ٹیگ کے محفوظات: اِنتساب

اِنتساب

۲۵دسمبر۱۹۶۴ء کے نام

جب دھندلے گمانوں پر

روشن حقیقتوں کے باب کھلے

لازم ہے اِک دَورِ طرب کے بعد مجھے تو بھول بھی جا

میں اِک بار تجھے پھر چاہوں، عہد نیا آغاز کروں

ماجد صدیقی

وہ لمس میرے بدن کو گلاب کر دے گا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 22
دھنک دھنک مری پوروں کے خواب کر دے گا
وہ لمس میرے بدن کو گلاب کر دے گا
قبائے جسم کے ہر تار سے گزرتا ہُوا
کرن کا پیار مجھے آفتاب کر دے گا
جنوں پسند ہے دل اور تجھ تک آنے میں
بدن کو ناؤ،لُہو کو چناب کر دے گا
میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
وہ جھوٹ بولے گا، اورلا جواب کر دے گا
اَنا پرست ہے اِتنا کہ بات سےپہلے
وہ اُٹھ کے بند مری ہر کتاب کر دے گا
سکوتِ شہرِ سخن میں وہ پُھول سا لہجہ
سماعتوں کی فضا خواب خواب کر دے گا
اسی طرح سے اگر چاہتا رہا پیہم
سخن وری میں مجھے انتخاب کر دے گا
مری طرح سے کوئی ہے جو زندگی ا پنی
تُمھاری یاد کے نام اِنتساب کر دے گا
پروین شاکر