ٹیگ کے محفوظات: آب

سمجھ لو اضطراب سے نکل گیا

اگر میں دشتِ خواب سے نکل گیا
سمجھ لو اضطراب سے نکل گیا
بری خبر سناؤں؟ سن سکو گے تم؟
میں حلقۂ جناب سے نکل گیا
رموزیں چھانٹنے لگا فضول میں
ارے میں کیوں حجاب سے نکل گیا!
نکل گیا وہ سایۂ امان سے
جو عشقِ بوتراب سے نکل گیا
شکست ہو گئی مرے رقیب کو
کہ پاؤں جب رکاب سے نکل گیا
خوشی منا!گلے لگا کہ آج میں
حجابِ خاک و آب سے نکل گیا
افتخار فلک

سو سو قاصد جان سے جاویں یک کو ادھر سے جواب نہ ہو

دیوان پنجم غزل 1714
کیونکر مجھ کو نامہ نمط ہر حرف پہ پیچ و تاب نہ ہو
سو سو قاصد جان سے جاویں یک کو ادھر سے جواب نہ ہو
گل کو دیکھ کے گلشن کے دروازے ہی سے پھر آیا
کیا مل بیٹھیے اس سے بھلا جو صحبت ہی کا باب نہ ہو
مستی خرابی سر پر لائی کعبے سے اٹھ دیر گیا
جس کو خدا نے خراب کیا ہو پھر وہ کیونکے خراب نہ ہو
خلع بدن کرنے سے عاشق خوش رہتے ہیں اس خاطر
جان و جاناں ایک ہیں یعنی بیچ میں تن جو حساب نہ ہو
خشم و خطاب جبیں پر چیں تو حسن ہے گل رخساروں کا
وہ محبوب خنک ہوتا ہے جس میں ناز و عتاب نہ ہو
میں نے جو کچھ کہا کیا ہے حد و حساب سے افزوں ہے
روز شمار میں یارب میرے کہے کیے کا حساب نہ ہو
صبر بلا ہاے عشقی پر حوصلے والے کرتے ہیں
رحمت ہے اس خستہ جگر کو دل جس کا بیتاب نہ ہو
جس شب گل دیکھا ہے ہم نے صبح کو اس کا منھ دیکھا
خواب ہمارا ہوا ہوا ہے لوگوں کا سا خواب نہ ہو
نہریں چمن کی بھر رکھی ہیں گویا بادئہ لعلیں سے
بے عکس گل و لالہ الٰہی ان جویوں میں آب نہ ہو
اس دن میں تو مستانہ ہوتا ہوں کوئی کوچہ گدا
جس دن کاسۂ چوبیں میں میرے یک جرعہ بھی شراب نہ ہو
تہ داری کچھ دیدئہ تر کی میر نہیں کم دریا سے
جوشاں شور کناں آجاوے یہ شعلہ سیلاب نہ ہو
میر تقی میر

جاتا ہے کچھ ڈھہا ہی خانہ خراب اب دل

دیوان پنجم غزل 1674
رکھتا نہیں ہے مطلق تاب عتاب اب دل
جاتا ہے کچھ ڈھہا ہی خانہ خراب اب دل
درد فراق دلبر دے ہے فشار بے ڈھب
ہوجائے جملگی خوں شاید شتاب اب دل
بے پردہ اس کی آنکھیں شوخی جو کرتیاں ہیں
کرتا ہے یہ بھی ترک شرم و حجاب اب دل
آتش جو عشق کی سب چھائی ہے تن بدن پر
پہلو میں رہ گیا ہے ہوکر کباب اب دل
غم سے گداز پاکر اس بن جو بہ نہ نکلا
شرمندگی سے ہو گا اے میر آب اب دل
میر تقی میر

کیا پھول مرگئے ہیں اس بن خراب ہوکر

دیوان پنجم غزل 1621
آیا نہ پھر ادھر وہ مست شراب ہوکر
کیا پھول مرگئے ہیں اس بن خراب ہوکر
صید زبوں میں میرے یک قطرہ خوں نہ نکلا
خنجر تلے بہا میں خجلت سے آب ہوکر
وعدہ وصال کا ہے کہتے ہیں حشر کے دن
جانا ہوا ولیکن واں سے شتاب ہوکر
دارو پیے نہ ساتھ آ غیروں کے بیشتر یاں
غیرت سے رہ گئے ہیں عاشق کباب ہوکر
یک قطرہ آب اس بن میں نے اگر پیا ہے
نکلا ہے میر پانی وہ خون ناب ہوکر
میر تقی میر

