ٹیگ کے محفوظات: اونچا

جُگ بیتے وہ شخص نہیں ہے دیکھا جیسے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 34
آنکھوں میں آباد ہے ویرانہ سا جیسے
جُگ بیتے وہ شخص نہیں ہے دیکھا جیسے
کوئی چکور نہیں آتا ہے اُڑ کر ہم تک
ہم تنہا ہیں آسمان پر چندا جیسے
جب سے باغ نے ابر سے ہم آغوشی چاہی
اُڑنے لگا وہ اور بھی، اور بھی اُونچا جیسے
چھنی سماعت سے جب سے بُوندوں کی آہٹ
چاروں اور ہے ہیبت زا سنّاٹا جیسے
جب سے ماجِد عمر کی پت جھڑ زوروں پر ہے
گرد آلود ہُوئی ہر ایک تمنّا جیسے
ماجد صدیقی

مری طرح سے اکیلا دکھائی دیتا ہے

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 71
جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائی دیتا ہے
مری طرح سے اکیلا دکھائی دیتا ہے
نہ اتنی تیز چلے سر پھری ہوا سے کہو
شجر پہ ایک ہی پتّا دکھائی دیتا ہے
برا نہ مانیے لوگوں کی عیب جوئی کا
انہیں تو دن کو بھی سایا دکھائی دیتا ہے
یہ ایک ابر کا ٹکڑا کہاں کہاں برسے
تمام دشت ہی پیاسا دکھائی دیتا ہے
وہیں پہنچ کے گرائیں گے بادباں اپنے
وہ دور کوئی جزیرہ دکھائی دیتا ہے
وہ الوداع کا منظر، وہ بھیگتی پلکیں
پسِ غبار بھی کیا کیا دکھائی دیتا ہے
مری نگاہ سے چھپ کر کہاں رہے گا کوئی
کہ اب تو سنگ بھی شیشہ دکھائی دیتا ہے
سمٹ کے رہ گئے آخر پہاڑ سے قدم بھی
زمیں سے ہر کوئی اونچا دکھائی دیتا ہے
کھلی ہے دل میں کسی کے بدن کی دھوپ شکیبؔ
ہر ایک پھول سنہرا دکھائی دیتا ہے
شکیب جلالی