ٹیگ کے محفوظات: اوقات

دن گذر جائیں ہیں پر بات چلی جاتی ہے

دیوان اول غزل 594
کچھ تو کہہ وصل کی پھر رات چلی جاتی ہے
دن گذر جائیں ہیں پر بات چلی جاتی ہے
رہ گئے گاہ تبسم پہ گہے بات ہی پر
بارے اے ہم نشیں اوقات چلی جاتی ہے
ٹک تو وقفہ بھی کر اے گردش دوراں کہ یہ جان
عمر کے حیف ہی کیا سات چلی جاتی ہے
یاں تو آتی نہیں شطرنج زمانہ کی چال
اور واں بازی ہوئی مات چلی جاتی ہے
روز آنے پہ نہیں نسبت عشقی موقوف
عمر بھر ایک ملاقات چلی جاتی ہے
شیخ بے نفس کو نزلہ نہیں ہے ناک کی راہ
یہ ہے جریان منی دھات چلی جاتی ہے
خرقہ مندیل و ردا مست لیے جاتے ہیں
شیخ کی ساری کرامات چلی جاتی ہے
ہے موذن جو بڑا مرغ مصلی اس کی
مستوں سے نوک ہی کی بات چلی جاتی ہے
پائوں رکتا نہیں مسجد سے دم آخر بھی
مرنے پر آیا ہے پر لات چلی جاتی ہے
ہر سحر درپئے آرام مے آشاماں ہے
مکر و طامات کی اک گھات چلی جاتی ہے
ایک ہم ہی سے تفاوت ہے سلوکوں میں میر
یوں تو اوروں کی مدارات چلی جاتی ہے
میر تقی میر

دو دو بچن کے ہونے میں اک بات ہو گئی

دیوان اول غزل 467
کل بارے ہم سے اس سے ملاقات ہو گئی
دو دو بچن کے ہونے میں اک بات ہو گئی
کن کن مصیبتوں سے ہوئی صبح شام ہجر
سو زلفیں ہی بناتے اسے رات ہو گئی
گردش نگاہ مست کی موقوف ساقیا
مسجد تو شیخ جی کی خرابات ہو گئی
ڈر ظلم سے کہ اس کی جزا بس شتاب ہے
آیا عمل میں یاں کہ مکافات ہو گئی
خورشید سا پیالۂ مے بے طلب دیا
پیر مغاں سے رات کرامات ہو گئی
کتنا خلاف وعدہ ہوا ہو گا وہ کہ یاں
نومیدی و امید مساوات ہو گئی
آ شیخ گفتگوے پریشاں پہ تو نہ جا
مستی میں اب تو قبلۂ حاجات ہو گئی
ٹک شہر سے نکل کے مرا گریہ سیر کر
گویا کہ کوہ و دشت پہ برسات ہو گئی
دیدار کی گرسنگی اپنی یہیں سے دیکھ
اک ہی نگاہ یاروں کی اوقات ہو گئی
اپنے تو ہونٹ بھی نہ ہلے اس کے روبرو
رنجش کی وجہ میر وہ کیا بات ہو گئی
میر تقی میر

دن نہ پھر جائیں گے عشاق کے اک رات کے بیچ

دیوان اول غزل 192
کر نہ تاخیر تو اک شب کی ملاقات کے بیچ
دن نہ پھر جائیں گے عشاق کے اک رات کے بیچ
حرف زن مت ہو کسی سے تو کہ اے آفت شہر
جاتے رہتے ہیں ہزاروں کے سر اک بات کے بیچ
میری طاعت کو قبول آہ کہاں تک ہو گا
سبحہ اک ہاتھ میں ہے جام ہے اک ہات کے بیچ
سرمگیں چشم پہ اس شوخ کی زنہار نہ جا
ہے سیاہی مژہ میں وہ نگہ گھات کے بیچ
بیٹھیں ہم اس کے سگ کو کے برابر کیوں کر
کرتے ہیں ایسی معیشت تو مساوات کے بیچ
تاب و طاقت کو تو رخصت ہوئے مدت گذری
پندگو یوں ہی نہ کر اب خلل اوقات کے بیچ
زندگی کس کے بھروسے پہ محبت میں کروں
ایک دل غم زدہ ہے سو بھی ہے آفات کے بیچ
بے مے و مغبچہ اک دم نہ رہا تھا کہ رہا
اب تلک میر کا تکیہ ہے خرابات کے بیچ
میر تقی میر

جو بات میرے دل میں تھی وہ بات نئیں ہوئی

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 215
ایسا تو نئیں کہ ان سے ملاقات نئیں ہوئی
جو بات میرے دل میں تھی وہ بات نئیں ہوئی
بہتر یہ ہے کہ وہ تنِ شاداب ادھر نہ آئے
برسوں سے میرے شہر میں برسات نئیں ہوئی
پیش ہوس تھا خوانِ دو عالم سجا ہوا
اس رزق پر مگر بسر اوقات نئیں ہوئی
تیرے بغیر بھی غم جاں ہے وہی کہ نئیں
نکلا نہ ماہتاب تو کیا رات نئیں ہوئی
ہم کون پیرِ دل زدگاں ہیں کہ عشق میں
یاراں بڑے بڑوں سے کرامات نئیں ہوئی
کیا سہل اس نے بخش دیا چشمۂ حیات
جی بھر کے سیرِ وادیِ ظلمات نئیں ہوئی
میرے جنوں کو ایک خرابے کی سلطنت
یہ تو کوئی تلافیِ مافات نئیں ہوئی
اپنا نسب بھی کوئے ملامت میں بار ہے
لاکھ اپنے پاس عزتِ سادات نئیں ہوئی
یاقوتِ لب تو کارِ محبت کا ہے صلہ
اجرت ہوئی حضور یہ سوغات نئیں ہوئی
کب تک یہ سوچ سوچ کے ہلکان ہو جیسے
اب تک تری طرف سے شروعات نئیں ہوئی
عرفان صدیقی

