ٹیگ کے محفوظات: اُگایا

یہ جو تونے سر دیوار جلایا ہے مجھے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 297
کیا کسی جشن کا عنوان بنایا ہے مجھے
یہ جو تونے سر دیوار جلایا ہے مجھے
میں تنک سایہ ہوں پھر بھی کوئی مصرف ہو گا
اُس نے کچھ سوچ کے صحرا میں اُگایا ہے مجھے
میں وہ دولت ہوں جو مل جائے ضرورت کے بغیر
جس نے پایا ہے مجھے اس نے گنوایا ہے مجھے
مدتوں بعد ہوا لائی ہے پیغام اُس کا
راستہ بھول چکا ہوں تو بلایا ہے مجھے
جس سمندر نے ڈبویا تھا سفینہ میرا
اس کی ہی موج نے ساحل سے لگایا ہے مجھے
پھر ملا دے اسی مٹی میں یہ حق ہے اس کو
اُس نے آکر اِسی مٹی سے اُٹھایا ہے مجھے
عرفان صدیقی