ہو چہرہ اس کے لب سے یاقوت ناب کیونکر

دیوان پنجم غزل 1615
لاوے جھمکتے رخ کی آئینہ تاب کیونکر
ہو چہرہ اس کے لب سے یاقوت ناب کیونکر
ہے شعر و شاعری گو کب سے شعار اپنا
حرف و سخن سے کریے اب اجتناب کیونکر
جوں ابر اگر نہ روویں وادی و کوہ پر ہم
تو شہروں شہروں آوے نہروں میں آب کیونکر
اب بھی نہیں ہے ہم کو اے عشق ناامیدی
دیکھیں خراب ہووے حال خراب کیونکر
اڑ اڑ کے جا لگے ہے وہ تیر مار کاکل
کھاتا رہے نہ افعی پھر پیچ تاب کیونکر
چشمے محیط سے جو ہووے نہ چشم تر کے
تو سیر ہو ہوا پر پھیلے سحاب کیونکر
اب تو طپش نے دل کی اودھم مچا رکھا ہے
تسکین پاوے دیکھوں یہ اضطراب کیونکر
رو چاہیے ہے اس کے در پر بھی بیٹھنے کو
ہم تو ذلیل اس کے ہوں میر باب کیونکر
میر تقی میر

آنکھیں اس سے لگیں سو خواب گئی

دیوان چہارم غزل 1529
خواہش دل سے جی کی تاب گئی
آنکھیں اس سے لگیں سو خواب گئی
پھول سے بھی تھی خوب دخترتاک
مغبچوں میں رہی خراب گئی
گر کر اس کی گلی کی خاک میں مفت
اشک کی موتی کی سی آب گئی
بوے گل یا نواے بلبل تھی
عمر افسوس کیا شتاب گئی
نمک حسن سبز سے اے میر
ساری کیفیت شراب گئی
میر تقی میر

ورنہ کیا جانے کیا خطاب کرے

دیوان چہارم غزل 1513
صبر کر رہ جو وہ عتاب کرے
ورنہ کیا جانے کیا خطاب کرے
عشق میں دل بہت ہے بے آرام
چین دیوے تو کوئی خواب کرے
وقت یاں کم ہے چاہیے آدم
کرنا جو کچھ ہو سو شتاب کرے
پھاڑ کر خط کو ان نے پھینک دیا
نامہ بر اس کا کیا جواب کرے
ہے برافروختہ جو خشم سے وہ
آتش شعلہ زن کو آب کرے
ہے تو یک قطرہ خون ہی لیکن
قہر ہے دل جو اضطراب کرے
میر اٹھ بت کدے سے کعبے گیا
کیا کرے جو خدا خراب کرے
میر تقی میر

نہ گرم ہوکے بہت آگ ہو کے آب کرو

دیوان چہارم غزل 1468
نہیں ہے تاب تنک تم بھی مت عتاب کرو
نہ گرم ہوکے بہت آگ ہو کے آب کرو
تمھارے عکس سے بھی عکس مجھ کو رشک سے ہے
نہ دیکھو آئینہ منھ سے مرے حجاب کرو
خراب عشق تو سرگشتہ ہوں ہی میں تم بھی
پھرا پھرا کے مجھے گلیوں میں خراب کرو
کہا تھا تم نے کہ ہر حرف پر ہے بوسۂ لب
جو باتیں کی ہیں تو اب قرض کا حساب کرو
ہوا ہے اہل مساجد پہ کام ازبس تنگ
نہ شب کو جاگتے رہنے کا اضطراب کرو
خدا کریم ہے اس کے کرم سے رکھ کر چشم
دراز کھینچو کسو میکدے میں خواب کرو
جہاں میں دیر نہیں لگتی آنکھیں مندتے میر
تمھیں تو چاہیے ہر کام میں شتاب کرو
میر تقی میر

اس پردے کے اٹھ جانے سے اس کو ہم سے حجاب ہوا

دیوان چہارم غزل 1349
چاہت کا اظہار کیا سو اپنا کام خراب ہوا
اس پردے کے اٹھ جانے سے اس کو ہم سے حجاب ہوا
ساری ساری راتیں جاگے عجز و نیاز و زاری کی
تب جاکر ملنے کا اس کے صبح کے ہوتے جواب ہوا
کیا کہیے مہتاب میں شب کی وہ بھی ٹک آبیٹھا تھا
تاب رخ اس مہ نے دیکھی سو درجے بیتاب ہوا
شمع جو آگے شام کو آئی رشک سے جل کر خاک ہوئی
صبح گل تر سامنے ہوکر جوش شرم سے آب ہوا
مرتے نہ تھے ہم عشق کے رفتہ بے کفنی سے یعنی میر
دیر میسر اس عالم میں مرنے کا اسباب ہوا
میر تقی میر

