ٹیگ کے محفوظات: اِدھر نہ دیکھو

اِدھر نہ دیکھو

اِدھر نہ دیکھوکہ جو بہادر

قلم کے یا تیغ کے دھنی تھے

جو عزم و ہمت کے مدعی تھے

اب ان کے ہاتھوں میں صدقِ ایماں کی

آزمودہ پرانی تلوار مڑ گئی ہے

جو کج کلہ صاحبِ حشم تھے

جو اہلِ دستار محترم تھے

ہوس کے پرپیچ راستوں میں

کلہ کسی نے گرو رکھ دی

کسی نے دستار بیچ دی ہے

اُدھر بھی دیکھو

جو اپنے رخشاں لہو کےدینار

مفت بازار میں لٹا کر

نظر سے اوجھل ہوئے

اور اپنی لحد میں اس وقت تک غنی ہیں،

اُدھر بھی دیکھو

جو حرفِ حق کی صلیب پر اپنا تن سجا کر

جہاں سے رخصت ہوئے

اور اہلِ جہاں میں اس وقت تک نبی ہیں​

رفیقِ راہ تھی منزل ہر اِک تلاش کے بعد

چھُٹا یہ ساتھ تو رہ کی تلاش بھی نہ رہی

ملُول تھا دلِ آئنہ ہر خراش کے بعد

جو پاش پاش ہُوا اِک خراش بھی نہ رہی​

فیض احمد فیض