ٹیگ کے محفوظات: اُگا

جینے کا ذرا تو حوصلہ دے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 99
چہرہ نہ دکھا،صدا سُنادے
جینے کا ذرا تو حوصلہ دے
دِکھلا کسی طور اپنی صُورت
آنکھوں مزید مت سزا دے
چُھو کر مری سوچ میرے تن میں
بیلیں ہرے رنگ کی اُگا دے
جاناں ! نہ خیالِ دوستی کر
دے زہر جو اَب تو تیز سادے
شدّت ہے مزاج میرے خُوں کا
نفرت کی بھی دے تو انتہا دے
ٹوٹی ہُوئی شام منتظرِ ہے
جُھک کر مجھے آئینہ دکھا دے
دل پھٹنے لگاہے ضبطِ غم سے
مالک ! کوئی درد آشنا دے
سوئی ہے ابھی تو جاکے شبنم
ایسا نہ ہو موجِ گل اُٹھا دے
چکھّوں ممنوعہ ذائقے بھی
دل!سانپ سے دوستی بڑھا دے
پروین شاکر

خیال کی باغبانیاں کر اُگا یہ نظمیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 102
بدل بھی سکتی ہیں اس چمن کی فضا یہ نظمیں
خیال کی باغبانیاں کر اُگا یہ نظمیں
یہ رات مانگے جنوں سے نذرانہ روشنی کا
جلا جلا کر سروں سے اونچی اُڑا یہ نظمیں
مجھے بہت ہے یہ میری گمنامیوں کی خلوت
مگر کسی دن قبول کر لے خدا یہ نظمیں
سخی صلے میں کسی سے کچھ مانگتا نہیں ہے
یہ لوگ بہرے ہیں ان کو اکثر سنا یہ نظمیں
تمام اوصاف ان میں جیسے ہوں دلبروں کے
حسین و خودبیں ، وفا سے نا آشنا یہ نظمیں
میں غیب و حاضر کا نامہ بر ہوں ، یہ میرا منصب
یہاں وہاں بانٹتا رہوں گا سدا یہ نظمیں
آفتاب اقبال شمیم