دل کو ہمارے چین دے آنکھوں کو خواب دے

دیوان سوم غزل 1296
تسکین دردمندوں کو یارب شتاب دے
دل کو ہمارے چین دے آنکھوں کو خواب دے
اس کا غضب سے نامہ نہ لکھنا تو سہل ہے
لوگوں کے پوچھنے کا کوئی کیا جواب دے
گل ہے بہار تب ہے جب آنکھوں میں ہو نشہ
جاتی ہے فصل گل کہیں ساقی شراب دے
وہ تیغ میری تشنۂ خوں ہو گئی ہے کند
کر رحم مجھ پہ کاشکے یار اس کو آب دے
دو چار الم جو ہوویں تو ہیں بابت بتاں
کیا درد بے شمار کا کوئی حساب دے
تار نگہ کا سوت نہیں بندھتا ضعف سے
بیجان ہے یہ رشتہ دلا اس کو تاب دے
مژگان تر کو یار کے چہرے پہ کھول میر
اس آب خستہ سبزے کو ٹک آفتاب دے
میر تقی میر

ضائع ہے جیب و دامن جوں جنس آب دیدہ

دیوان سوم غزل 1249
کب تک رہیں گے یارب ہر دم ہم آبدیدہ
ضائع ہے جیب و دامن جوں جنس آب دیدہ
اس حور سے شبوں کا ملنا گیا سو چپ ہوں
جاتا نہیں کہا کچھ جوں گنگ خواب دیدہ
راز محبت اپنا رسوا نہ اس قدر ہو
گر ہو نہ اشک افشاں خانہ خراب دیدہ
جب دیکھو لگ رہا ہے در کی طرف اسی کے
ہے جیسے کہیے ویسے ذلت کا باب دیدہ
دوزخ میں میر ہوں میں یار بہشت رو بن
جاں ہے ستم رسیدہ دل ہے عذاب دیدہ
میر تقی میر

آنکھ کا لگنا نہ ہو تو اشک کیوں خوناب ہو

دیوان سوم غزل 1239
دل کہے میں ہوں تو کاہے کو کوئی بیتاب ہو
آنکھ کا لگنا نہ ہو تو اشک کیوں خوناب ہو
وہ نہیں چھڑکائو سا میں اشک ریزی سے کروں
اب جو رونے بیٹھ جائوں جھیل ہو تالاب ہو
جلد کھینچے تیغ بیتابی کریں جو ہم تو پھر
مارنا مشکل ہمارا تم کو جوں سیماب ہو
شہر میں زیر درختاں کیا رہوں میں برگ بند
ہو نہ صحرا نے مری گنجائش اسباب ہو
بے تصرف عشق کے ہوتا ہے ایسا حال کب
دل ہمارا خون ہو سب چشم یکسر آب ہو
لطف سے اے ابر رحمت ایک دو بارش ادھر
کشت زرد ناامیداں بھی تو ٹک سیراب ہو
بخت خفتہ سوویں پر ٹک چونکتے سوویں کہ میر
ایک شب ہم دل زدوں سے وہ پری ہم خواب ہو
میر تقی میر

جس سے دل آگ و چشم آب ہے میاں

دیوان سوم غزل 1196
عشق وہ خانماں خراب ہے میاں
جس سے دل آگ و چشم آب ہے میاں
تن میں جب تک ہے جاں تکلف ہے
ہم میں اس میں ابھی حجاب ہے میاں
گو نہیں میں کسو شمار میں یاں
عاقبت ایک دن حساب ہے میاں
کو دماغ و جگر کہاں وہ قلب
یاں عجب ایک انقلاب ہے میاں
زلف بل کھا رہی ہے گو اس کی
دل کو اپنے تو پیچ و تاب ہے میاں
لطف و مہر و وفا وہ کیا جانے
ناز ہے خشم ہے عتاب ہے میاں
لوہو اپنا پیوں ہوں چپکا ہوں
کس کو اس بن سر شراب ہے میاں
چشم وا یاں کی چشم بسمل ہے
جاگنا یہ نہیں ہے خواب ہے میاں
منھ سے کچھ بولتا نہیں قاصد
شاید اودھر سے اب جواب ہے میاں
دل ہی اپنا نہیں فقط بے چین
جی کو بھی زور اضطراب ہے میاں
چاہیے وہ کہے سو لکھ رکھیں
ہر سخن میر کا کتاب ہے میاں
میر تقی میر

