ٹیگ کے محفوظات: آجانے

ابھی کچھ کم ہیں اُلجھے! اَور اُلجھانے سے کیا ہو گا

غمِ ہستی کے افسانوں کو دوہرانے سے کیا ہو گا
ابھی کچھ کم ہیں اُلجھے! اَور اُلجھانے سے کیا ہو گا
جنونِ عشق میرا حشر میں سب کو بچا لایا
زمانہ یہ سمجھتا تھا کہ دیوانے سے کیا ہو گا
رہَے کچھ فاصلہ تَو حُسنِ منظر لطف دیتا ہے
تمہیں معلوم ہے؟ نزدیک آجانے سے کیا ہو گا؟
ضرورت جس کی دَوارنِ سَفَر ہو گی نہ منزل پر
وہ سامانِ سَفَر سب ساتھ لے جانے سے کیا ہو گا
جنوں والوں میں ضامنؔ کچھ نتیجہ عین ممکن ہے
جنہیں زعمِ خِرَد ہے اُن کو سمجھانے سے کیا ہو گا
ضامن جعفری

بارے سب روزے تو گذرے مجھے میخانے میں

دیوان سوم غزل 1210
اب کے ماہ رمضاں دیکھا تھا پیمانے میں
بارے سب روزے تو گذرے مجھے میخانے میں
جیسے بجلی کے چمکنے سے کسو کی سدھ جائے
بے خودی آئی اچانک ترے آجانے میں
وہ تو بالیں تئیں آیا تھا ہماری لیکن
سدھ بھی کچھ ہم کو نہ تھی جانے کے گھبرانے میں
آج سنتے ہیں کہ فردا وہ قدآرا ہو گا
دیر کچھ اتنی قیامت کے نہیں آنے میں
حق جو چاہے تو بندھی مٹھی چلا جائوں میر
مصلحت دیکھی نہ میں ہاتھ کے پھیلانے میں
میر تقی میر