ٹیگ کے محفوظات: اوائی

یہ بات اک بے خودی میں منھ پر آئی

دیوان سوم غزل 1272
کہی میں ان لبوں کی جاں فزائی
یہ بات اک بے خودی میں منھ پر آئی
تعارف کیا رہا اہل چمن سے
ہوئی اک عمر میں اپنی رہائی
کہاں کا بے ستوں فرہاد کیسا
یہ سب تھی عشق کی زورآزمائی
جفا اٹھتی وفا جو عمر کرتی
سو کی اس رفتنی نے بے وفائی
کہیں سو کیا کہیں سر پر ہمارے
قیامت شامت اعمال لائی
گیا اس ترک کی آمد کو سن جی
تھمی ہم سے نہ اک دم بھی اوائی
موافق ٹک ہو تو تو پھر جہاں میں
مثل ہو میری تیری آشنائی
بغیر از چہرئہ مہتابی یار
ہمارے منھ پہ چھوٹے ہے ہوائی
گئی ٹکڑے ہو دل کی آرسی تو
ہوئی صدچند اس کی خودنمائی
فراق یار کو آساں نہ سمجھو
کہ جان و تن کی مشکل ہے جدائی
پھر آنا کعبے سے اپنا نہ ہو گا
اب اس کے گھر کی ہم نے راہ پائی
ہوئے ہیں درد دل سے میر کے تنگ
پھر اس جوگی نے یاں دھونی لگائی
میر تقی میر

نہ پیش آوے اگر مرحلہ جدائی کا

دیوان دوم غزل 721
طریق خوب ہے آپس میں آشنائی کا
نہ پیش آوے اگر مرحلہ جدائی کا
ہوا ہے کنج قفس ہی کی بے پری میں خوب
کہ پر کے سال تلک لطف تھا رہائی کا
یہیں ہیں دیر و حرم اب تو یہ حقیقت ہے
دماغ کس کو ہے ہر در کی جبہہ سائی کا
نہ پوچھ مہندی لگانے کی خوبیاں اپنی
جگر ہے خستہ ترے پنجۂ حنائی کا
نہیں جہان میں کس طرف گفتگو دل سے
یہ ایک قطرئہ خوں ہے طرف خدائی کا
کسو پہاڑ میں جوں کوہکن سر اب ماریں
خیال ہم کو بھی ہے بخت آزمائی کا
بجا رہا نہ دل شیخ شور محشر سے
جگر بھی چاہے ہے کچھ تھامنا اوائی کا
رکھا ہے باز ہمیں در بدر کے پھرنے سے
سروں پہ اپنے ہے احساں شکستہ پائی کا
ملا کہیں تو دکھا دیں گے عشق کا جنگل
بہت ہی خضر کو غرہ ہے رہنمائی کا
نہ انس مجھ سے ہوا اس کو میں ہزار کہا
جگر میں داغ ہے اس گل کی بیوفائی کا
جہاں سے میر ہی کے ساتھ جانا تھا لیکن
کوئی شریک نہیں ہے کسو کی آئی کا
میر تقی میر