ٹیگ کے محفوظات: اوتار

جو اَوج نشیں ہے مرا آزار نہ جانے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 31
صحنوں کی گھُٹن شہر کا مینار نہ جانے
جو اَوج نشیں ہے مرا آزار نہ جانے
وہ پارچہ نازش کسی سر کی ہے، یہ نکتہ
قدموں میں گرائی گئی دستار نہ جانے
جانے نہ کرے تیرگی کیا، اُس کی نمایاں
جگنو کا کِیا، کوئی شب تار نہ جانے
مٹی کو وہ بستر کرے، بازو کو سرہانہ
جو خانماں برباد ہے،گھر بار نہ جانے
پینے کو بھی چھوڑے نہ کہیں، آبِ مصفّا
سیلاب ستم کا، کوئی معیار نہ جانے
ژالے کبھی پچھتائیں نہ چڑیوں پہ برس کے
سنگینیِ اِیذا کوئی اوزار نہ جانے
ہر غیب عیاں اُس پہ بقول اُس کے ہے ماجد
جو روگ ہمیں ہیں، کوئی اوتار، نہ جانے
ماجد صدیقی

یہ سانحہ، کوئی بڑی سرکار نہ جانے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 3
ہے کس کو یہاں کون سا آزار، نہ جانے
یہ سانحہ، کوئی بڑی سرکار نہ جانے
جانے نہ کرے تیرگی کیا، اُس کی نمایاں
جگنو کا کِیا، کوئی شبِ تار نہ جانے
مٹی کو وہ بستر کرے، بازو کو سرہانہ
جو خانماں برباد ہے، گھر بار نہ جانے
چیونٹی کو ہمیشہ کسی چوٹی ہی سے دیکھے
عادل، کسی مظلوم کی تکرار نہ جانے
پینے کو بھی چھوڑے نہ کہیں، آبِ مصفّا
سیلاب ستم کا، کوئی معیار نہ جانے
کس درجہ جُھکانا ہے یہ سر، عجز میں ماجدؔ
بندہ ہی یہ جانے، کوئی اوتار نہ جانے
ماجد صدیقی

کیسا یہ مری روح کو آزار ملا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 112
جذبہ جو لبوں کو پئے اظہار ملا ہے
کیسا یہ مری روح کو آزار ملا ہے
اترا ہے یہ ہر صحن میں کس حبس کا موسم
دیکھا ہے جسے شہر میں بے زار ملا ہے
ماتھوں کو جھکائے جو نہ دہلیز پہ اپنی
کب حُسنِ نظر سا کوئی اوتار ملا ہے
دیکھا ہے چلا کر اسے ہم جنس لہو پر
انسان کو جب بھی کوئی اوزار ملا ہے
خطرہ جو پرندے کو سرِ فصل لگا تھا
اب اُس سے نشیمن میں بھی دوچار ملا ہے
ہم شہر میں وہ اہلِ ہنر ہیں جنہیں ماجدؔ
برسوں کی ریاضت کا صلہ نار ملا ہے
ماجد صدیقی

سچ لٹکتا ہے ہمیشہ دار سے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 138
بچ نہیں سکتا رِیا کے وار سے
سچ لٹکتا ہے ہمیشہ دار سے
دُور کرنے راہ چلتوں کی تھکن
جھانکتی ہے بیل اِک دیوار سے
ڈھل گیا آخر تناؤ شاخ کا
عجز کے سجدوں میں، برگ و بار سے
جس میں ہو تاب و تواں ایقان کی
وُہ بدن کٹتا نہیں تلوار سے
کس نے آنا تھا بھلا لینے ہمیں
سر اٹھاتے بھی تو کیا منجدھار سے
دل مرا چڑیا کے بچّے کی طرح
دم بخود ہے حرص کی یلغار سے
سر جُھکے ماجدؔ دعا کو کس قدر
پوچھ لو یہ بھی کسی اوتار سے
ماجد صدیقی

حرصِ سکوں کے سحر میں آ کر اور بھی ہم لاچار ہوئے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 99
‮‮‮‮‮بہرِ شفا تھے جو بھی قیافے باعثِ صد آزار ہوئے
حرصِ سکوں کے سحر میں آ کر اور بھی ہم لاچار ہوئے
ہم نے جنہیں سُکھ چَین کی خاطر زینہ زینہ اَوج دیا
جان کے خاک ہمیں پیروں کی لوگ وُہی اوتار ہوئے
شاخوں پتّوں اور کلیوں میں کب تھا اِتنا سہم کبھی
مژدہ ہو اے حبس کہ تجھ سے پتّھر سب اشجار ہُوئے
غیر تو خیر ہمیں کیا دیتے، اپنوں نے بھی درد دئیے
اپنے آپ سے بیزاری کے قائل ہم ناچار ہُوئے
ہم نے پئے اظہارِ جنوں اپنائے تھے جو لفظ کبھی
طالب تھے توقیر کے لیکن اُلٹے ناہنجار ہوئے
بادِ صبا یا پھول کی خوشبو، ماجدؔ ذکر ہو کس کس کا
صحنِ چمن کے سارے باسی محرومِ اظہار ہُوئے
ماجد صدیقی

