ٹیگ کے محفوظات: اِضطراب

نام کو بھی اب اِضطراب نہیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 130
سب چلے جاؤ مجھ میں تاب نہیں
نام کو بھی اب اِضطراب نہیں
خون کر دوں تیرے شباب کا میں
مجھ سا قاتل تیرا شباب نہیں
اِک کتابِ وجود ہے تو صحیح
شاید اُس میں دُعاء کا باب نہیں
تو جو پڑھتا ہے بو علی کی کتاب
کیا یہ الم کوئی کتاب نہیں
ہم کتابی صدا کے ہیں لیکن
حسبِ منشا کوئی کتاب نہیں
بھول جانا نہیں گناہ اُسے
یاد کرنا اُسے ثواب نہیں
پڑھ لیا اُس کی یاد کا نسخہ
اُس میں شہرت کا کوئی باب نہیں
جون ایلیا

پڑھا ہوا وہ دِلوں کی کتاب کتنا ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 317
اُس ایک شخص کو مجھ سے حجاب کتنا ہے
پڑھا ہوا وہ دِلوں کی کتاب کتنا ہے
حقیقتیں بھی سہانی دِکھائی دیتی ہیں
بسا ہوا مری آنکھوں میں خواب کتنا ہے
وہ مل گیا ہے مگر جانے کب بچھڑ جائے
سکوں بہت ہے مگر اِضطراب کتنا ہے
نہ ہو گا کیا کبھی اُس کے بدن کا چاند طلوع
لہو میں اُترا ہوا آفتاب کتنا ہے
صدائیں اُس کی دِلوں میں اُترتی جاتی ہیں
گدائے شہرِ سخن باریاب کتنا ہے
عرفان صدیقی