ٹیگ کے محفوظات: اُٹھاتا

سایۂ شاخِ گُل افعی نظر آتا ہے مجھے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 242
باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے
سایۂ شاخِ گُل افعی نظر آتا ہے مجھے
جوہرِ تیغ بہ سر چشمۂ دیگر معلوم
ہُوں میں وہ سبزہ کہ زہرآب اُگاتا ہے مجھے
مدّعا محوِتماشائے شکستِ دل ہے
آئنہ خانے میں کوئی لئے جاتا ہے مجھے
نالہ سرمایۂ یک عالم و عالم کفِ خاک
آسمان بیضۂ قمری نظر آتا ہے مجھے
زندگی میں تو وہ محفل سے اُٹھا دیتے تھے
دیکھوں اب مر گئے پر کون اُٹھاتا ہے مجھے
مرزا اسد اللہ خان غالب