ٹیگ کے محفوظات: اوپر

اچّھا نہیں ہے خواب کا منظر رکھا ہوا

دل کے نگار خانہ سے باہر رکھا ہوا
اچّھا نہیں ہے خواب کا منظر رکھا ہوا
بے رنگ ہو کے گر پڑا فوراً چراغِ حُسن
تھا میں نے عشق ہاتھ کے اوپر رکھا ہوا
خطرہ ہے جم نہ جائے کہیں ضبط کا غبار
ہے دل کو ہم نے اس لیے اندر رکھا ہوا
کب ہو گئے فگار مرے ہاتھ کیا خبر
پہلو میں اُس نے تھا کہیں خنجر رکھا ہوا
اِس احتیاط سے تمہیں چاہا کہ اے فلکؔ!
اب تک زباں پہ چپ کا ہے پتھّر رکھا ہوا
افتخار فلک

وہ علم و آگہی کا جو منظر تھا کیا ہوا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 65
سید نصیر شاہ کا جو گھر تھا کیا ہوا
وہ علم و آگہی کا جو منظر تھا کیا ہوا
کہتا تھا جو خدا سے کہ اک جیساکر ہمیں
مشہور شہر میں وہ جو کافر تھا کیا ہوا
وہ جس بلند طرے سے ڈرتے تھے کجکلاہ
وہ جو غریب چلتا اکٹر کر تھا کیا ہوا
ہوتے مشاعرے تھے جو اکثر وہ کیا ہوئے
وہ شاعروں کا ایک جو لشکر تھا کیا ہوا
وہ شام کیا ہوئی جو سٹیشن کے پاس تھی
وہ شخص جو مجھے کبھی ازبر تھا کیا ہوا
وہ ہار مونیم جو بجاتا تھا ساری رات
وہ ایک گانے والا یہاں پر تھا کیا ہوا
برگد ہزاروں سال سے سایہ فگن جہاں
وہ چشمہ جو پہاڑ کے اوپر تھا کیا ہوا
جلتے جہاں تھے دیپ وہ میلے کہاں گئے
آتا یہاں جو پھولوں کا چیتر تھا کیا ہوا
مکھن جو کھایا کرتے تھے وہ مرغ کیا ہوئے
ہر صبح وہ جو بولتا تیتر تھا کیا ہوا
عاجز کے وہ لہکتے ہوئے گیت کیا ہوئے
تنویر کچھ بتا وہ جو مظہر تھا کیا ہوا
چشمہ بیراج کیا ہوا منصور کچھ کہو
جو دیکھنے میں ایک سمندر تھا کیا ہوا
منصور آفاق