ساحلوں پر زندگی سن باتھ کرنا چاہتی ہے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 632
تیرے کرنوں والے ہٹ میں رات کرنا چاہتی ہے
ساحلوں پر زندگی سن باتھ کرنا چاہتی ہے
اپنے بنگلوں کے سوئمنگ پول کی تیراک لڑکی
میرے دریا میں بسر اوقات کرنا چاہتی ہے
وقت کی رو میں فراغت کا نہیں ہے کوئی لمحہ
اور اک بڑھیا کسی سے بات کرنا چاہتی ہے
چاہتا ہوں میں بھی بوسے کچھ لبوں کی لاٹری کے
وہ بھی ملین پونڈ کی برسات کرنا چاہتی ہے
مانگتا پھرتا ہوں میں بھی آگ کا موسم کہیں سے
وہ بھی آتشدان کی خیرات کرنا چاہتی ہے
کیسے کی اس نے نفی جوبات کرنا چاہتی ہے
جو نہیں وہ ذات کیا اثبات کرنا چاہتی ہے
منصور آفاق

چلتی ہے کتنے پہر کسی ذات کی گھڑی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 460
کچھ کہہ رہی ہے مجھ سے ترے ہاتھ کی گھڑی
چلتی ہے کتنے پہر کسی ذات کی گھڑی
لیکن میں روک سکتانہیں رات کی گھڑی
دیوار پر لگادی ہے اوقات کی گھڑی
باہر سے لوٹ جائے وہ مہتاب کی کرن
اب ختم ہوچکی ہے ملاقات کی گھڑی
اچھی ہیں یار کی متلون مزاجیاں
ممکن ہے پھر وہ آئے مدارات کی گھڑی
بہتا ہے میرے سینے میں اک چشمۂ دعا
ٹھہری ہوئی ہے مجھ میں مناجات کی گھڑی
یہ اور بات دیکھ کے پہچانتے نہیں
آتی ہے روز، روزِ مکافات کی گھڑی
دیکھو ازل نژاد ہے چلتی ہوئی ہوا
سمجھو ابد خرام ہے آیات کی گھڑی
اب ختم ہورہی ہے مشقت نصیب کی
چلنے پہ آگئی ہے حوالات کی گھڑی
گھڑیال مسجدوں کے بتاتے ہیں اور وقت
کچھ اور کہہ رہی ہے سماوات کی گھڑی
اعمال دیکھ کر مرے آقائے لوح نے
امت سے چھین لی ہے فتوحات کی گھڑی
منصور بہہ رہا ہے مرے وقت سے لہو
چلتی سدا ہے زخم میں حالات کی گھڑی
منصور آفاق

بس بدلتے نمازوں کے اوقات ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 358
وقت ساکت ہے ،جامد یہ حالات ہیں
بس بدلتے نمازوں کے اوقات ہیں
میری رائے پہ اے زندگی رحم کر
تیرے بارے میں اچھے خیالات ہیں
دے رہاہے مرا چہرہ سب کے جواب
تیری آنکھوں میں جتنے سوالات ہیں
پاؤں آگے بڑھا ، دار پر وار کر
موت کے کھیل میں ہم ترے ساتھ ہیں
گھاس کھاتے رہو بم بناتے رہو
اپنی باقی ابھی کچھ فتوحات ہیں
تیری زلفوں کی کرنیں تلاوت کریں
تیرے چہرے کی آنکھوں میں آیات ہیں
آتے جاتے ہیں اکثرشبِ تار میں
یہ ستارے تو اپنے مضافات ہیں
غم ہے تنہائی ہے ، ہجر ہے رات ہے
ہم پہ منصور کیا کیا عنایات ہیں
منصور آفاق

پھر بھی ان سے نہ ملاقات ہوئی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 153
سامنے بیٹھ کے ہر بات ہوئی
پھر بھی ان سے نہ ملاقات ہوئی
یوں تو کیا کچھ نہیں ہوتا لیکن
پوچھئے اس سے جسے مات ہوئی
دل ہی جب ٹوٹ گیا تو پھر کیا
نہ ہوئی یا بسر اوقات ہوئی
آپ پھر بیچ میں بول اٹھے ہیں
کب ابھی ختم مری بات ہوئی
میرے ہوتے تو وہ چپ تھے باقیؔ
کیا مرے بعد کوئی بات ہوئی
باقی صدیقی

نیند نہ آئی ساری رات

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 6
یاد آئی کیا تیری بات
نیند نہ آئی ساری رات
تم بھی واپس لا نہ سکو
اتنی دور گئی ہے بات
میرے غم میں ڈوب گئی
انگڑائی لے کر برسات
رسوائی کا نام بُرا
جب چھیڑو تازہ ہے بات
دل کو روشن کرتی ہیں
بجھ کر شمعیں بعض اوقات
جب عرض غم کی باقیؔ
ہنس کر ٹال گئے وہ بات
باقی صدیقی