ٹیگ کے محفوظات: آتا

ہر ناز آفریں کو ستاتا رہا ہوں میں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 111
ایذا دہی کی داد جو پاتا رہا ہوں میں
ہر ناز آفریں کو ستاتا رہا ہوں میں
اے خوش خرام پاؤں کے چھالے تو گن ذرا
تجھ کو کہاں کہاں نہ پھراتا رہا ہوں میں
تجھ کو خبر نہیں کہ ترا حال دیکھ کر
اکثر ترا مذاق اڑاتا رہا ہوں میں
جس دن سے اعتماد میں آیا ترا شباب
اس دن سے تجھ پہ ظلم ہی ڈھاتا رہا ہوں میں
بیدار کر کے تیرے بدن کی خود آ گہی
تیرے بدن کی عمر گھٹاتا رہا ہوں میں
اک سطر بھی کبھی نہ لکھی میں نے تیرے نام
پاگل تجھی کو یاد بھی آتا رہا ہوں میں
شاید مجھے کسی سے محبت نہیں ہوئی
لیکن یقین سب کو دلاتا رہا ہوں میں
اک حسنِ بے مثال کی تمثیل کے لئے
پرچھائیوں پہ رنگ گراتا رہا ہوں میں
اپنا مثالیہ مجھے اب تک نہ مل سکا
ذروں کو آفتاب بتاتا رہا ہوں میں
کیا مل گیا ضمیرِ ہنر بیچ کر مجھے
اتنا کہ صرف کام چلاتا رہا ہوں میں
کل دوپہر عجیب سی اک بے دلی رہی
بس تیلیاں جلا کے بجھاتا رہا ہوں میں
جون ایلیا

وہ ستمگر اس ستم کش کو ستاتا ہے بہت

دیوان ششم غزل 1815
جو کوئی اس بے وفا سے دل لگاتا ہے بہت
وہ ستمگر اس ستم کش کو ستاتا ہے بہت
اس کے سونے سے بدن سے کس قدر چسپاں ہے ہائے
جامہ کبریتی کسو کا جی جلاتا ہے بہت
کیا پس از چندے مری آوارگی منظور ہے
مو پریشاں اب جو شب مجھ پاس آتا ہے بہت
چاہ میں بھی بیشتر جانے سے کم ہوتا ہے وقر
اس لیے جاتا ہوں تب جب وہ بلاتا ہے بہت
گرچہ کم جاتا ہوں پر دل پر نہیں کچھ اختیار
وہ کجی سے سیدھیاں مجھ کو سناتا ہے بہت
بھول جاوے گا سخن پردازی اس کے سامنے
شاعری سے جو کوئی باتیں بناتا ہے بہت
بامزہ معشوق کیا کم ہیں پر اس کو کیا کروں
ناز و انداز اس ہی کا جو مجھ کو بھاتا ہے بہت
وہ نہیں ہجراں میں اس بن خواب خوش آوے مجھے
اب خیال اس کی طرف ہر لحظہ جاتا ہے بہت
کیا کروں کہنے لگا ایدھر نہ آنے پائے وہ
بد کہیں ہنگامہ آرا میر آتا ہے بہت
میر تقی میر

کیا جانوں میں روئوں گا کیسا دریا چڑھتا آتا ہے

دیوان پنجم غزل 1743
دل بھی بھرا رہتا ہے میرا جی بھی رندھا کچھ جاتا ہے
کیا جانوں میں روئوں گا کیسا دریا چڑھتا آتا ہے
سچ ہے وہ جو کہا کرتا ہے کون ہے تو کیا سمجھے ہمیں
بیگانے تو ہیں ہی ہم وے ناؤں کا چاہ کا ناتا ہے
تو بلبل آزردہ نہ ہو گل پھول سے باغ بہاراں میں
رنج کش الفت ہے عاشق جی اپنا بہلاتا ہے
عشق و محبت کیا جانوں میں لیکن اتنا جانوں ہوں
اندر ہی سینے میں میرے دل کو کوئی کھاتا ہے
عاشق اپنا جان لیا ہے ان نے شاید میر ہمیں
دیکھ بھری مجلس میں اپنی ہم ہی سے شرماتا ہے
میر تقی میر