دل کے پہلو سے ہم آتش میں ہیں اور آب میں ہیں

دیوان سوم غزل 1174
ٹھنڈی سانسیں بھریں ہیں جلتے ہیں کیا تاب میں ہیں
دل کے پہلو سے ہم آتش میں ہیں اور آب میں ہیں
ساتھ اپنے نہیں اسباب مساعد مطلق
ہم بھی کہنے کے تئیں عالم اسباب میں ہیں
غفلت دل سے ستم گذریں ہیں سو مت پوچھو
قافلے چلنے کو تیار ہیں ہم خواب میں ہیں
عشق کے ہیں گے جو سرگشتہ پڑے ہیں ڈوبے
کشتیاں نکلیں سو کیا آن کے گرداب میں ہیں
دور کیا اس سے جو بیٹھے ہے غبار اپنا دور
پاس اس طور کے بھی عشق کے آداب میں ہیں
ہے فروغ مہ تاباں سے فراغ کلی
دل جلے پرتو رخ سے ترے مہتاب میں ہیں
ہم بھی اس شہر میں ان لوگوں سے ہیں خانہ خراب
میر گھر بار جنھوں کے رہ سیلاب میں ہیں
میر تقی میر

رہا ہے کیا دل بے تاب میں اب

دیوان سوم غزل 1110
پڑا ہے فرق خورد و خواب میں اب
رہا ہے کیا دل بے تاب میں اب
جنوں میں اب کے نے دامن ہے نے جیب
کمی آئی بہت اسباب میں اب
ہوا ہے خواب ملنا اس سے شب کا
کبھو آتا ہے وہ مہ خواب میں اب
گدائی لی ہے میں نے اس کے در کی
کہے کیا دیکھوں میرے باب میں اب
گلے لگنے بن اس کے اتنا روئے
کہ ہم ہیں گے گلے تک آب میں اب
کہاں بل کھائے بال اس کے کہاں یہ
عبث سنبل ہے پیچ وتاب میں اب
بلا چرچا ہے میرے عشق کا میر
یہی ہے ذکر شیخ و شاب میں اب
میر تقی میر

جی دل کے اضطراب سے بے تاب تھا سو تھا

دیوان سوم غزل 1103
آنکھوں میں اپنی رات کو خوناب تھا سو تھا
جی دل کے اضطراب سے بے تاب تھا سو تھا
آکر کھڑا ہوا تھا بہ صدحسن جلوہ ناک
اپنی نظر میں وہ در نایاب تھا سو تھا
ساون ہرے نہ بھادوں میں ہم سوکھے اہل درد
سبزہ ہماری پلکوں کا سیراب تھا سو تھا
درویش کچھ گھٹا نہ بڑھا ملک شاہ سے
خرقہ کلاہ پاس جو اسباب تھا سو تھا
کیا بھاری بھاری قافلے یاں سے چلے گئے
تجھ کو وہی خیال گراں خواب تھا سو تھا
برسوں سے ہے تلاوت و سجادہ و نماز
پر میل دل جو سوے مئے ناب تھا سو تھا
ہم خشک لب جو روتے رہے جوئیں بہ چلیں
پر میر دشت عشق کا بے آب تھا سو تھا
میر تقی میر

وہ چاند سا جو نکلے تو رفع حجاب ہو

دیوان دوم غزل 924
تاچند انتظار قیامت شتاب ہو
وہ چاند سا جو نکلے تو رفع حجاب ہو
احوال کی خرابی مری پہنچی اس سرے
اس پر بھی وہ کہے ہے ابھی ٹک خراب ہو
یاں آنکھیں مندتے دیر نہیں لگتی میری جاں
میں کان کھولے رکھتا ہوں تیرے شتاب ہو
پھولوں کے عکس سے نہیں جوے چمن میں رنگ
گل بہ چلے ہیں شرم سے اس منھ کی آب ہو
یاں جرم گنتے انگلیوں کے خط بھی مٹ گئے
واں کس طرح سے دیکھیں ہمارا حساب ہو
غفلت ہے اپنی عمر سے تم کو ہزار حیف
یہ کاروان جانے پہ تم مست خواب ہو
شان تغافل اس کی لکھی ہم سے کب گئی
جب نامہ بر ہلاک ہو تب کچھ جواب ہو
لطف شراب ابر سے ہے سو نصیب دیکھ
جب لیویں جام ہاتھ میں تب آفتاب ہو
ہستی پر ایک دم کی تمھیں جوش اس قدر
اس بحرموج خیز میں تم تو حباب ہو
جی چاہتا ہے عیش کریں ایک رات ہم
تو ہووے چاندنی ہو گلابی شراب ہو
پرپیچ و تاب دود دل اپنا ہے جیسے زلف
جب اس طرح سے جل کے درونہ کباب ہو
آگے زبان یار کے خط کھینچے سب نے میر
پہلی جو بات اس کی کہیں تو کتاب ہو
میر تقی میر

