ٹیگ کے محفوظات: اوزار

یہاں اہلِ نظر تو ہیں بہت، بیدار کم کم ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 52
جو آنکھیں دیکھتی ہوں دھُند کے اُس پار، کم کم ہیں
یہاں اہلِ نظر تو ہیں بہت، بیدار کم کم ہیں
بھسم کرنے کو آہن، کام میں لایا گیا کیا کیا
فلاحت اور زراعت کے مگر اوزار کم کم ہیں
سمجھ بیٹھے ہیں جب سے اصلِ حرصِ خوش خصالاں ہم
کسی بھی صورتِ حالات سے بے زار کم کم ہیں
شکم جب سے بھرا رہنے لگا ہے چھِینا جھپٹی سے
وہ کہتے ہیں یہی ، نگری میں اب نادار کم کم ہیں
فروغِ تیرگی بھی دم بہ دم ماجِد فراواں ہے
نگر میں جگنوؤں کے پاس بھی انوار کم کم ہیں
ماجد صدیقی

جو اَوج نشیں ہے مرا آزار نہ جانے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 31
صحنوں کی گھُٹن شہر کا مینار نہ جانے
جو اَوج نشیں ہے مرا آزار نہ جانے
وہ پارچہ نازش کسی سر کی ہے، یہ نکتہ
قدموں میں گرائی گئی دستار نہ جانے
جانے نہ کرے تیرگی کیا، اُس کی نمایاں
جگنو کا کِیا، کوئی شب تار نہ جانے
مٹی کو وہ بستر کرے، بازو کو سرہانہ
جو خانماں برباد ہے،گھر بار نہ جانے
پینے کو بھی چھوڑے نہ کہیں، آبِ مصفّا
سیلاب ستم کا، کوئی معیار نہ جانے
ژالے کبھی پچھتائیں نہ چڑیوں پہ برس کے
سنگینیِ اِیذا کوئی اوزار نہ جانے
ہر غیب عیاں اُس پہ بقول اُس کے ہے ماجد
جو روگ ہمیں ہیں، کوئی اوتار، نہ جانے
ماجد صدیقی

نہیں لیکن لبِ اظہار رکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 71
سلگنا جان میں آزار رکھنا
نہیں لیکن لبِ اظہار رکھنا
عقیدت کے چڑھاوے چاہئیں تو
بڑے مخصوص سے اطوار رکھنا
کرم بھی ہو جو محتاجوں پہ کرنا
اُنہیں پہلے ذرا بے زار رکھنا
تأثر مہربانی کا نظر میں
خشونت کے بھی ساتھ آثار رکھنا
ہر اِک منظر نیا دوزخ بنے گا
یہاں مت دیدۂ بیدار رکھنا
اماں کو، پنجۂ انسان سے بھی
پڑے ہیں آہنی اوزار رکھنا
بڑا مشکل ہے اَب ماجدؔ چمن میں
سلامت اپنے برگ و بار رکھنا
ماجد صدیقی

تھے جو کل یار وہ اغیار بنے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 80
رابطے جان کا آزار بنے
تھے جو کل یار وہ اغیار بنے
واہمہ ہجر کا اُس سے ملتے
جانے کیوں راہ کی دیوار بنے
ہاتھ لتھڑے تھے لہو سے جن کے
مرنے والوں کے عزادار بنے
جاں فزا کھوج تھا جن کا ماجدؔ
سب ہلاکت کے وہ اوزار بنے
ماجد صدیقی

کیسا یہ مری روح کو آزار ملا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 112
جذبہ جو لبوں کو پئے اظہار ملا ہے
کیسا یہ مری روح کو آزار ملا ہے
اترا ہے یہ ہر صحن میں کس حبس کا موسم
دیکھا ہے جسے شہر میں بے زار ملا ہے
ماتھوں کو جھکائے جو نہ دہلیز پہ اپنی
کب حُسنِ نظر سا کوئی اوتار ملا ہے
دیکھا ہے چلا کر اسے ہم جنس لہو پر
انسان کو جب بھی کوئی اوزار ملا ہے
خطرہ جو پرندے کو سرِ فصل لگا تھا
اب اُس سے نشیمن میں بھی دوچار ملا ہے
ہم شہر میں وہ اہلِ ہنر ہیں جنہیں ماجدؔ
برسوں کی ریاضت کا صلہ نار ملا ہے
ماجد صدیقی