مجنوں مجنوں لوگ کہے ہیں مجنوں کیا ہم سا ہو گا

دیوان پنجم غزل 1555
دل تڑپے ہے جان کھپے ہے حال جگر کا کیا ہو گا
مجنوں مجنوں لوگ کہے ہیں مجنوں کیا ہم سا ہو گا
دیدئہ تر کو سمجھ کر اپنا ہم نے کیا کیا حفاظت کی
آہ نہ جانا روتے روتے یہ چشمہ دریا ہو گا
کیا جانیں آشفتہ دلاں کچھ ان سے ہم کو بحث نہیں
وہ جانے گا حال ہمارا جس کا دل بیجا ہو گا
پائوں حنائی اس کے لے آنکھوں پر اپنی ہم نے رکھے
یہ دیکھا نہ رنگ کفک پر ہنگامہ کیا برپا ہو گا
جاگہ سے بے تہ جاتے ہیں دعوے وے ہی کرتے ہیں
ان کو غرور و ناز نہ ہو گا جن کو کچھ آتا ہو گا
روبہ بہی اب لاہی چکے ہیں ہم سے قطع امید کرو
روگ لگا ہے عشق کا جس کو وہ اب کیا اچھا ہو گا
دل کی لاگ کہیں جو ہو تو میر چھپائے اس کو رکھ
یعنی عشق ہوا ظاہر تو لوگوں میں رسوا ہو گا
میر تقی میر

مروت قحط ہے آنکھیں نہیں کوئی ملاتا یاں

دیوان چہارم غزل 1464
پھرا میں صورت احوال ہر یک کو دکھاتا یاں
مروت قحط ہے آنکھیں نہیں کوئی ملاتا یاں
خرابہ دلی کا دہ چند بہتر لکھنؤ سے تھا
وہیں میں کاش مرجاتا سراسیمہ نہ آتا یاں
محبت دشمن جاں ہے جو میں معلوم یہ کرتا
تو کاہے کو کسو سے میر اپنا دل لگاتا یاں
میر تقی میر

آخر اب دوری میں جی جاتا رہا

دیوان چہارم غزل 1334
عشق کیا کیا آفتیں لاتا رہا
آخر اب دوری میں جی جاتا رہا
مہر و مہ گل پھول سب تھے پر ہمیں
چہرئی چہرہ ہی وہ بھاتا رہا
دل ہوا کب عشق کی رہ کا دلیل
میں تو خود گم ہی اسے پاتا رہا
منھ دکھاتا برسوں وہ خوش رو نہیں
چاہ کا یوں کب تلک ناتا رہا
کچھ نہ میں سمجھا جنون و عشق میں
دیر ناصح مجھ کو سمجھاتا رہا
داغ تھا جو سر پہ میرے شمع ساں
پائوں تک مجھ کو وہی کھاتا رہا
کیسے کیسے رک گئے ہیں میر ہم
مدتوں منھ تک جگر آتا رہا
میر تقی میر

دیدنی ہے پہ بہت کم نظر آتا ہے میاں

دیوان سوم غزل 1201
شہروں ملکوں میں جو یہ میر کہاتا ہے میاں
دیدنی ہے پہ بہت کم نظر آتا ہے میاں
عالم آئینہ ہے جس کا وہ مصور بے مثل
ہائے کیا صورتیں پردے میں بناتا ہے میاں
قسمت اس بزم میں لائی کہ جہاں کا ساقی
دے ہے مے سب کو ہمیں زہر پلاتا ہے میاں
ہوکے عاشق ترے جان و دل و دیں کھو بیٹھے
جیسا کرتا ہے کوئی ویسا ہی پاتا ہے میاں
حسن یک چیز ہے ہم ہوویں کہ تو ہو ناصح
ایسی شے سے کوئی بھی ہاتھ اٹھاتا ہے میاں
جھکّڑ اس حادثے کا کوہ گراں سنگ کو بھی
جوں پر کاہ اڑائے لیے جاتا ہے میاں
کیا پری خواں ہے جو راتوں کو جگاوے ہے میر
شام سے دل جگر و جان جلاتا ہے میاں
میر تقی میر

