ٹیگ کے محفوظات: اُتر

جب تک مرے وجود کے اندر اُتر نہ جائے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 91
خوشبو ہے وہ تو چُھو کے بدن کو گزر نہ جائے
جب تک مرے وجود کے اندر اُتر نہ جائے
خود پُھول نے بھی ہونٹ کیے اپنے نیم وا
چوری تمام رنگ کی ، تتلی کے سر نہ جائے
ایسا نہ ہو کہ لمس بدن کی سزا بنے
جی پُھول کا ، ہَوا کی محبت سے بھر نہ جائے
اس خوف سے وہ ساتھ نبھانے کے حق میں ہے
کھو کر مجھے،یہ لڑکی کہیں دُکھ سے مر نہ جائے
شدّت کی نفرتوں میں سدا جس نے سانس لی
شدّت کا پیار پاکے خلا میں بکھر نہ جائے
اُس وقت تک کناروں سے ندّی چڑھی رہے
جب تک سمندر کے بدن میں اُتر نہ جائے
پلکوں کو اُس کی ، اپنے دوپٹے سے پونچھ دوں
کل کے سفر کی گردِ سفر نہ جائے
میں کس کے ہاتھ بھیجوں اُسے آج کی دُعا
قاصد، ہوا،ستارہ کوئی اُس کے گھر نہ جائے
پروین شاکر

دھیرے سے میرے ہاتھ کو چُھو کر گزر گئی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 74
خُوشبو بھی اس کی طرزِ پذیرائی پر گئی
دھیرے سے میرے ہاتھ کو چُھو کر گزر گئی
آندھی کی زد میں آئے ہُوئے پُھولوں کی طرح
میں ٹکڑے ٹکڑے ہوکے فضا میں بکھر گئی
شاخوں نے پُھول پہنے تھے کچھ دیر قبل ہی
کیا ہو گیا،قبائے شجر کیوں اُتر گئی
اُن اُنگلیوں کا لمس تھا اور میری زُلف تھی
گیسو بکھر رہے تھے تو قسمت سنورگئی
اُترے نہ میرے گھر میں وہ مہتاب رنگ لوگ
میری دُعائے نیم شبی بے اثر گئی
پروین شاکر

مسئلہ پُھول کا ہے ، پُھول کدھر جائے گا

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 21
وہ تو خوشبو ہے ، ہواؤں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پُھول کا ہے ، پُھول کدھر جائے گا
ہم تو سمجھے تھے کہ اِک زخم ہے ، بھر جائے گا
کیا خبر تھی کہ رگِ جاں میں اُتر جائے گا
وہ ہواؤں کی طرح خانہ بجاں پھرتا ہے
ایک جھونکا ہے جو آئے گا، گُزر جائے گا
وہ جب آئے گا تو پھر اُس کی رفاقت کے لیے
موسمِ گُل مرے آنگن میں ٹھہر جائے گا
آخرش وہ بھی کہیں ریت پہ بیٹھی ہو گی
تیرا یہ پیار بھی دریا ہے ،اُتر جائے گا
مجھ کو تہذیب کے برزخ کا بنایا وارث
جُرم یہ بھی مرے اجداد کے سر جائے گا
پروین شاکر

تمام رات میں یاقوت چُن رہی تھی مگر

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 5
چراغِ ماہ لیے تجھ کو ڈھونڈتی گھر گھر
تمام رات میں یاقوت چُن رہی تھی مگر
یہ کیا کہ تری خوشبو کا صرف ذکر سُنوں
توعکسِ موجہ ءِ گُل ہے تو جسم وجاں میں اُتر
ذرا یہ حبس کٹے،کُھل کے سانس لے پاؤں
کوئی ہوا تو رواں ہو، صبا ہو یا صَر صَر
گئے دنوں کے تعاقب میں تتلیوں کی طرح
ترے خیال کے ہمراہ کر رہی ہوں سفر
ٹھہر گئے ہیں قدم،راستے بھی ختم ہُوئے
مسافتیں رگ وپے میں اُتر رہی ہیں مگر
میں سوچتی تھی،ترا قرب کچھ سکوں دے گا
اُداسیاں ہیں کہ کُچھ اور بڑھ گئیں مِل کر
ترا خیال،کہ ہے تارِ عنکبوت تمام
مرا وجود،کہ جیسے کوئی پُرانا کھنڈر
پروین شاکر

