجھے کن دنوں کی یاد آئی
میں سوتے سوتے کئی بار چونک چونک پڑا
تمام رات ترے پہلوئوں سے آنچ آئی
جہاں بھی تھا کوئی فتنہ تڑپ کے جاگ اُٹھا
تمام ہوش تھی مستی میں تیری انگڑائی
کھلی جو آنکھ تو کچھ اور ہی سماں دیکھا
وہ لوگ تھے نہ وہ جلسے نہ شہرِ رعنائی
وہ تابِ درد وہ سودائے انتظار کہاں
اُنھی کے ساتھ گئی طاقتِ شکیبائی
پھر اُس کی یاد میں دل بے قرار ہے ناصرؔ
بچھڑ کے جس سے ہوئی شہر شہر رسوائی
ناصر کاظمی

سلسلے عرش تلک حسنِ پذیرائی کے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 573
وہ تعلق ہیں زمیں زاد سے دانائی کے
سلسلے عرش تلک حسنِ پذیرائی کے
میرے سینے سے بھی دھڑکن کی صدا اٹھی تھی
اس کی آنکھوں میں بھی تھے عکس شناسائی کے
حرف نے باندھ رکھا ہے کوئی پاؤں سے سروش
مجھ پہ ہیں کشفِ مسلسل سخن آرائی کے
بادلوں سے بھی ٹپکتی ہیں لہو کی بوندیں
دیکھ لو چارہ گرو زخم مسیحائی کے
سیٹیاں بجتی ہیں بس کان میں سناٹوں کی
رابطے مجھ سے زیادہ نہیں تنہائی کے
روشنی اتنی چراغِ لب و رخ سے نکلی
ختم یک لخت ہوئے سلسلے بینائی کے
آخرش میں نے بھی تلوار اٹھا لی منصور
حوصلہ ختم ہوئے میری شکیبائی کے
منصور آفاق

حیراں ہیں اپنی اتنی پذیرائی دیکھ کر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 176
اک ایک ڈاٹ کام پہ رسوائی دیکھ کر
حیراں ہیں اپنی اتنی پذیرائی دیکھ کر
سگریٹ کی سمت بڑھ گیا پھر اس کا نرم ہاتھ
پہلے پہل ذرا ہمیں شرمائی دیکھ کر
یہ اور بات ڈوب گئے ہیں کہیں مگر
رکھا تھا پاؤں پانی کی گہرائی دیکھ کر
ہم آ گئے وہاں کہ جہاں واپسی نہیں
اس کی ذرا سی حوصلہ افزائی دیکھ کر
افسوس صبحِ عمر جہنم میں جھونک دی
اک لمس پوش رات کی رعنائی دیکھ کر
دانتوں سے کاٹ کاٹ لیں اس نے کلائیاں
میری کسی کے ساتھ شناسائی دیکھ کر
ہم نے تمام رات جلائی ہیں خواہشیں
دل ڈر گیا تھا برف سی تنہائی دیکھ کر
آتے ہیں زندگی میں کچھ ایسے مقام بھی
جب رو پڑے تماشا ، تماشائی دیکھ کر
بس انتہائیں حسن کی معلوم ہو گئیں
زیبا علی ظہور کی زیبائی دیکھ کر
واپس پلٹ گئے جنہیں شوقِ وصال تھا
بس پہلے آسمان کی پہنائی دیکھ کر
ہم آئینے کے سامنے تصویر ہو گئے
آنکھوں میں اس کی انجمن آرائی دیکھ کر
پھر ایک اور شخص گلی سے گزر گیا
پھر بج اٹھا تھا دل کوئی پرچھائی دیکھ کر
اک دلنواز گیت سا مدہم سروں کے پیچ
برسات گنگناتی تھی پروائی دیکھ کر
معجز نما ہے صبحِ ازل سے وصالِ یار
حیراں نہ ہو بدن کی مسیحائی دیکھ کر
اندھی سڑک پہ بھاگ پڑی رات کی طرف
یک لخت اتنی روشنی بینائی دیکھ کر
کس کس کے ساتھ جنگ کریں گے دیار میں
ہم سوچتے ہیں تیرے تمنائی دیکھ کر
منصور زندگی کی کہانی سمجھ گئے
دریائے تند و تیز کی دارائی دیکھ کر
منصور آفاق