خفت کھینچ کے جاتا ہوں رہتا نہیں دل پھر آتا ہوں

دیوان سوم غزل 1181
ظلم و ستم کیا جور و جفا کیا جو کچھ کہیے اٹھاتا ہوں
خفت کھینچ کے جاتا ہوں رہتا نہیں دل پھر آتا ہوں
گھر سے اٹھ کر لڑکوں میں بیٹھا بیت پڑھی دو باتیں کیں
کس کس طور سے اپنے دل کو اس بن میں بہلاتا ہوں
ہائے سبک ہونا یہ میرا فرط شوق سے مجلس میں
وہ تو نہیں سنتا دل دے کر میں ہی باتیں بناتا ہوں
قتل میں میرے یہ صحبت ہے غم غصے سے محبت کے
لوہو اپنا پیتا ہوں تلواریں اس کی کھاتا ہوں
آنے کی میری فرصت کتنی دو دم دو پل ایک گھڑی
رنجش کیوں کا ہے کو خشونت غصہ کیا ہے جاتا ہوں
سرماروں ہوں ایدھر اودھر دور تلک جاتا ہوں نکل
پاس نہیں پاتا جو اس کو کیا کیا میں گھبراتا ہوں
پھاڑ کے خط کو گلے میں ڈالا شہر میں سب تشہیر کیا
سامنے ہوں قاصد کے کیونکر اس سے میں شرماتا ہوں
پہلے فریب لطف سے اس کے کچھ نہ ہوا معلوم مجھے
اب جو چاہ نے بدلیں طرحیں کڑھتا ہوں پچھتاتا ہوں
مجرم اس خاطر ہوتا ہوں میں بعضی بعضی شوخی کر
عذر گناہ میں جاکر اس کے پائوں کو ہاتھ لگاتا ہوں
دیکھے ان پلکوں کے اکثر میر ہوں بے خود تنگ آیا
آپ کو پاتا ہوں تو چھری اس وقت نہیں میں پاتا ہوں
میر تقی میر

قدم دو ساتھ میری نعش کے جاتا تو کیا ہوتا

دیوان دوم غزل 685
گیا میں جان سے وہ بھی جو ٹک آتا تو کیا ہوتا
قدم دو ساتھ میری نعش کے جاتا تو کیا ہوتا
پھرا تھا دور اس سے مدتوں میں کوہ و صحرا میں
بلاکر پاس اپنے مجھ کو بٹھلاتا تو کیا ہوتا
ہوئے آخر کو سارے کام ضائع ناشکیبی سے
کوئی دن اور تاب ہجر دل لاتا تو کیا ہوتا
دم بسمل ہمارے زیر لب کچھ کچھ کہا سب نے
جو وہ بے رحم بھی کچھ منھ سے فرماتا تو کیا ہوتا
کہے سے غیر کے وہ توڑ بیٹھا ووہیں یاروں سے
کیے جاتا اگر ٹک چاہ کا ناتا تو کیا ہوتا
کبھو سرگرم بازی ہمدموں سے یاں بھی آجاتا
ہمیں یک چند اگر وہ اور بہلاتا تو کیا ہوتا
گئے لے میر کو کل قتل کرنے اس کے در پر سے
جو وہ بھی گھر سے باہر اپنے ٹک آتا تو کیا ہوتا
میر تقی میر

پسند آیا ،ہوا میں دھوپ پھیلاتا ہوا میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 312
دریچوں سے سیہ پردوں کو سرکاتا ہوا میں
پسند آیا ،ہوا میں دھوپ پھیلاتا ہوا میں
وہی ہوں میں مجھے پہچان دن کی روشنی میں
وہی تیرے مسلسل خواب میں آتا ہوا میں
کسی منہ زور تتلی کا تعاقب کر رہا ہوں
یہ خوشبو کی طرح پھولوں میں چکراتا ہوا میں
تمنا ہے رہوں جاگیر میں اپنی ہمیشہ
زمیں پر گفتگو کے پھول مہکاتا ہوا میں
جہاں کوکس لئے منصوردیتا ہوں دکھائی
کہیں آتا ہوا میں اور کہیں جاتا ہوا میں
منصور آفاق

