ٹیگ کے محفوظات: آئینہ

ہاتھ میں آئینہ نہیں ہوتا

ہم نے گر کچھ کَہَا نہیں ہوتا
ہاتھ میں آئینہ نہیں ہوتا
کیا یہاں سب خدا ہی بستے ہیں ؟
کیا یہاں وہ خدا نہیں ہوتا
گر نہ کرتا وہ خلق حُسنِ مجاز
کوئی قبلہ نُما نہیں ہوتا
موت سے بھی ذرا بنا کے رکھ
زندگی کا پتا نہیں ہوتا
شہر رہتا ہے عادتاً بے چین
جب کوئی حادثہ نہیں ہوتا
عکس ہیں لوگ یا ہیں ردِّ عمل
کوئی اچّھا بُرا نہیں ہوتا
گر تغیّر ہے لابدی ضامنؔ
آدمی کیوں بڑا نہیں ہوتا
ضامن جعفری

ہر ایک شخص مجھے آئینہ سا لگتا ہے

خیالِ یار میں ڈُوبا ہُوا سا لگتا ہے
ہر ایک شخص مجھے آئینہ سا لگتا ہے
ہجومِ غم میں ہمیں اے مُغَنّیِ ہستی
ہر ایک ساز ترا بے صدا سا لگتا ہے
وہ نام جس سے کہ رغبت نہیں رہی مجھ کو
زبانِ غیر پر اب بھی بُرا سا لگتا ہے
جہاں ہر ایک کی منزل جُدا ہو فکر جُدا
مجھے ہجوم تجھے قافلہ سا لگتا ہے
غزل میں جس کو تَخَلُّص کہا گیا ضامنؔ
کبھی کبھی مُجھے شورِ اَنا سا لگتا ہے
ضامن جعفری

دھوپ کا ہاتھ بڑھا آتا تھا

دن کا پھول ابھی جاگا تھا
دھوپ کا ہاتھ بڑھا آتا تھا
سرخ چناروں کے جنگل میں
پتھر کا اک شہر بسا تھا
پیلے پتھریلے ہاتھوں میں
نیلی جھیل کا آئینہ تھا
ٹھنڈی دھوپ کی چھتری تانے
پیڑ کے پیچھے پیڑ کھڑا تھا
دھوپ کے لال ہرے ہونٹوں نے
تیرے بالوں کو چوما تھا
تیرے عکس کی حیرانی سے
بہتا چشمہ ٹھہر گیا تھا
تیری خموشی کی شہ پا کر
میں کتنی باتیں کرتا تھا
تیری ہلال سی اُنگلی پکڑے
میں کوسوں پیدل چلتا تھا
آنکھوں میں تری شکل چھپائے
میں سب سے چھپتا پھرتا تھا
بھولی نہیں اُس رات کی دہشت
چرخ پہ جب تارا ٹوٹا تھا
رات گئے سونے سے پہلے
تو نے مجھ سے کچھ پوچھا تھا
یوں گزری وہ رات بھی جیسے
سپنے میں سپنا دیکھا تھا
ناصر کاظمی

میں بھی تیرے جیسا ہوں

اپنی دُھن میں رہتا ہوں
میں بھی تیرے جیسا ہوں
او پچھلی رُت کے ساتھی
اب کے برس میں تنہا ہوں
تیری گلی میں سارا دن
دُکھ کے کنکر چنتا ہوں
مجھ سے آنکھ ملائے کون
میں تیرا آئینہ ہوں
میرا دِیا جلائے کون
مَیں ترا خالی کمرہ ہوں
تیرے سوا مجھے پہنے کون
میں ترے تن کا کپڑا ہوں
تو جیون کی بھری گلی
میں جنگل کا رستہ ہوں
آتی رُت مجھے روئے گی
جاتی رُت کا جھونکا ہوں
اپنی لہر ہے اپنا روگ
دریا ہوں اور پیاسا ہوں
ناصر کاظمی