ٹیگ کے محفوظات: اَزَل سے سب مکرّر ہو رَہا ہے

اَزَل سے سب مکرّر ہو رَہا ہے

نہ جانے کہہ دِیا ہے عشق نے کیا
کہ حُسن آپے سے باہر ہو رَہا ہے
حواس و ہوش سے کہہ دو کہ جائیں
حسابِ دل برابر ہو رَہا ہے
اَبَد ممکن ہے لائے کچھ تغیّر
اَزَل سے سب مکرّر ہو رَہا ہے
ضامن جعفری