تنہائی کے مکان میں آتا ہے کون شخص

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 197
آسیب میں چراغ جلاتا ہے کون شخص
تنہائی کے مکان میں آتا ہے کون شخص
جی چاہتا ہے اس سے ملاقات کو مگر
اجڑے ہووں کو پاس بٹھاتا ہے کون شخص
چلتا ہے کس کے پاؤں سے رستہ بہار کا
موسم کو اپنی سمت بلاتا ہے کون شخص
جس میں خدا سے پہلے کا منظر دکھائی دے
وہ کافرانہ خواب دکھاتا ہے کون شخص
پھر اک ہزار میل سمندر ہے درمیاں
اب دیکھئے دوبارہ ملاتا ہے کون شخص
برسوں سے میں پڑا ہوں قفس میں وجود کے
مجھ کو چمن کی سیر کراتا ہے کون شخص
منصور صحنِ دل کی تمازت میں بیٹھ کر
ہر روز اپنے بال سکھاتا ہے کون شخص
منصور آفاق

اور اس کے بعد کمرے میں آتا تھا کون شخص

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 196
راتوں میں کھڑکیوں کو بجاتا تھا کون شخص
اور اس کے بعد کمرے میں آتا تھا کون شخص
قوسِ قزح پہ کیسے مرے پاؤں چلتے تھے
دھیمے سروں میں رنگ بہاتا تھا کون شخص
مٹی ہوں جانتا ہوں کہاں کوزہ گر کا نام
یہ یاد کب ہے چاک گھماتا تھا کون شخص
بادل برستے رہتے تھے جو دل کے آس پاس
پچھم سے کھینچ کر انہیں لاتا تھا کون شخص
ہوتا تھا دشت میں کوئی اپنا جنوں نواز
شب بھر متاعِ درد لٹاتا تھا کون شخص
کوئی دعا تھی، یا کوئی نیکی نصیب کی
گرتا تھا میں کہیں تو اٹھاتا تھا کون شخص
اس کہنہ کائنات کے کونے میں بیٹھ کر
کارِ ازل کے کشف کماتا تھا کون شخص
بہکے ہوئے بدن پہ بہکتی تھی بھاپ سی
اور جسم پر شراب گراتا تھا کون شخص
ہونٹوں کی سرخیوں سے مرے دل کے چاروں اور
داغِ شبِ فراق مٹاتا تھا کون شخص
پاؤں سے دھوپ گرتی تھی جس کے وہ کون تھا
کرنوں کو ایڑیوں سے اڑاتا تھا کون شخص
وہ کون تھا جو دیتا تھا اپنے بدن کی آگ
بے رحم سردیوں سے بچاتا تھا کون شخص
ماتھے پہ رکھ کے سرخ لبوں کی قیامتیں
سورج کو صبح صبح جگاتا تھا کون شخص
منصور بار بار ہوا کون کرچیاں
مجھ کو وہ آئینہ سا دکھاتا تھا کون شخص
منصور آفاق

