ٹیگ کے محفوظات: اُدھر

پھر ایک رنج سے دیوار و در کو دیکھتے ہیں

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 45
نگاہِ شوق سے راہِ سفر کو دیکھتے ہیں
پھر ایک رنج سے دیوار و در کو دیکھتے ہیں
نہ جانے کس کے بچھڑنے کا خوف ہے اُن کو
جو روز گھر سے نکل کر شجر کو دیکھتے ہیں
یہ روز و شب ہیں عبارت اسی توازن سے
کبھی ہنر کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
ہمارے طرزِ توجہ پہ خوش گمان نہ ہو
تجھے نہیں تری تابِ نظر کو دیکھتے ہیں
ہمارے سامنے دریا ہیں سلسلوں کے رواں
پہ کیا کریں کہ تری چشمِ تر کو دیکھتے ہیں
ہم اہلِ حرص و ہوس تجھ سے بے نیاز کہاں
دعا کے بعد دعا کے اثر کو دیکھتے ہیں
یہ بے سبب نہیں سودا خلا نوردی کا
مسافرانِ عدم رہ گزر کو دیکھتے ہیں
وہ جس طرف ہو نظر اُس طرف نہیں اٹھتی
وہ جا چکے تو مسلسل اُدھر کو دیکھتے ہیں
ہمیں بھی اپنا مقلد شمار کر غالبؔ
کہ ہم بھی رشک سے تیرے ہنر کو دیکھتے ہیں
عرفان ستار

دُکھ پیڑ کے بے ثمر ہی ٹھہرے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 101
پُھول آئے ، نہ برگِ تر ہی ٹھہرے
دُکھ پیڑ کے بے ثمر ہی ٹھہرے
ہیں تیز بہت ہَوا کے ناخن،
خوشبو سے کہو کہ گھر ہی ٹھہرے
کوئی تو بنے خزاں کا ساتھی
پتّہ نہ سہی ، شجر ہی ٹھہرے
اس شہرِ سخن فروشگاں میں
ہم جیسے تو بے ہُنر ہی ٹھہرے
اَن چکھّی اڑان کی بھی قیمت
آخر مرے بال و پر ہی ٹھہرے
روغن سے چمک اُٹھے تو مجھ سے
اچھّے مرے بام و در ہی ٹھہرے
کچھ دیر کو آنکھ رنگ چُھو لے
تتلی پہ اگر نظر ہی ٹھہرے
وہ شہر میں ہے ، یہی بہت ہے
کس نے کہا ، میرے گھر ہی ٹھہرے
چاند اُس کے نگر میں کیا رُکا ہے
تارے بھی تمام اُدھر ہی ٹھہرے
ہم خود ہی تھے سوختہ مقدر
ہاں ! آپ ستارہ گر ہی ٹھہرے
میرے لیے منتظر ہو وہ بھی
چاہے سرِ رہگزر ہی ٹھہرے
پا زیب سے پیار تھا ، سو میرے
پاؤں میں سدا بھنور ہی ٹھہرے
پروین شاکر

ہوا ادھر سے اُدھر آتی جاتی رہتی ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 342
پس حصار خبر آتی جاتی رہتی ہے
ہوا ادھر سے اُدھر آتی جاتی رہتی ہے
پرند لوٹ بھی آئیں خلاء سے شاخوں پر
کہ فصلِ برق و شرر آتی جاتی رہتی ہے
یہاں بھی دل میں دیئے جلتے بجھتے رہتے ہیں
ہمارے گھر بھی سحر آتی جاتی رہتی ہے
غبار میں کوئی ناقہ سوار ہو شاید
سو راستے پہ نظر آتی جاتی رہتی ہے
دُعا کرو کہ سلامت رہے شجر کا بدن
بہارِ برگ و ثمر آتی جاتی رہتی ہے
عرفان صدیقی

مٹی ہیں تو پھر شہر بدر ہم نہیں ہوتے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 260
خوشبو کی طرح گرم سفر ہم نہیں ہوتے
مٹی ہیں تو پھر شہر بدر ہم نہیں ہوتے
پل بھر کا تماشا ہے سو دیکھو ہمیں اس بار
ایک آئنے میں بار دگر ہم نہیں ہوتے
کیا ابر گریزاں سے شکایت ہو کہ دل میں
صحرا ہی کچھ ایسا ہے کہ تر ہم نہیں ہوتے
لے جاؤ تم اپنی مہ و انجم کی سواری
ہر شخص کے ہمراہ سفر ہم نہیں ہوتے
مدت سے فقیروں کا یہ رشتہ ہے فلک سے
جس سمت وہ ہوتا ہے اُدھر ہم نہیں ہوتے
عرفان صدیقی

