ٹیگ کے محفوظات: آتشیں

ہم چھوڑی مہر اس کی کاش اس کو ہووے کیں بھی

دیوان اول غزل 440
یکسو کشادہ روئی پرچیں نہیں جبیں بھی
ہم چھوڑی مہر اس کی کاش اس کو ہووے کیں بھی
آنسو تو تیرے دامن پونچھے ہے وقت گریہ
ہم نے نہ رکھی منھ پر اے ابر آستیں بھی
کرتا نہیں عبث تو پارہ گلو فغاں سے
گذرے ہے پار دل کے اک نالۂ حزیں بھی
ہوں احتضار میں میں آئینہ رو شتاب آ
جاتا ہے ورنہ غافل پھر دم تو واپسیں بھی
سینے سے تیر اس کا جی کو تو لیتا نکلا
پر ساتھوں ساتھ اس کے نکلی اک آفریں بھی
ہر شب تری گلی میں عالم کی جان جا ہے
آگے ہوا ہے اب تک ایسا ستم کہیں بھی
شوخی جلوہ اس کی تسکین کیونکے بخشے
آئینوں میں دلوں کے جو ہے بھی پھر نہیں بھی
گیسو ہی کچھ نہیں ہے سنبل کی آفت اس کا
ہیں برق خرمن گل رخسار آتشیں بھی
تکلیف نالہ مت کر اے درد دل کہ ہوں گے
رنجیدہ راہ چلتے آزردہ ہم نشیں بھی
کس کس کا داغ دیکھیں یارب غم بتاں میں
رخصت طلب ہے جاں بھی ایمان اور دیں بھی
زیر فلک جہاں ٹک آسودہ میر ہوتے
ایسا نظر نہ آیا اک قطعۂ زمیں بھی
میر تقی میر

نہیں نہیں میں مسیحا نہیں معافی دو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 225
صلیبیں دور یہ گاڑو کہیں ،معافی دو
نہیں نہیں میں مسیحا نہیں معافی دو
اتار سکتا نہیں ہوں میں قرض مٹی کے
اے میرے دیس اے میری زمیں معافی دو
کسی کے سامنے جھکنا مجھے نہیں آتا
سجودِ خاک سے عاری جبیں معافی دو
خدا سے میرے مراسم میں تم نہیں موجود
بہشتِ نہر مہ و انگبیں معافی دو
نہیں ہے سانپ کو بھی مارناروا مجھ پر
لپکتے مارِ کفِ آستیں معافی دو
وجودِ وحدتِ کل سے جدا نہیں ہوں میں
شہودِ شر کے بزرگِ لعیں معافی دو
نکلنے کو مرے ہاتھوں سے ہے نمازِ عشا
عکاظِ نو کی شبِ آتشیں معافی دو
یہاں گنہ ہے تمنا، یہ ہے رہِ منصور
دیارِ دست طلب کے نگیں معافی دو
منصور آفاق

ہم تمہارے نہیں! خدا حافظ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 202
حسنِ خلدِ بریں! خدا حافظ
ہم تمہارے نہیں! خدا حافظ
موت کا وار کامیاب ہوا
خنجرِ آستیں! خدا حافظ
جسم پر بار اب ہے زہرِ مگس
شہد کی سرزمیں! خدا حافظ
دل مچلتاہے سجدہ کرنے کو
سرکشیدہ جبیں! خدا حافظ
بھوک ہے قحط ہے، تمہارا بھی
پرورِ عالمیں! خدا حافظ
ہم نے انگشتری بدل لی ہے
آسماں کے نگیں! خدا حافظ
ہم اِدھر بھی نہیں اُدھر بھی نہیں
اے چناں اے چنیں! خدا حافظ
خوش رہو تم جہاں رہو ساتھی
کہہ رہے ہیں ہمیں! خدا حافظ
چھوڑدی پوجا آفتابوں کی
دینِ مہرِ مبیں! خدا حافظ
ہم حصارِ نظر سے باہر تھے
دیدہِ دل نشیں! خدا حافظ
اس کو دیکھا بھی ہے ٹٹولا بھی
صحبتِ بے یقیں! خدا حافظ
آرہا ہے قیام کو کوئی
اے غمِ جا گزیں! خدا حافظ
ہے لبِ یار پر تبسم سا
سوزِ طبعِ حزیں! خدا حافظ
زندگی سے لڑائی کیا کرنی
اے کمان و کمیں! خدا حافظ
تم مخالف نہیں حکومت کے
حلقۂ مومنیں! خدا حافظ
شاخ کی طرح خالی ہونا تھا
اے گلِ آخریں! خدا حافظ
چھوڑ آئے ہیں ہم بھرا میلہ
نغمۂ آفریں! خدا حافظ
یاد کے دشت نے پکارا ہے
چشمۂ انگبیں! خدا حافظ
آگ تم سے بھی اب نہیں جلتی
اے مئے آتشیں! خدا حافظ
تم کو بالشتیے مبارک ہوں
رفعتِ ملک و دیں! خدا حافظ
یہ تعلق نہیں ، نہیں منصور
تم کہیں ، ہم کہیں! خدا حافظ
منصور آفاق