میں اٹھ گیا ولے نہ اٹھا بیچ سے حجاب

دیوان دوم غزل 774
تابوت پر بھی میرے نہ آیا وہ بے نقاب
میں اٹھ گیا ولے نہ اٹھا بیچ سے حجاب
اس آفتاب حسن کے جلوے کی کس کو تاب
آنکھیں ادھر کیے سے بھر آتا ہے ووہیں آب
اس عمر برق جلوہ کی فرصت بہت ہے کم
جو کام پیش آوے تجھے اس میں ہو شتاب
غفلت سے ہے غرور تجھے ورنہ ہے بھی کچھ
یاں وہ سماں ہے جیسے کہ دیکھے ہے کوئی خواب
اس موج خیز دہر نے کس کے اٹھائے ناز
کج بھی ہوا نہ خوب کلہ گوشۂ حباب
یہ بستیاں اجڑ کے کہیں بستیاں بھی ہیں
دل ہو گیا خراب جہاں پھر رہا خراب
بیتابیاں بھری ہیں مگر کوٹ کوٹ کر
خرقے میں جیسے برق ہمارے ہے اضطراب
ٹک دل کے نسخے ہی کو کیا کر مطالعہ
اس درس گہ میں حرف ہمارا ہے اک کتاب
مجنوں نے ریگ بادیہ سے دل کے غم گنے
ہم کیا کریں کہ غم ہیں ہمارے تو بے حساب
کاش اس کے روبرو نہ کریں مجھ کو حشر میں
کتنے مرے سوال ہیں جن کا نہیں جواب
شاید کہ ہم کو بوسہ بہ پیغام دست دے
پھرتا ہے بیچ میں تو بہت ساغر شراب
ہے ان بھوئوں میں خال کا نقطہ دلیل فہم
کی ہے سمجھ کے بیت کسو نے یہ انتخاب
گذرے ہے میر لوٹتے دن رات آگ میں
ہے سوز دل سے زندگی اپنی ہمیں عذاب
میر تقی میر

بسان جام لیے دیدئہ پرآب پھرا

دیوان دوم غزل 715
تمام روز جو کل میں پیے شراب پھرا
بسان جام لیے دیدئہ پرآب پھرا
اثر بن آہ کے وہ منھ ادھر نہ ہوتا تھا
ہوا پھری ہے مگر کچھ کہ آفتاب پھرا
نہ لکھے خط کی نمط ہو گئیں سفید آنکھیں
تجھے بھی عشق ہے قاصد بھلا شتاب پھرا
وہ رشک گنج ہی نایاب تھا بہت ورنہ
خرابہ کون سا جس میں نہ میں خراب پھرا
کسو سے حرف محبت کا فائدہ نہ ہوا
بغل میں میں تو لیے یاں بہت کتاب پھرا
لکھا تو دیکھ کہ قاصد پھرا جو مدت میں
جواب خط کا مرے صاف بے جواب پھرا
کہیں ٹھہرنے کی جا یاں نہ دیکھی میں نے میر
چمن میں عالم امکاں کے جیسے آب پھرا
میر تقی میر

آنکھیں کھلیں تری تو یہ عالم ہے خواب سا

دیوان دوم غزل 688
اس موج خیز دہر میں تو ہے حباب سا
آنکھیں کھلیں تری تو یہ عالم ہے خواب سا
برقع اٹھاکے دیکھے ہے منھ سے کبھو ادھر
بارے ہوا ہے ان دنوں رفع حجاب سا
وہ دل کہ تیرے ہوتے رہے تھا بھرا بھرا
اب اس کو دیکھیے تو ہے اک گھر خراب سا
دس روز آگے دیکھا تھا جیسا سو اب نہیں
دل رہ گیا ہے سینے میں جل کر کباب سا
اس عمر میں یہ ہوش کہ کہنے کو نرم گرم
بگڑا رہے ہے ساختہ مست شراب سا
ہے یہ فریب شوق کہ جاتے ہیں خط چلے
واں سے وگرنہ کب کا ہوا ہے جواب سا
کیا سطر موج اشک روانی کے ساتھ ہے
مشتاق گریہ ابر ہے چشم پر آب سا
دوزخ ہوا ہے ہجر میں اس کے جہاں ہمیں
سوز دروں سے جان پہ ہے اک عذاب سا
مدت ہوئی کہ دل سے قرار و سکوں گئے
رہتا ہے اب تو آٹھ پہر اضطراب سا
مواج آب سا ہے ولیکن اڑے ہے خاک
ہے میر بحربے تہ ہستی سراب سا
میر تقی میر

