ٹیگ کے محفوظات: آئو

جی دینا پڑتا ہے اس میں ایسا نہ ہو پچھتائو تم

دیوان پنجم غزل 1683
ہم نہ کہا کرتے تھے تم سے دل نہ کسو سے لگائو تم
جی دینا پڑتا ہے اس میں ایسا نہ ہو پچھتائو تم
سو نہ سنی تم نے تو ہماری آنکھیں لگو ہیں لگ پڑیاں
رو رو کر سر دھنتے ہو اب بیٹھے رنج اٹھائو تم
صبر کہاں جو تسکیں ہووے بیتابی سے چین کہاں
ایک گھڑی میں سو سو باری اودھر ایدھر جائو تم
خواہش دل ہے چاہ کسو کی یہی سبب ہے کاہش کا
ناحق ناحق کیوں کہتے ہو حق کی طرف دل لائو تم
ہر کوچے میں کھڑے رہ رہ کر ایدھر اودھر دیکھو ہو
ہائے خیال یہ کیا ہے تم کو جانے بھی دو اب آئو تم
فاش نہ کریے راز محبت جانیں اس میں جاتی ہیں
درد دل آنکھوں سے ہر یک کے تا مقدور چھپائو تم
قدر و قیمت اس سے زیادہ میر تمھاری کیا ہو گی
جس کے خواہاں دونوں جہاں ہیں اس کے ہاتھ بکائو تم
میر تقی میر

کیا کہیے نہ ہماری سنی اب بیٹھے رنج اٹھائو تم

دیوان پنجم غزل 1679
ہم تو یہی کہتے تھے ہمیشہ دل کو کہیں نہ لگائو تم
کیا کہیے نہ ہماری سنی اب بیٹھے رنج اٹھائو تم
جھوٹ کہا کیا ہم نے اس میں طور جو اس سے ظاہر ہے
ہاتھ چلے تو عاشق زار کو خاک و خوں میں لٹائو تم
صبر کرو بیتاب رہو خاموش پھرو یا شور کرو
کس کو یاں پروا ہے کسو کی ٹھہرو آئو جائو تم
ناز غرور تبختر سارا پھولوں پر ہے چمن کا سو
کیا مرزائی لالہ و گل کی کچھ خاطر میں نہ لائو تم
وائے کہ اس ہجراں کشتے نے باغ سے جاتے ٹک نہ سنا
گل نے کہا جو خوبی سے اپنی کچھ تو ہمیں فرمائو تم
دست و پا بہتیرے مارے سر بھی پھوڑے حیرت ہے
کیا کریے جو بے دست و پا ہم سوں کے ہاتھ آئو تم
غم میں تمھاری صورت خوش کے سینکڑوں شکلیں گوبگڑیں
بیٹھے ناز و غرور سے بکھرے بال اپنے نہ بنائو تم
در پہ حرم کے کشود نہیں تو دیر میں جاکر کافر ہو
قشقہ کھینچو پوتھی پڑھو زنار گلے سے بندھائو تم
بود نبود ثبات رکھے تو یہ بھی اک بابت ہے میر
اس صفحے میں حرف غلط ہیں کاشکے ہم کو مٹائو تم
میر تقی میر

پائوں کا رکھنا گرچہ ادھر کو عار سے ہے پر آئو تم

دیوان چہارم غزل 1436
صبر کیا جاتا نہیں ہم سے رہ کے جدا نہ ستائو تم
پائوں کا رکھنا گرچہ ادھر کو عار سے ہے پر آئو تم
جس کے تئیں پروا ہو کسو کی آنا جانا اس کا ہے
نیک ہو یا بد حال ہمارا تم کو کیا ہے جائو تم
چپ ہیں کچھ جو نہیں کہتے ہم کار عشق کے حیراں ہیں
سوچو حال ہمارا ٹک تو بات کی تہ کو پائو تم
میر کو وحشت ہے گی قیامت واہی تباہی بکتے ہیں
حرف و حکایت کیا مجنوں کی دل میں کچھ مت لائو تم
میر تقی میر

جیسے مصاحب ابر کی ہوتی ہے کوئی بائو

دیوان سوم غزل 1236
رہتا ہے پیش دیدئہ تر آہ کا سبھائو
جیسے مصاحب ابر کی ہوتی ہے کوئی بائو
برسے گی برف عرصۂ محشر میں دشت دشت
گر میری سرد آہوں کا واں ہو گیا جمائو
حاصل کوئی امید ہوئی ہو تو میں کہوں
خوں ہی ہوا کیے ہیں مرے دل میں سارے چائو
آنکھوں کے آگے رونے سے میرے محیط ہے
ابروں سے جا کہے کوئی پانی پیو تو آئو
رہتی تھی اشک خونیں میں ڈوبی سب آستیں
اس چشم بحرخوں کے کبھو دیکھے ہیں چڑھائو
اظہار درد اگرچہ بہت بے نمک ہے پر
ٹک بیٹھو تو دکھاویں تمھیں چھاتیوں کے گھائو
آ عاشقوں کی آنکھوں میں ٹک اے بہ دل قریب
ان منظروں سے بھی ہے بہت دور تک دکھائو
صحبت جو اس سے رہتی ہے کیا نقل کریے ہائے
جب آگئے ہیں ہم تو کہا ان نے یاں سے جائو
صد چاک اپنے دل سے تو بگڑا ہی کی وہ زلف
افسوں کیا ہے شانے نے جو اس سے ہے بنائو
اس ہی زمیں میں میر غزل اور ایک کہہ
گو خوش نہ آوے سامعوں کو بات کا بڑھائو
میر تقی میر