ندی بھی ہے سبک رفتار مجھ سے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 544
یہ گہرے سبز سے کہسار مجھ سے
ندی بھی ہے سبک رفتار مجھ سے
زمانہ ہے سحر آثار مجھ سے
ملو آ کے افق کے پار مجھ سے
اسے ہر بار ایسے دیکھتا ہوں
ملا ہے جیسے پہلی بار مجھ سے
طلب کی آخری حد آ گئی ہے
وہ آئے اور سنے انکار مجھ سے
مری تقدیر میں بربادیاں ہیں
کہے ٹوٹا ہوا اوتار مجھ سے
سمجھ کر دھوپ مجھ کو زندگی کی
گریزاں سایہء دیوار مجھ سے
درختوں پر میں بارش کی طرح ہوں
ہوا میں خاک کی مہکار مجھ سے
مسلسل لفظ ہیں کرب و بلا میں
سرِ نوکِ سناں اظہار مجھ سے
منائیں لوگ جشن فتح مندی
فقط نسبت ہے تیری ہار مجھ سے
پڑا کوئے ملامت میں کہیں ہوں
تعلق کیا رکھے دستار مجھ سے
میں شب بھر چاند کو منصور دیکھوں
یہ چاہے دیدئہ بیدار مجھ سے
منصور آفاق