چہرہ تمام زرد زر ناب سا ہوا

دیوان دوم غزل 680
دل فرط اضطراب سے سیماب سا ہوا
چہرہ تمام زرد زر ناب سا ہوا
شاید جگر گداختہ یک لخت ہو گیا
کچھ آب دیدہ رات سے خوناب سا ہوا
وے دن گئے کہ اشک سے چھڑکائو سا کیا
اب رونے لگ گئے ہیں تو تالاب سا ہوا
اک دن کیا تھا یار نے قد ناز سے بلند
خجلت سے سرو جوے چمن آب سا ہوا
کیا اور کوئی روئے کہ اب جوش اشک سے
حلقہ ہماری چشم کا گرداب سا ہوا
قصہ تو مختصر تھا ولے طول کو کھنچا
ایجاز دل کے شوق سے اطناب سا ہوا
عمامہ ہے موذن مسجد کہ بارخر
قد تو ترا خمیدہ ہو محراب سا ہوا
بات اب تو سن کہ جاے سخن حسن میں ہوئی
خط پشت لب کا سبزئہ سیراب سا ہوا
چل باغ میں بھی سوتے سے اٹھ کر کبھو کہ گل
تک تک کے راہ دیدئہ بے خواب سا ہوا
سمجھے تھے ہم تو میر کو عاشق اسی گھڑی
جب سن کے تیرا نام وہ بیتاب سا ہوا
میر تقی میر

دل داغ گشتہ کباب ہے جگر گداختہ آب ہے

دیوان اول غزل 571
رمق ایک جان وبال ہے کوئی دم جو ہے تو عذاب ہے
دل داغ گشتہ کباب ہے جگر گداختہ آب ہے
مری خلق محو کلام سب مجھے چھوڑتے ہیں خموش کب
مرا حرف رشک کتاب ہے مری بات لکھنے کا باب ہے
جو وہ لکھتا کچھ بھی تو نامہ بر کوئی رہتی منھ میں ترے نہاں
تری خامشی سے یہ نکلے ہے کہ جواب خط کا جواب ہے
رہے حال دل کا جو ایک سا تو رجوع کرتے کہیں بھلا
سو تو یہ کبھو ہمہ داغ ہے کبھو نیم سوز کباب ہے
کہیں گے کہو تمھیں لوگ کیا یہی آرسی یہی تم سدا
نہ کسو کی تم کو ہے ٹک حیا نہ ہمارے منھ سے حجاب ہے
چلو میکدے میں بسر کریں کہ رہی ہے کچھ برکت وہیں
لب ناں تو واں کا کباب ہے دم آب واں کا شراب ہے
نہیں کھلتیں آنکھیں تمھاری ٹک کہ مآل پر بھی نظر کرو
یہ جو وہم کی سی نمود ہے اسے خوب دیکھو تو خواب ہے
گئے وقت آتے ہیں ہاتھ کب ہوئے ہیں گنوا کے خراب سب
تجھے کرنا ہو وے سو کر تو اب کہ یہ عمر برق شتاب ہے
کبھو لطف سے نہ سخن کیا کبھو بات کہہ نہ لگا لیا
یہی لحظہ لحظہ خطاب ہے وہی لمحہ لمحہ عتاب ہے
تو جہاں کے بحر عمیق میں سرپرہوا نہ بلند کر
کہ یہ پنج روزہ جو بود ہے کسو موج پر کا حباب ہے
رکھو آرزو مئے خام کی کرو گفتگو خط جام کی
کہ سیاہ کاروں سے حشر میں نہ حساب ہے نہ کتاب ہے
مرا شور سن کے جو لوگوں نے کیا پوچھنا تو کہے ہے کیا
جسے میر کہتے ہیں صاحبو یہ وہی تو خانہ خراب ہے
میر تقی میر

وگر قصہ کہوں اپنا تو سنتے اس کو خواب آوے

دیوان اول غزل 565
اچنبھا ہے اگر چپکا رہوں مجھ پر عتاب آوے
وگر قصہ کہوں اپنا تو سنتے اس کو خواب آوے
بھرا ہے دل مرا جام لبالب کی طرح ساقی
گلے لگ خوب روئوں میں جو میناے شراب آوے
بغل پروردئہ طوفاں ہوں میں یہ موج ہے میری
بیاباں میں اگر روئوں تو شہروں میں بھی آب آوے
لپیٹا ہے دل سوزاں کو اپنے میر نے خط میں
الٰہی نامہ بر کو اس کے لے جانے کی تاب آوے
میر تقی میر

