ٹیگ کے محفوظات: آداب

پلکیں نہ ہوئی تھیں مری خوناب سے واقف

دیوان چہارم غزل 1415
میں آگے نہ تھا دیدئہ پرآب سے واقف
پلکیں نہ ہوئی تھیں مری خوناب سے واقف
پتھر تو بہت لڑکوں کے کھائے ہیں ولیکن
ہم اب بھی جنوں کے نہیں آداب سے واقف
ہم ننگ خلائق یہ عجب ہے کہ نہیں ہیں
اس عالم اسباب میں اسباب سے واقف
شب آنکھیں کھلی رہتی ہیں ہم منتظروں کی
جوں دیدئہ انجم نہیں ہیں خواب سے واقف
بل کھائے انھیں بالوں کو ہم جانیں ہیں یا میر
ہیں پیچ و غم و رنج و تب و تاب سے واقف
میر تقی میر

دل کے پہلو سے ہم آتش میں ہیں اور آب میں ہیں

دیوان سوم غزل 1174
ٹھنڈی سانسیں بھریں ہیں جلتے ہیں کیا تاب میں ہیں
دل کے پہلو سے ہم آتش میں ہیں اور آب میں ہیں
ساتھ اپنے نہیں اسباب مساعد مطلق
ہم بھی کہنے کے تئیں عالم اسباب میں ہیں
غفلت دل سے ستم گذریں ہیں سو مت پوچھو
قافلے چلنے کو تیار ہیں ہم خواب میں ہیں
عشق کے ہیں گے جو سرگشتہ پڑے ہیں ڈوبے
کشتیاں نکلیں سو کیا آن کے گرداب میں ہیں
دور کیا اس سے جو بیٹھے ہے غبار اپنا دور
پاس اس طور کے بھی عشق کے آداب میں ہیں
ہے فروغ مہ تاباں سے فراغ کلی
دل جلے پرتو رخ سے ترے مہتاب میں ہیں
ہم بھی اس شہر میں ان لوگوں سے ہیں خانہ خراب
میر گھر بار جنھوں کے رہ سیلاب میں ہیں
میر تقی میر

میں ہجومِ ریشم و کمخواب میں رہتا نہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 395
دھوپ میں پھرتا ہوں دن بھر خواب میں رہتا نہیں
میں ہجومِ ریشم و کمخواب میں رہتا نہیں
ہے مناسب بے کسی کی کوٹھری میرے لئے
غم پہن کر میں شبِ مہتاب میں رہتا نہیں
کھل کے روتا ہوں ہمیشہ بادلوں کے ساتھ میں
یونہی ہجراں کے ادب آداب میں رہتا نہیں
ایک صحرا ہے مرے چاروں طرف پھیلا ہوا
میں مری جاں ! قریۂ شاداب میں رہتا نہیں
ہر طرف بکھری ہوئی منصور ویرانی سی ہے
میں مکاں کے عالمِ اسباب میں رہتا نہیں
منصور آفاق