آج میں بھی طرف دیدۂ تر چلتا ہوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 142
اب تو باقی ہے یہی سمت سفر چلتا ہوں
آج میں بھی طرف دیدۂ تر چلتا ہوں
سوچنا کیا ہے اگر دشت زمیں ختم ہوا
میرے دل میں بھی تو صحرا ہے اُدھر چلتا ہوں
آخری رنگ ہواؤں سے بنا ہے کب تک
رخصت اے موسم بے رنگ و ثمر، چلتا ہوں
راہ میں چھوٹتے جاتے ہیں ملاقات کے بوجھ
جانے کیوں لے کے یہ سامان سفر چلتا ہوں
گھر سے نکلا تھا کہ صحرا کا تماشا دیکھوں
جب یہاں بھی وہی نقشہ ہے تو گھر چلتا ہوں
عرفان صدیقی

جس سمت جا رہے تھے اُدھر کچھ نہیں بچا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 33
اب اور کوئی منزل دشوار سوچئے
جس سمت جا رہے تھے اُدھر کچھ نہیں بچا
سب کاروبار عرض تمنا فضول ہے
دل میں لہو زباں میں اثر کچھ نہیں بچا
یہ کون چیختا ہے اگر مر چکا ہوں میں
یہ کیا تڑپ رہا ہے اگر کچھ نہیں بچا
عرفان صدیقی

اب دیکھنے کو دیدۂ تر، کچھ نہیں بچا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 32
طوفاں میں تا بہ حد نظر کچھ نہیں بچا
اب دیکھنے کو دیدۂ تر، کچھ نہیں بچا
کچھ خاک تھی سو وقت کی آندھی میں اُڑ گئی
آخر نشان سوز جگر کچھ نہیں بچا
ہر شئے کو ایک سیل بلاخیز لے گیا
سودا نہ سر، چراغ نہ در، کچھ نہیں بچا
سب جل گیا جو تھا ہمیں پیارا جہان میں
خوشبو نہ گل، صدف نہ گہر، کچھ نہیں بچا
مٹی بھی نذر حسرت تعمیر ہو گئی
گھر میں سوائے برق و شرر کچھ نہیں بچا
اُس پار ساحلوں نے سفینے ڈبو دیے
سب کچھ بچا لیا تھا مگر کچھ نہیں بچا
یا بازوئے ستم میں ہے یہ تیغ آخری
یا دست کشتگاں میں ہنر کچھ نہیں بچا
ڈرتے رہے تو موج ڈراتی رہی ہمیں
اَب ڈوب جائیے کہ خطر کچھ نہیں بچا
کچھ نقدِ جاں سفر میں لٹانا بھی ہے ضرور
کیا کیجئے کہ زادِ سفر کچھ نہیں بچا
یہ کاروبارِ عرضِ تمنا فضول ہے
دل میں لہو، دُعا میں اثر کچھ نہیں بچا
اب اور کوئی راہ نکالو کہ صاحبو
جس سمت جا رہے تھے اُدھر کچھ نہیں بچا
یہ کون چیختا ہے اگر مر گیا ہوں میں
یہ کیا تڑپ رہا ہے اگر کچھ نہیں بچا
عرفان صدیقی

آج کے اخبار میں کل کی خبر کیا دیکھنا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 22
دست قاتل کیا کٹے اے چشم تر کیا دیکھنا
آج کے اخبار میں کل کی خبر کیا دیکھنا
کچھ تو چٹانوں سے نکلے جوئے خوں یا جوئے شیر
پتھروں کے بیچ رہنا ہے تو سر کیا دیکھنا
ہم نے خود بن باس لینے کا کیا تھا فیصلہ
یار اب مڑ مڑ کے سوئے بام و در کیا دیکھنا
اپنے ہی جوش نمو میں رقص کرنا چاہیے
راستہ جھونکوں کا اے شاخ شجر کیا دیکھنا
اب کدھر سے وار ہو سکتا ہے یہ بھی سوچئے
کل جدھر سے تیر آیا تھا اُدھر کیا دیکھنا
عرفان صدیقی

نکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 36
سرکتی جائے ہے رُخ سے نقاب آہستہ آہستہ
نکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ
جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ
حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ
شبِ فرقت کا جاگا ہوں فرشتو اب تو سونے دو
کہیں فرصت میں کر لینا حساب آہستہ آہستہ
سوالِ وصل پر ان کو خدا کا خوف ہے اتنا
دبے ہونٹوں سے دیتے ہیں جواب آہستہ آہستہ
ہمارے اور تمہارے پیار میں بس فرق ہے اتنا
اِدھر تو جلدی جلدی ہے اُدھر آہستہ آہستہ
وہ بے دردی سے سر کاٹے امیر اور میں کہوں ان سے
حضور آہستہ آہستہ جناب آہستہ آہستہ
امیر مینائی