ٹیگ کے محفوظات: اُداس

کہنا اُسے، دنیا مجھے راس آئی نہیں ہے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 74
تخلیق سے فن کار کی باس آئی نہیں ہے
کہنا اُسے، دنیا مجھے راس آئی نہیں ہے
شاید کہ ہو اُمّید کے تاروں کا خزانہ
پاس آ کے یہ دولت میرے پاس آئی نہیں ہے
سورج کو نکلنا ہی نہ ہو مطلعِٔ شب سے
پھر کس لئے یہ شام اُداس آئی نہیں ہے
یا ذائقہ ہے تلخ کسی شے کی کمی سے
یا بھول میں موسم کی مٹھاس آئی نہیں ہے
کھوئے گئے حالات کے آشوب میں ایسے
کچھ اپنی خبر تا بہ حواس آئی نہیں ہے
آفتاب اقبال شمیم

مجھے اتنا تو نہ اُداس کرو، کبھی آؤ نا!

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 31
کبھی خود کو درد شناس کرو، کبھی آؤ نا!
مجھے اتنا تو نہ اُداس کرو، کبھی آؤ نا!
مری عمر سرائے مہکے ہے، گُل ہجراں سے
کبھی آؤ آ کر باس کرو، کبھی آؤ نا!
مجھے چاند میں شکل دکھائی دے، جو دہائی دے
کوئی چارۂ ہوش و حواس کرو، کبھی آؤ نا!
اُسی گوشۂ یاد میں بیٹھا ہوں ، کئی برسوں سے
کسی رفت گزشت کا پاس کرو، کبھی آؤ نا!
کہیں آب و ہوائے تشنہ لبی، مجھے مار نہ دے
اسے برکھا بن کر راس کرو کبھی آؤ نا!
سدا آتے جاتے موسم کی، یہ گلاب رتیں
کوئی دیر ہیں ، یہ احساس کرو، کبھی آؤ نا!
آفتاب اقبال شمیم

کوئی بھی حیلۂ تسکیں نہیں اور آس بہت ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 12
نہ دید ہے نہ سخن ، اب نہ حرف ہے نہ پیام
کوئی بھی حیلۂ تسکیں نہیں اور آس بہت ہے
اُمیدِ یار ، نظر کا مزاج ، درد کا رنگ
تم آج کچھ بھی نہ پُوچھو کہ دل اُداس بہت ہے
قطعہ
فیض احمد فیض

تمہارے ہوتے ہوئے ہم اُداس کیسے ہوئے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 255
نہ جانے اِتنے وفا ناشناس کیسے ہوئے
تمہارے ہوتے ہوئے ہم اُداس کیسے ہوئے
جو خواب میں نظر آتے تو چونک جاتا تھا
وہ حادثے مری آنکھوں کو راس کیسے ہوئے
دِلوں میں اَب وہ پُرانی کدورتیں بھی نہیں
یہ سایہ دار شجر بے لباس کیسے ہوئے
یہ نرم لہجہ تمہارا چلن نہ تھا عرفانؔ
تم آج ایسے زمانہ شناس کیسے ہوئے
عرفان صدیقی