یہ نمائش سراب کی سی ہے

دیوان اول غزل 485
ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے
نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
چشم دل کھول اس بھی عالم پر
یاں کی اوقات خواب کی سی ہے
بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں
حالت اب اضطراب کی سی ہے
نقطۂ خال سے ترا ابرو
بیت اک انتخاب کی سی ہے
میں جو بولا کہا کہ یہ آواز
اسی خانہ خراب کی سی ہے
آتش غم میں دل بھنا شاید
دیر سے بو کباب کی سی ہے
دیکھیے ابر کی طرح اب کے
میری چشم پر آب کی سی ہے
میر ان نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے
میر تقی میر

زمین میکدہ یک دست ہے گی آب زدہ

دیوان اول غزل 425
جو ہوشیار ہو سو آج ہو شراب زدہ
زمین میکدہ یک دست ہے گی آب زدہ
بنے یہ کیونکے ملے تو ہی یا ہمیں سمجھیں
ہم اضطراب زدہ اور تو حجاب زدہ
کرے ہے جس کو ملامت جہاں وہ میں ہی ہوں
اجل رسیدہ جفا دیدہ اضطراب زدہ
جدا ہو رخ سے تری زلف میں نہ کیوں دل جائے
پناہ لیتے ہیں سائے کی آفتاب زدہ
لگا نہ ایک بھی میر اس کی بیت ابرو کو
اگرچہ شعر تھے سب میرے انتخاب زدہ
میر تقی میر

کیا آفت آگئی مرے اس دل کی تاب کو

دیوان اول غزل 407
فرصت نہیں تنک بھی کہیں اضطراب کو
کیا آفت آگئی مرے اس دل کی تاب کو
میری ہی چشم تر کی کرامات ہے یہ سب
پھرتا تھا ورنہ ابر تو محتاج آب کو
گذری ہے شب خیال میں خوباں کے جاگتے
آنکھیں لگا کے اس سے میں ترسوں ہوں خواب کو
خط آگیا پر اس کا تغافل نہ کم ہوا
قاصد مرا خراب پھرے ہے جواب کو
تیور میں جب سے دیکھے ہیں ساقی خمار کے
پیتا ہوں رکھ کے آنکھوں پہ جام شراب کو
اب تو نقاب منھ پہ لے ظالم کہ شب ہوئی
شرمندہ سارے دن تو کیا آفتاب کو
کہنے سے میر اور بھی ہوتا ہے مضطرب
سمجھائوں کب تک اس دل خانہ خراب کو
میر تقی میر

نہ گلے سے میرے اترا کبھو قطرہ آب تجھ بن

دیوان اول غزل 357
یہ غلط کہ میں پیا ہوں قدح شراب تجھ بن
نہ گلے سے میرے اترا کبھو قطرہ آب تجھ بن
یہی بستی عاشقوں کی کبھو سیر کرنے چل تو
کہ محلے کے محلے پڑے ہیں خراب تجھ بن
میں لہو پیوں ہوں غم میں عوض شراب ساقی
شب میغ ہو گئی ہے شب ماہتاب تجھ بن
گئی عمر میری ساری جیسے شمع بائو کے بیچ
یہی رونا جلنا گلنا یہی اضطراب تجھ بن
سبھی آتشیں ہیں نالے سبھی زمہریری آہیں
مری جان پر رہا ہے غرض اک عذاب تجھ بن
ترے غم کا شکر نعمت کروں کیا اے مغبچے میں
نہ ہوا کہ میں نہ کھایا جگر کباب تجھ بن
نہیں جیتے جی تو ممکن ہمیں تجھ بغیر سونا
مگر آنکہ مر کے کیجے تہ خاک خواب تجھ بن
برے حال ہوکے مرتا جو درنگ میر کرتا
یہ بھلا ہوا ستمگر کہ موا شتاب تجھ بن
میر تقی میر

محتسب کو کباب کرتا ہوں

دیوان اول غزل 324
عام حکم شراب کرتا ہوں
محتسب کو کباب کرتا ہوں
ٹک تو رہ اے بناے ہستی تو
تجھ کو کیسا خراب کرتا ہوں
بحث کرتا ہوں ہو کے ابجدخواں
کس قدر بے حساب کرتا ہوں
کوئی بجھتی ہے یہ بھڑک میں عبث
تشنگی پر عتاب کرتا ہوں
سر تلک آب تیغ میں ہوں غرق
اب تئیں آب آب کرتا ہوں
جی میں پھرتا ہے میر وہ میرے
جاگتا ہوں کہ خواب کرتا ہوں
میر تقی میر

