ٹیگ کے محفوظات: انہدام

اور مجھے تجھ سے ایک کام بھی ہے

جی بھی کرتا ہے تجھ سے ملنے کو
اور مجھے تجھ سے ایک کام بھی ہے
لطفِ مے سے ہم آشنا ہیں مگر
یہ مضر ہی نہیں حرام بھی ہے
سر بلندی کی آرزو کے ساتھ
دل میں کچھ خوفِ انہدام بھی ہے
باصر کاظمی