کہ دار پر گئے ہم اور پھر اُتر آئے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 159
حواس میں تو نہ تھے پھر بھی کیا نہ کر آئے
کہ دار پر گئے ہم اور پھر اُتر آئے
عجیب حال کے مجنوں تھے جو بہ عشوہ و ناز
بہ سوئے بادیہ محمل میں بیٹھ کر آئے
کبھی گئے تھے میاں جو خبر کو صحرا کی
وہ آئے بھی تو بگولوں کے ساتھ گھر آئے
کوئی جنوں نہیں سودائیانِ صحرا کو
کہ جو عزاب بھی آئے وہ شہر پر آئے
بتاؤ دام گرو چاہیے تمہیں اب کیا
پرندگانِ ہوا خاک پر اُتر آئے
عجب خلوص سے رخصت کیا گیا ہم کو
خیالِ خام کا ناوان تھا سو بھر آئے
جون ایلیا

میں کام نہ کر کے تھک گیا ہوں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 93
خود میں ہی گزر کے تھک گیا ہوں
میں کام نہ کر کے تھک گیا ہوں
اُوپر سے اُتر کے تازہ دم تھا
نیچے سے اُتر کے تھک گیا ہوں
اب تم بھی تو جی کے تھک رہے ہو
اب میں بھی تو مر کے تھک گیا ہوں
میں یعنی ازل کا آرمیدہ
لمحوں میں بِکھر کے تھک گیا ہوں
اب جان کا میری جسم شَل ہے
میں خود سے ہی ڈر کے تھک گیا ہوں
جون ایلیا

سارا نشہ اُتر گیا جانم

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 55
دل تمنا سے ڈر گیا جانم
سارا نشہ اُتر گیا جانم
اک پلک بیچ رشتہء جاں سے
ہر زمانہ گزر گیا جانم
تھا غضب فیصلے کا اِک لمحہ
کون پھر اپنے گھرگیا جانم
جانے کیسی ہوا چلی اک بار
دل کا دفتر بِکھر گیا جانم
اپنی خواب و خیال دنیا کو
کون برباد کر گیا جانم
تھی ستم ہجر کی مسیحائی
آخرش زخم بھر گیا جانم
اب بَھلا کیا رہا ہے کہنے کو
یعنی میں بے اثر گیا جانم
نہ رہا دل نہ داستاں دل کی
اب تو سب کچھ بسر گیا جانم
زہر تھا اپنے طور سے جینا
کوئی اِک تھا جو مر گیا جانم
جون ایلیا

جینے کا جب شوق نہیں تھا، مر جاتے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 53
ہم خود دار کبھی یہ جرأت کر جاتے
جینے کا جب شوق نہیں تھا، مر جاتے
دجلۂ خاک میں خواہش کی طغیانی تھی
جسم سفینے کیسے پار اُتر جاتے
آنکھوں کی تربیت ہم پر لازم تھی
اپنے آپ سے ورنہ خود ہی ڈر جاتے
آفتاب اقبال شمیم

ستارہ جو کو فرشتے کہیں نظر نہیں آئے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 240
خلاء میں کیا نظر آتے، زمین پر نہیں آئے
ستارہ جو کو فرشتے کہیں نظر نہیں آئے
نشاں نہ تھا کوئی ڈوبی ہوئی زمینوں کا
سو ہم جہاز پہ اُڑتے رہے اُتر نہیں آئے
جہان نو تھا کہ مقتل ہمیں نہیں معلوم
جو اس گلی سے گئے تھے زیادہ تر نہیں آئے
اُداس شام اکیلی کھڑی ہے چوکھٹ پر
بہت سے صبح کے نکلے ہوئے بھی گھر نہیں آئے
یہ فصل گل جو بہت مہربان ہے اس بار
عجب نہیں ہے کہ جائے تو لوٹ کر نہیں آئے
عرفان صدیقی

اِتنی زنجیروں میں مت جکڑو، بکھر جائیں گے لوگ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 129
موجِ خوں بن کر کناروں سے گزر جائیں گے لوگ
اِتنی زنجیروں میں مت جکڑو، بکھر جائیں گے لوگ
قاتلوں کے شہر میں بھی زندگی کرتے رہے
لوگ شاید یہ سمجھتے تھے کہ مر جائیں گے لوگ
اَن گنت منظر ہیں اور دِل میں لہو دو چار بوُند
رَنگ آخر کتنی تصوِیروں میں بھر جائیں گے لوگ
جسم کی رعنائیوں تک خواہشوں کی بھیڑ ہے
یہ تماشا ختم ہو جائے تو گھر جائیں گے لوگ
جانے کب سے ایک سنّاٹا بسا ہے ذہن میں
اَب کوئی اُن کو پکارے گا تو ڈر جائیں گے لوگ
بستیوں کی شکل و صوُرت مختلف کتنی بھی ہو
آسماں لیکن وہی ہو گا جدھر جائیں گے لوگ
سُرخ رو ہونے کو اِک سیلابِ خوُں دَرکار ہے
جب بھی یہ دَریا چڑھے گا پار اُترجائیں گے لوگ
عرفان صدیقی