وہ جنگ تھی کسی کی وہ جھگڑا کہیں کا تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 89
پھیلا ہوا ہے گھر میں جو ملبہ، کہیں کا تھا
وہ جنگ تھی کسی کی وہ جھگڑا کہیں کا تھا
پھر اک فریبِ ذات ہوا اپنا شاٹ کٹ
پہنچے کہیں پہ اور ہیں سوچا کہیں کا تھا
جبہ تھا ’دہ خدا‘ کا تو دستار سیٹھ کی
حجرے کی وارڈروب بھی کاسہ کہیں کا تھا
آخر خبر ہوئی کہ وہ اپنی ہے ملکیت
منظر جو آنکھ کو نظر آتا کہیں کا تھا
جو دشت آشنا تھا ستارہ کہیں کا تھا
میں جس سے سمت پوچھ رہا تھا کہیں کا تھا
حیرت ہے جا رہا ہے ترے شہر کی طرف
کل تک یہی تو تھا کہ یہ رستہ، کہیں کا تھا
سوکھے ہوئے شجر کو دکھاتی تھی بار بار
پاگل ہوا کے ہاتھ میں پتا کہیں کا تھا
بس دوپہر کی دھوپ نے رکھا تھا جوڑ کے
دیوارِ جاں کہیں کی تھی سایہ کہیں کا تھا
وہ آئینہ بھی میرا تھا، آنکھیں بھی میری تھیں
چہرے پہ عنکبوت کا جالا کہیں کا تھا
کیا پوچھتے ہو کتنی کشش روشنی میں ہے
آیا کہیں ہوں اور ارادہ کہیں کا تھا
شاید میں رہ رہا تھا کسی اور وقت میں
وہ سال وہ مہینہ وہ ہفتہ کہیں کا تھا
صحرا مزاج ڈیم کی تعمیر کے سبب
بہنا کہیں پڑا اسے، دریا کہیں کا تھا
تاروں بھری وہ رات بھی کچھ کچھ کمینی تھی
کچھ اس کا انتظار بھی کتا کہیں کا تھا
گاہے شبِ وصال تھی گاہے شبِ فراق
آنکھیں کہیں لگی تھیں دریچہ کہیں کا تھا
اے دھوپ گھیر لائی ہے میری ہوا جسے
وہ آسماں پہ ابر کا ٹکڑا کہیں کا تھا
جلنا کہاں تھا دامنِ شب میں چراغِ غم
پھیلا ہوا گلی میں اجالا کہیں کا تھا
پڑھنے لگا تھا کوئی کتابِ وفا مگر
تحریر تھی کہیں کی، حوالہ کہیں کا تھا
اتری کہیں پہ اور مرے وصل کی اڑان
منصور پاسپورٹ پہ ویزہ کہیں کا تھا
منصور آفاق

شام ہے لالی شگنوں والی، رات ہے کالی ماتا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 1
درد مرا شہباز قلندر، دکھ ہے میرا داتا
شام ہے لالی شگنوں والی، رات ہے کالی ماتا
اک پگلی مٹیار نے قطرہ قطرہ سرخ پلک سے
ہجر کے کالے چرخِ کہن پر شب بھر سورج کاتا
پچھلی گلی میں چھوڑ آیا ہوں کروٹ کروٹ یادیں
اک بستر کی سندر شکنیں کون اٹھا کر لاتا
شہرِ تعلق میں اپنے دو ناممکن رستے تھے
بھول اسے میں جاتا یا پھر یاد اسے میں آتا
ہجرت کر آیا ہے ایک دھڑکتا دل شاعر کا
پاکستان میں کب تک خوف کو لکھتا موت کو گاتا
مادھو لال حسین مرا دل، ہر دھڑکن منصوری
ایک اضافی چیز ہوں میں یہ کون مجھے سمجھاتا
وارث شاہ کا وہ رانجھا ہوں ہیر نہیں ہے جس کی
کیسے دوہے بُنتا کیسے میں تصویر بناتا
ہار گیا میں بھولا بھالا ایک ٹھگوں کے ٹھگ سے
بلھے شاہ سا ایک شرابی شہر کو کیا بہکاتا
میری سمجھ میں آ جاتا گر حرف الف سے پہلا
باہو کی میں بے کا نقطہ بن بن کر مٹ جاتا
ذات محمد بخش ہے میری۔۔۔ شجرہ شعر ہے میرا
اذن نہیں ہے ورنہ ڈیرہ قبرستان لگاتا
میں موہن جو داڑو، مجھ میں تہذبیوں کی چیخیں
ظلم بھری تاریخیں مجھ میں ، مجھ سے وقت کا ناتا
ایک اکیلا میں منصور آفاق کہاں تک آخر
شہرِ وفا کے ہر کونے میں تیری یاد بچھاتا
منصور آفاق