ہند کی سب سے بڑی سرکار نو شہ گنج بخشؒ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 191
برکتوں کا مطلع ء انوار نو شہ گنج بخشؒ
ہند کی سب سے بڑی سرکار نو شہ گنج بخشؒ
جا نشینِ غو ث اعظمؒ ، افتخا رِ اولیا
وا قف اسرار در اسرار نو شہ گنج بخشؒ
حاکم مِلک شر یعت ، مالک ، شہر سلوک
در سعادت نقطہ ء پرکار نو شہ گنج بخشؒ
آفتا بِ فیضِ عالم ہیں جہا ں پر غو ث پاکؒ
اُس فلک پر ثا بت و سیار نو شہ گنج بخشؒ
صر ف مشر ق میں نہیں ان کی ولا یت کا ظہو ر
خا کِ مغر ب پہ بھی رحمت بار نو شہ گنج بخشؒ
بر ق نو شاہی ؒ سے لے کر حضرت معر و ف تک
نیکیوں سے اک بھرا گلزار نو شہ گنج بخشؒ
چو متے ہیں حا ملانِ جبہ ود ستا ر پا ئو ں
محتر م اتنا سگِ دربار نو شہ گنج بخشؒ
عالمِ لاہو ت کی صبح مقد س ان کی ذا ت
رو شنی کا نر م و حد ت زار نو شہ گنج بخشؒ
بخش دیں بینا ئی نا بینا ئو ں کو اک دید سے
ہم نہیں کہتے ہیں یہ ، اوتار نو شہ گنج بخشؒ
ہر قدم اس شخص کا پھر بخت آور ہو گیا
مہر با ں جس پہ ہو ئے اک بار نو شہ گنج بخشؒ
زہد و تقو یٰ ، فقر و فا قہ اور عمل کے با ب میں
اک مجسم نو ر کا اظہار نو شہ گنج بخشؒ
وہ مجد د ہیں ہز ا ر وں سا ل پر پھیلے ہو ئے
یو ں سمجھ لو حا صلِ ادوار نو شہ گنج بخشؒ
منز ل علم و فضلیت ، رو نق را ہِ سلو ک
کشفِ مصطفو ی ؐ کے پیر و کار نو شہ گنج بخشؒ
کہتے ہیں بے رو ح جسمو ں کو جگا تا تھا مسیح
مر دہ دل کر دیتے ہیں بیدار نو شہ گنج بخشؒ
ہا ں ! سر تسلیم خم کر تا ہے در یا ئے چنا ب
پانیوں کے جیسے ہیں مختار نو شہ گنج بخشؒ
غو ثِ اعظم ؒ کے شجر کا خو شہ ء فقر و سلو ک
قا دری گلز ا ر کے پندار نو شہ گنج بخشؒ
شمعِ عر فا ن الہی ، شب زدو ں کی رو شنی
سا عتِ پر نو ر سے سر شار نو شہ گنج بخشؒ
دا ستا نو ں میں مر یدِ با صفا ہیں آپ کے
صا حبا ں مر ز ا کے بھی کر دار نو شہ گنج بخشؒ
جن و انسا ں ہی نہیں ہیں آپ کے خدا م میں
آپ کے قد سی ہیں خد متگار نو شہ گنج بخشؒ
پا ئے نو شہ کے تلے بہتے ہیں در یا ئے بہشت
سا قی ء کو ثر ؐ کے ہیں میخوار نو شہ گنج بخشؒ
آپ کا اسمِ گرا می وقت کے ہو نٹو ں پہ ہے
تذ کر ہ کر تا ہے سب سنسار نو شہ گنج بخشؒ
صر ف یو ر پ ہی نہیں ہے آپ کے ہیں معتقد
ہند سند ھ اور کا بل و قندھار نو شہ گنج بخشؒ
حکمرا نو ں کی جبینیں ان کے در پہ خم ہو ئیں
مو تیو ں والے سخی سردار نو شہ گنج بخشؒ
مو ج بن جا ئے گی کشتی تیر ے میرے وا سطے
یو ں اتا ریں گے ہمیں اس پار نو شہ گنج بخشؒ
اس شجر پر مو سمو ں کی ضر ب پڑ تی ہی نہیں
کس تسلسل سے ہیں سایہ دار نو شہ گنج بخشؒ
انبسا ط و لطف کا پہلو جہا ں کے وا سطے
نسلِ انسا نی کے ہیں غم خوار نو شہ گنج بخشؒ
کیوں نہ ہو ں عر فا ن کے مو تی در و دیوار میں
قصرِ نو شا ہی کے ہیں معمار نو شہ گنج بخشؒ
سلسہ نو شا ہیہ کا ہر جر ی ہے اولیا ء
لشکرِ حق کے جو ہیں سا لار نو شہ گنج بخشؒ
آپ کے در کے فقیر وں میں قطب اقطا ب ہیں
کون عظمت سے کر ے انکار نو شہ گنج بخشؒ
نو رو ں نہلا ئے ہو ئے چہر ے کی کر نیں اور ہم
کیا صبا حت خیز تھے رخسار نو شہ گنج بخشؒ
آپکے فیضِ نظر کی دا ستا ں اتنی ہے بس
سب مسلما ں ہو گئے کفار نو شہ گنج بخشؒ
اعتما دِ ذا ت کی کچھ غیر فا نی سا عتیں
آپ کے دم سے کر امت بار نو شہ گنج بخشؒ
بد عقید ہ زند گا نی کی سلگتی دھو پ میں
آپ ٹھہر ے سا یہء دیوار نو شہ گنج بخشؒ
ابن عر بی ؒ کے تصو ف کی کہا نی کیا کر وں
ہیں عد م کا اک عجب اظہار نو شہ گنج بخشؒ
مل گئی ان کی دعا سے کتنی دنیا کو شفا
امتِ بیما ر کے عطار نو شہ گنج بخشؒ
سن رہا ہوں آج تک عشقِ محمد ؐ کی اذا ں
مسجد نبوی کا اک مینار نو شہ گنج بخشؒ
فر ض ہے ہر شخص پر ذکر گرا می آپ کا
ایک اک نو شا ہی کا پر چار نو شہ گنج بخشؒ
تر دما غو ں میں یہ صبح فکر کی رعنا ئیاں
ٍٍٍآپ کے بس آپ کے افکار نو شہ گنج بخشؒ
معتر ف ہے ذہن انسا ں آپ کے عر فان کا
دل غلا می کا کر ے اقرار نو شہ گنج بخشؒ
خا کِ رنمل کو مسیحا ئی کی رفعت مل گئی
ہیں وہا ں جو دفن زند ہ دار نو شہ گنج بخشؒ
اک ذر اچشمِ عنا یت چا ہتا ہو ں آپ کی
آپ کا مجھ کو کر م در کار نو شہ گنج بخشؒ
کھو ل در واز ے جہا ں با نی کے میر ی ذا ت پر
میں بہت ہو ں مفلس و نا دار نو شہ گنج بخشؒ
چہر ہ ء انوا ر کی بس اک تجلی دے مجھے
خوا ب ہی میں بخش دے دیدار نو شہ گنج بخشؒ
حضرت معر و ف نو شا ہی کی فر ما ئش ہو ئی
پرُ سعا د ت یہ لکھے اشعار نو شہ گنج بخشؒ
منقبت منصو ر پڑ ھ پو رے ادب آداب سے
سن رہے ہیں شعر خو د سر کار نو شہ گنج بخشؒ
منصور آفاق