ٹیگ کے محفوظات: اُترتا

اِک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 53
اپنی رسوائی، ترے نام کا چرچا دیکھوں
اِک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں
نیند آ جائے تو کیا محفلیں برپا دیکھوں
آنکھ کُھل جائے تو تنہائی کا صحرا دیکھوں
شام بھی ہو گئی، دُھندلا گئیں آنکھیں بھی مری
بُھولنے والے،میں کب تک ترارَستا دیکھوں
ایک اِک کر کے مجھے چھوڑ گئیں سب سکھیاں
آج میں خُود کو تری یاد میں تنہا دیکھوں
کاش صندل سے مری مانگ اُجالےآ کر
اتنے غیروں میں وہی ہاتھ ،جو اپنا دیکھوں
تو مرا کُچھ نہیں لگتا ہے مگر جانِ حیات!
جانے کیوں تیرے لیے دل کو دھڑکتا دیکھوں !
بند کر کے مِری آنکھیں وہ شرارت سے ہنسے
بُوجھے جانے کا میں ہر روز تماشہ دیکھوں
سب ضِدیں اُس کی میں پوری کروں ،ہر بات سُنوں
ایک بچے کی طرح سے اُسے ہنستا دیکھوں
مُجھ پہ چھا جائے وہ برسات کی خوشبو کی طرح
انگ انگ اپنا اسی رُت میں مہکتا دیکھوں
پُھول کی طرح مرے جسم کا ہر لب کِھل جائے
پنکھڑی پنکھڑی اُن ہونٹوں کا سایا دیکھوں
میں نے جس لمحے کو پُوجا ہے،اُسے بس اِک بار
اب بن کر تری آنکھوں میں اُترتا دیکھوں
تو مری طرح سے یکتا ہے، مگر میرے حبیب!
میں آتا ہے، کوئی اور بھی تجھ سا دیکھوں
ٹُوٹ جائیں کہ پگھل جائیں مرے کچے گھڑے
تجھ کو میں دیکھوں کہ یہ آگ کا دریا دیکھوں
پروین شاکر

سو وہ سر بریدہ بھی پشت فرس سے اُترتا نہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 193
جو گرتا نہیں ہے اسے کوئی پامال کرتا نہیں
سو وہ سر بریدہ بھی پشت فرس سے اُترتا نہیں
بس اب اپنے پیاروں کو اپنے دلاروں کو رخصت کرو
کہ اس امتحاں سے فرشتوں کا لشکر گزرتا نہیں
کبھی زرد ریتی کبھی خشک شاخوں پہ ہنستا ہوا
ہمارا لہو کس قدر سخت جاں ہے کہ مرتا نہیں
تری تیغ تو میری ہی فتح مندی کا اعلان ہے
یہ بازو نہ کٹتے اگر میرا مشکیزہ بھرتا نہیں
MERGED جو گرتا نہیں ہے اسے کوئی پامال کرتا نہیں
سو وہ سربریدہ بھی پشتِ فرس سے اترتا نہیں
کبھی زرد ریتی، کبھی سرد شاخوں پہ ہنستا ہوا
ہمارا لہو کس قدر سخت جاں ہے کہ مرتا نہیں
بس اب اپنے پیاروں کو، اپنے دُلاروں کو یکجا کرو
سنو، اس طرف سے فرشتوں کا لشکر گزرتا نہیں
سماعت کہ جنگل کا انعام تھا اک سزا بن گئی
اگر میں وہ انجان چیخیں نہ سنتا تو ڈرتا نہیں
عرفان صدیقی