غیرت سے رہ گئے ہم یک سو کباب ہوکر

دیوان اول غزل 219
غیروں سے مل چلے تم مست شراب ہوکر
غیرت سے رہ گئے ہم یک سو کباب ہوکر
اس روے آتشیں سے برقع سرک گیا تھا
گل بہ گیا چمن میں خجلت سے آب ہوکر
کل رات مند گئی تھیں بہتوں کی آنکھیں غش سے
دیکھا کیا نہ کر تو سرمست خواب ہوکر
پردہ رہے گا کیونکر خورشید خاوری کا
نکلے ہے صبح وہ بھی اب بے نقاب ہوکر
یک قطرہ آب میں نے اس دور میں پیا ہے
نکلا ہے چشم تر سے وہ خون ناب ہوکر
آ بیٹھتا تھا صوفی ہر صبح میکدے میں
شکر خدا کہ نکلا واں سے خراب ہوکر
شرم و حیا کہاں تک ہیں میر کوئی دن کے
اب تو ملا کرو تم ٹک بے حجاب ہوکر
میر تقی میر

ایک گردش میں تری چشم سیہ کے سب خراب

دیوان اول غزل 178
کس کی مسجد کیسے میخانے کہاں کے شیخ و شاب
ایک گردش میں تری چشم سیہ کے سب خراب
تو کہاں اس کی کمر کیدھر نہ کریو اضطراب
اے رگ گل دیکھیو کھاتی ہے جو تو پیچ و تاب
موند رکھنا چشم کا ہستی میں عین دید ہے
کچھ نہیں آتا نظر جب آنکھ کھولے ہے حباب
تو ہو اور دنیا ہو ساقی میں ہوں مستی ہو مدام
پر بط صہبا نکالے اڑ چلے رنگ شراب
ہے ملاحت تیرے باعث شور پر تجھ سے نمک
ٹک تو رہ پیری چلی آتی ہے اے عہد شباب
کب تھی یہ بے جرأتی شایان آہوے حرم
ذبح ہوتا تیغ سے یا آگ میں ہوتا کباب
کیا ہو رنگ رفتہ کیا قاصد ہو جس کو خط دیا
جز جواب صاف اس سے کب کوئی لایا جواب
واے اس جینے پر اے مستی کہ دور چرخ میں
جام مے پر گردش آوے اور میخانہ خراب
چوب حرفی بن الف بے میں نہیں پہچانتا
ہوں میں ابجد خواں شناسائی کو مجھ سے کیا حساب
مت ڈھلک مژگاں سے اب تو اے سرشک آبدار
مفت میں جاتی رہے گی تیری موتی کی سی آب
کچھ نہیں بحرجہاں کی موج پر مت بھول میر
دور سے دریا نظر آتا ہے لیکن ہے سراب
میر تقی میر

قسمے کہ عشق جی سے مرے تاب لے گیا

دیوان اول غزل 97
اس کا خیال چشم سے شب خواب لے گیا
قسمے کہ عشق جی سے مرے تاب لے گیا
کن نیندوں اب تو سوتی ہے اے چشم گریہ ناک
مژگاں تو کھول شہر کو سیلاب لے گیا
آوے جو مصطبے میں تو سن لو کہ راہ سے
واعظ کو ایک جام مئے ناب لے گیا
نے دل رہا بجا ہے نہ صبر و حواس و ہوش
آیا جو سیل عشق سب اسباب لے گیا
میرے حضور شمع نے گریہ جو سر کیا
رویا میں اس قدر کہ مجھے آب لے گیا
احوال اس شکار زبوں کا ہے جاے رحم
جس ناتواں کو مفت نہ قصاب لے گیا
منھ کی جھلک سے یار کے بے ہوش ہو گئے
شب ہم کو میر پرتو مہتاب لے گیا
میر تقی میر

مانند آئینے کے مرے گھر میں آب تھا

دیوان اول غزل 29
دل میں بھرا زبسکہ خیال شراب تھا
مانند آئینے کے مرے گھر میں آب تھا
موجیں کرے ہے بحر جہاں میں ابھی تو تو
جانے گا بعد مرگ کہ عالم حباب تھا
اگتے تھے دست بلبل و دامان گل بہم
صحن چمن نمونۂ یوم الحساب تھا
ٹک دیکھ آنکھیں کھول کے اس دم کی حسرتیں
جس دم یہ سوجھے گی کہ یہ عالم بھی خواب تھا
دل جو نہ تھا تو رات زخودرفتگی میں میر
گہ انتظار و گاہ مجھے اضطراب تھا
میر تقی میر