ٹیگ کے محفوظات: آخر

گوہر تر جوں سرشک آنکھوں سے سب کی گر گیا

دیوان دوم غزل 731
خندئہ دنداں نما کرتا جو وہ کافر گیا
گوہر تر جوں سرشک آنکھوں سے سب کی گر گیا
کیا گذر کوے محبت میں ہنسی ہے کھیل ہے
پائوں رکھا جس نے ٹک اودھر پھر اس کا سر گیا
کیا کوئی زیرفلک اونچا کرے فرق غرور
ایک پتھر حادثے کا آلگا سر چر گیا
نیزہ بازان مژہ میں دل کی حالت کیا کہوں
ایک ناکسبی سپاہی دکھنیوں میں گھر گیا
بعد مدت اس طرف لایا تھا اس کو جذب عشق
بخت کی برگشتگی سے آتے آتے پھر گیا
تیز دست اتنا نہیں وہ ظلم میں اب فرق ہے
یعنی لوہا تھا کڑا تیغ ستم کا کر گیا
سخت ہم کو میر کے مرجانے کا افسوس ہے
تم نے دل پتھر کیا وہ جان سے آخر گیا
میر تقی میر

ہے میرے ساتھ تو اب ختم قرنِ آخر بھی

مجید امجد ۔ غزل نمبر 190
چمن تو ہیں نئی صبحوں کے دائمی، پھر بھی
ہے میرے ساتھ تو اب ختم قرنِ آخر بھی
مری ہی عمر تھی جو میں نے رائیگاں سمجھی
کسی کے پاس نہ تھا ایک سانس وافر بھی
خود اپنے غیب میں بن باس بھی ملا مجھ کو
میں اس جہان کے ہر سانحے میں حاضر بھی
ہیں یہ کھنچاؤ جو چہروں پہ آب و ناں کے لیے
انھی کا حصہ ہے میرا سکونِ خاطر بھی
میں اس جواز میں نادم بھی اپنے صدق پہ ہوں
میں اس گنہ میں ہوں اپنی خطا سے منکر بھی
یہ کس کے اذن سے ہیں اور یہ کیا زمانے ہیں
جو زندگی میں مرے ساتھ ہیں مسافر بھی
ہیں تیری گھات میں امجد جو آسمانوں کے ذہن
ذرا بہ پاسِ وفا ان کے دام میں گر بھی
مجید امجد

یہ الگ بات بظاہر تجھے چھوڑ آیا ہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 283
دل نہیں مانتا میں پھرتجھے چھوڑ آیا ہوں
یہ الگ بات بظاہر تجھے چھوڑ آیا ہوں
پاؤں پتھر تھے پہاڑوں کی طرح لگتے ہیں
سچ یہی ہے تری خاطر تجھے چھوڑ آیا ہوں
تُو جہاں بھول گیا تھا مجھے رکھ کر جاناں
میں اسی جگہ پہ آخر تجھے چھوڑ آیا ہوں
تُو جہنم کی گلی میں مجھے چھوڑآیا تھا
میں تو جنت میں مسافر تجھے چھوڑ آیا ہوں
جتنا ممکن تھا ترا ساتھ دیا ہے لیکن
آخرش میں بھی اے کافر تجھے چھوڑ آیا ہوں
منصور آفاق

ہو گا کسی کے ہاتھ سے آخر بنا ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 60
آئے نظر جو روحِ مناظر بنا ہوا
ہو گا کسی کے ہاتھ سے آخر بنا ہوا
یہ کون جا رہا ہے مدینے سے دشت کو
ہے شہر سارا حامی و ناصر بنا ہوا
پر تولنے لگا ہے مرے کینوس پہ کیوں
امکان کے درخت پہ طائر بنا ہوا
یہ اور بات کھلتا نہیں ہے کسی طرف
ہے ذہن میں دریچہ بظاہر بنا ہوا
آغوشِ خاک میں جسے صدیاں گزر گئیں
پھرتا ہے وہ جہاں میں مسافر بنا ہوا
فتویٰ دو میرے قتل کا فوراً جنابِ شیخ
میں ہوں کسی کے عشق میں کافر بنا ہوا
کیا قریہء کلام میں قحط الرجال ہے
منصور بھی ہے دوستو شاعر بنا ہوا
منصور آفاق